کیا عمرہ کا حلق کروانے سے پہلے نفلی طواف کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کرنے کے بعد، حلق سے پہلے نفلی طواف کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عمرے کے افعال ادا کرنے کے بعد اور حلق کروانے سے پہلے نفلی طواف کرسکتے ہیں؟
جواب
عمرے کا حلق کروانے سے پہلے نفل طواف نہ کیا جائے کہ یہ عمل خلاف سنت ہے بلکہ پہلے عمرے کے تمام افعال ادا کرنے کے بعد حلق کروا کر احرام سے باہر آجائیں پھر اگر نفلی طواف کرنا ہو تو کرلیا جائے، البتہ ایسا کرنے کی وجہ سے کوئی دم، صدقہ یا کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہوگا۔
فتاوی حج وعمرہ میں ہے: اگر اس نے سعی کے بعد حلق یا تقصیر سے قبل نفلی طواف کیا ہوتا تو بھی اس پر کوئی کفارہ لازم نہ ہوتا، اگرچہ یہ بھی خلاف سنت ہے۔ (فتاوی حج و عمرہ، حصہ 07، صفحہ 34، جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1508
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم 1444ھ / 20 مارچ 2023ء