رہائشی گھر کے علاوہ مکان و پلاٹ ہونے پر حج فرض ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی کی ملکیت میں رہائشی گھر کے علاوہ ایک مکان اور پلاٹ ہو، تو اس پر حج فرض ہوگا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بکر کی ملکیت میں رہائشی مکان کے علاوہ ایک مکان اور ایک پلاٹ ہے، زید نے بکر کو کہا کہ تمہارے پاس رہنے کے علاوہ مزید مکان اور پلاٹ ہے، ان کی مالیت اتنی ہے کہ اب تم پر حج فرض ہو گیا ہے، لہٰذا اگر تم حج نہیں کرو گے، تو گنہگار ہو گے، زید کے اس قول کی کیا حیثیت ہے؟
جواب
اگر حاجت اصلیہ کے علاوہ پلاٹ یا مکان ملکیت میں ہے اور اس کی مالیت اتنی ہے کہ حج کے لئے آنے جانے، نیز وہاں کھانے پینے اور رہائش کے ضروری اخراجات اور اتنی مدت کے لئے اس کے اہل و عیال کے نان نفقہ کے اخراجات کو کافی ہوں، تو ایسے شخص پر حج فرض ہوتا ہے، اس صورت میں اس پر یہ بیچ کر حج پر جانا لازم ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں بھی اگر ایسا ہی ہے یعنی بکر کے یہ پلاٹ، مکان وغیرہ اس کی ضرورت سے زائد ہیں اور یہ تنہا یا دیگر حاجت سے زائد اموال سے مل کر اس کی اتنی مالیت بنتی ہے تو بکر پر حج فرض ہے، ایسی صورت میں زید کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ اگر حج نہیں کرے گا، تو سخت گنہگار ہوگا۔
بہار شریعت میں حج کی شرائط کے بیان میں ہے: سفرِ خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو ۔۔۔ سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت سے فاضل ہوں یعنی مکان و لباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دَین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑجائے اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال کے نفقہ میں قدرِ متوسط کا اعتبار ہے نہ کمی ہو نہ اِسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اُس پر واجب ہے، یہ ضروری نہیں کہ آنے کے بعد بھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد کچھ باقی بچے۔ (بہار شریعت ملتقطاً، جلد 1، صفحہ 1039 / 1040، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اسی میں ہے: رہنے کا مکان اور خدمت کا غلام اور پہننے کے کپڑے اور برتنے کے اسباب ہیں تو حج فرض نہیں یعنی لازم نہیں کہ انہیں بیچ کر حج کرے اور اگر مکان ہے مگر اس میں رہتا نہیں ۔۔۔ تو بیچ کر حج کرے۔ (بہار شریعت، حصہ 6، صفحہ 1042، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1085
تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1445ھ / 16 ستمبر 2023ء