logo logo
AI Search

عمرہ کا احرام مکہ کے ہوٹل سے باندھ کر عمرہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مکہ کے ہوٹل سے احرام باندھ کر دو عمرے ادا کئے تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

پاکستان سے احرام باندھ کر گئے اور ایک عمرہ ادا کیا، پھر دو عمرے مسجد عائشہ سےاحرام باندھ کر ادا کر لئے ہیں، پھر مزید دو عمرے مکہ مکرمہ میں ہوٹل سے احرام باندھ کر کیے، تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ دو دم لازم ہوں گے۔

اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حرم میں رہنے والے (چاہے فی الحال عمرہ وغیرہ کے لیے ہوٹل میں کچھ دن کے لیے مقیم ہوں) عمرہ کرنا چاہیں تو ان کو حرم کے باہر جا کر کسی جگہ سےاحرام باندھنا ہوگا اور سب سے افضل تنعیم یعنی مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنا ہے۔ اگر کسی نے عمرہ کا احرام حرم سے باندھا، تو اس پر دم لازم ہوگا اور مذکورہ صورت میں چونکہ دو عمرے اسی طرح مکمل ادا کر لئے، تو اب دو دم لازم ہوں گے۔

ستائیس واجباتِ حج میں ہے: حلی اور حرم میں رہنے والے یا وہ لوگ جو آفاق سے آکر حلی یا مکی کے حکم میں ہوگئے یہ لوگ عمرے کے احرام کو صحیح جگہ سے نہیں باندھیں، تو کیا احکام ہوں گے، چند مسائل ملاحظہ ہوں۔ (1) حرم میں رہنے والے عمرہ کرنا چاہیں، تو ان کو حرم کے باہر جاکر احرام باندھنا ہوگا۔ (2) اگر کسی نے عمرہ کا احرام حرم سے باندھا، تو اس پر دم لازم ہوگا، اگر بیرونِ حرم یعنی حل جا کر تلبیہ کہہ آیا، تو اب دم ساقط ہوجائے گا۔ (3) مطلوبہ جگہ سے احرام باندھنے والے والے کے لئے یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ مطلوبہ جگہ پر جا کر صرف تلبیہ کہہ کر واپس آجائے تو دم ساقط ہوجائے گا، یہ صورت ایک قید سے مقید ہے کہ طواف سے پہلے پہلے جا سکتا ہے۔ (ستائیس واجباتِ حج، صفحہ 53 ۔ 54، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1081
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1445ھ / 16 ستمبر 2023ء