عزیزیہ میں داخل ہونے کیلئے میقات سے احرام باندھنا واجب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میقات سے باہر رہنے والے کا بغیر احرام عزیزیہ جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم میقات سے باہرجاب کرتے ہیں، ہم حاجیوں کی خدمت کیلئے احرام کے بغیر ہی میقات سے گزر کر منی سے قریب مکہ مکرمہ کے ایک علاقہ عزیزیہ میں گئے اور وہاں تین دن رہے اور پھر واپس اپنی جگہ آگئے، ہم نےاس سفر میں عمرہ بھی ادا نہیں کیا، تو کیا ایسی صورت میں ہم پر دم لازم ہوا یا نہیں؟
جواب
آفاقی (یعنی میقات سے باہر کا رہنے والا شخص) جب مکہ یا حدودِ حرم میں کسی جگہ جانے کا ارادہ کرے اگرچہ وہ تجارت یا کسی دوسرے کام کے لئے وہاں جارہا ہو، تو اُس کے لئے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا اور اس کی ادائیگی کرنا واجب ہوتا ہے۔ عزیزیہ چونکہ حرمِ مکہ کی حدود میں ہے لہذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ میقات کے باہر سے آرہے تھے تو عزیزیہ میں داخل ہونے کیلئے آپ پرمیقات سے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام باندھ کر آنا واجب تھا، اب جبکہ آپ بغیر احرام میقات سے گزرگئے اور میقات کی طرف احرام کے لیے نہیں لوٹے تو اس صورت میں دم لازم ہوگیا اور آپ گنہگار بھی ہوئے، اس سے توبہ کرنا لازم ہے۔ البتہ حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی تو اب بھی واجب ہے، لہذا اگر آپ اِسی سال (یعنی ذو الحجہ کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے) میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ چلے جائیں اور عمرہ ادا کرلیں یا پھر آئندہ سال میقات سے اُس معین حج یا عمرہ کے احرام کی نیت کر کے مکہ مکرمہ جائیں جو حرم میں داخل ہونے سے واجب ہوا تھا اور حج یا عمرہ ادا کرلیں تو ان دونوں صورتوں میں دم ساقط ہوجائے گا اور حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی جو آپ پر واجب ہوچکی تھی اُس سے بھی آپ برئ الذمہ ہوجائیں گے۔
لباب المناسک میں ہے: (و حکمھا وجوب الاحرام منھا لاحد النسکین و تحریم تاخیرہ عنھا لمن اراد دخول مکۃ أو الحرم و ان کان لقصد التجارۃ أو غیرھا ... و وجوب احد النسکین) ترجمہ: میقات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص مکہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے اگرچہ اس کا وہاں جانا تجارت یا کسی اور وجہ کیلئے ہو، اُس کیلئے عمرہ یا حج میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا واجب ہے اور (جان بوجھ کر) احرام کو میقات سے مؤخر کرنا، حرام ہے۔ اور (میقات کے حکم میں سے یہ بھی ہے کہ اس پر) حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی واجب ہے۔ (لباب المناسک، فصل فی مواقیت - الصنف الاول، صفحہ 88، دار الکتب العلمیہ بیروت)
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(من جاوز وقتہ غیر محرم … فعلیہ العود) أی فیجب علیہ الرجوع (الی وقت) أی الی میقات من المواقیت (و ان لم یعد فعلیہ دم‘‘ ترجمہ: جو شخص بغیر احرام کی نیت کے میقات سے گزرجائے تو اس پر کسی بھی میقات پر واپس لوٹنا واجب ہے، اور اگر واپس نہ گیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، صفحہ 94، دار الکتب العلمیہ بیروت)
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: (و من دخل) أی من اھل الآفاق (مکۃ) أو الحرم (بغیر احرام فعلیہ احد النسکین) أی من الحج أو العمرۃ و کذا علیہ دم المجاوزۃ أو العود (فان عاد الی میقات من عامہ فأحرم … سقط به ما لزمه بالدخول من النسك و دم المجاوزة و ان لم ينوعما لزمه … و لو لم يحرم من عامه) أی لذلک النسک (لم یسقط الا ان ینوی عما لزمہ) أی خصوصا (بالدخول بغیر احرام) ترجمہ: اور آفاق سے جو شخص مکہ یا حرم میں بغیر احرام داخل ہوا تو اس پر حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی لازم ہے اور اسی طرح بغیر احرام میقات سے گزرنے کا دم لازم ہے یا میقات واپس لوٹنا لازم ہے پھر اگر وہ اسی سال میقات واپس لوٹ گیا اور احرام باندھ لیا تو مجاوزت کا دم اور مکہ یا حرم میں داخل ہونے سے جو نسک اس پر لازم ہوا تھا وہ ساقط ہوگیا اگرچہ اس نے لازم ہونے والے نسک کی نیت نہ کی ہو اور اگر اس لازم ہونے والے نسک کا احرام، اِس سال نہیں باندھا تو ساقط نہیں ہوا مگر یہ کہ جب وہ بالخصوص بغیر احرام کے داخل ہونے سے لازم ہونے والے نسک (عبادت) کی نیت کرلے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، صفحہ 98، دار الکتب العلمیہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1791
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 05 جولائی 2023ء