حالت احرام میں عورت کا چہرہ ڈھانپنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا نفلی طواف میں چہرہ کھلا رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورت نفلی طواف میں چہرہ کھلا رکھ سکتی ہے؟
جواب
عورت کا چہرے پر پردہ کرنے کا تعلق واجب یا نفلی طواف کے ساتھ نہیں بلکہ احرام کے ساتھ ہے کہ عورت اگر حالت احرام میں ہو تو چہرہ کُھلا رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کو حالتِ اِحرام میں اس طرح چُھپانا کہ کپڑا وغیرہ چہرے سے مَس کررہا ہو عورت کے لئے حرام ہے ہاں اَجنبیوں سے پردہ کرنے کے لئے چہرے کے سامنے چہرے سے جُدا کسی چیز کی آڑ کرلے مثلاگتّا وغیرہ یا ہاتھ والا پنکھا چہرے کے سامنے رکھے۔
لہذا نفلی طواف اگر احرام کی حالت میں نہیں کررہی تو چہرہ چھپا ئے گی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1866
تاریخ اجراء: 05 محرم الحرام 1445ھ / 24 جولائی 2023ء