سونا موجود ہو لیکن نقد پیسے کم ہوں تو کیا حج فرض ہو جاتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نقد رقم کم ہو لیکن ساتھ سونا کافی مقدار میں ہو تو حج کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں ایک عورت ذات ہوں ، میرے پاس نقد رقم تقریباً 40 ہزار روپے ہے، لیکن میرے پاس 11 تولے سونا بھی ہے۔ تو کیا مجھ پر حج فرض ہوگا؟ جبکہ میرے پاس اتنی نقد رقم نہیں کہ 6 یا 7 لاکھ روپے خرچ کرکے حج پر جا سکوں۔ تو کیا مجھے سونا بیچ کر حج پر جانا پڑے گا؟
جواب
حج کی فرضیت کے لیے صرف نقد رقم ہی کا ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد کوئی سا بھی مال اتنی مالیت کا ملکیت میں ہونا کافی ہے، کہ حج کے لیے آنے جانے کے اپنے ضروری اخراجات کے لیے کافی ہو، اور اسی طرح اگر کسی کا نفقہ اس کے ذمہ لازم ہو، تو آنے جانے کے عرصے کے لیے ان کے ضروری اخراجات کے لیے کافی ہو، اور عورت پر حج کی ادائیگی لازم ہونے کے لیے محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے، لہذا اگر محرم و شوہر دونوں میں سے کوئی بھی بغیر خرچ دئیے جانے پر راضی نہ ہو، تو پھر اس کے آنے جانے کے ضروری اخراجات کے لیے بھی کافی ہو، اور اگر اپنے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ ہے، ان سب کے اخراجات کے لیے کافی ہے، لیکن محرم یا شوہر کے اخراجات کے لیے کافی نہیں، تو اس صورت میں اس پر حج تو فرض ہوجائے گا، لیکن ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر پوری زندگی اس کو نہ تو محرم یا شوہر کے اخراجات کی استطاعت ملی، اور نہ شوہر یا کوئی با اعتماد محرم بلا خرچ ساتھ جانے پر راضی ہوا، تو تاخیر کی وجہ سے وہ گنہگار نہیں ہو گی، بلکہ ایسی صورت میں اس عورت پر لازم ہے کہ حج بدل کی وصیت کر جائے اور اگر وصیت نہ کرے گی، تو پھر گناہ گار ہوگی۔ پوچھی گئی صورت میں، چونکہ آپ کے پاس 40 ہزار روپے کے ساتھ ساتھ 11 تولے سونا بھی موجود ہے، اور موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے اس سونے کی مالیت حج کے تمام اخراجات سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے اگرحاجت اصلیہ اور قرض اگر ہو تو اس کو نکالنے کے بعد، حج کے فارم فل ہونے کےدنوں میں اتنی مالیت ہو کہ اوپر بیان کردہ اخراجات کے لیے کافی ہو، تو آپ صاحبِ استطاعت شمار ہوں گی اور آپ پر حج فرض ہوگا، اور شوہر یا محرم کے اخراجات پر قدرت ہو، یا وہ اپنے خرچ پر ساتھ جانے پر راضی ہوں، تو پھر حج کی ادائیگی بھی لازم ہے۔
حج فرض ہونے کے لیے استطاعت کے دائرۂ کار کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے ”و تفسير ملک الزاد و الراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، و هو ما سوى مسكنه و لبسه و خدمه، و أثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا و جائيا راكبا لا ماشيا و سوى ما يقضي به ديونه و يمسك لنفقة عياله، و مرمة مسكنه و نحوه إلى وقت انصرافه“ ترجمہ: زادِ راہ اور سواری کا مالک ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ چیزیں اس کی ضرورت سے زائد ہوں اور مکان، لباس، خادم اور خانہ داری کے سامان کے علاوہ جو مال اتنی مقدار ہو کہ اس کےذریعے پیدل چل کر نہیں، سواری پر مکہ مکرمہ جا کر واپس آ سکتا ہو، نیز اتنا مال اور ہو کہ قرض ہو، تو ادا کیا جا سکے اور واپس آنے تک اہل و عیال کا خرچ اور گھر وغیرہ کی ضروری مرمت کے لیے بھی کافی ہو (تو حج فرض ہے)۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحه 240، دار الکب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے ”و إن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد و الراحلة ذاهبا و جائيا و نفقة عياله، و أولاده و يبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج“ ترجمہ: اگر کوئی شخص زمین یا جائیداد کا مالک ہو، تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اپنی جائیداد میں سے اتنا حصہ فروخت کر دے جس کی قیمت سے حج کے لیے جانے اور واپس آنے کا خرچ، سواری کا خرچ، اور اپنے اہل و عیال و اولاد کا خرچ پورا ہو جائے، اور اس کے بعد بھی جائیداد میں اتنا حصہ باقی رہے کہ اس کی آمدنی (غلے یا منافع) سے اس کی گزر بسر ہو سکے، تو اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ ( فتاوی ہندیۃ، جلد 01، صفحہ 241، دار الکب العلمیۃ، بیروت)
عورت پر حج کی ادائیگی کے لیے محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا شرط ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیثِ پاک میں ہے ”عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا و معھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذو محرم منھا“ ترجمہ: حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا حلال نہیں ہے، مگر جبکہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔ (صحیح مسلم، صفحہ 501، رقم الحدیث 1340، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے ”و اما الذی یخص النساء فشرطان احدھما ان یکون معھا زوجھا او محرم لھا فان لم یوجد احدھما لا یجب علیھا الحج“ ترجمہ: بہرحال وہ (شرائط) کہ جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، وہ دو شرطیں ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ عورت کے ساتھ سفرِ حج میں اُس کا شوہر یا کوئی دوسرا محرم ہو، تو اگر اِن دونوں میں سے کوئی موجود نہ ہو، تو اُس عورت پر حج (کی ادائیگی) فرض نہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 299، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5107
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء