حج افراد میں طواف الزیارۃ کے بعد حج کی سعی کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج افراد کرنے والا حج کی سعی کرے گا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں جدہ سے حج کیلئے جا رہا ہوں، میں حج افراد کروں گا، کیا میرے لئے طواف الزیارۃ کے بعد سعی کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
حج کی سعی کرنا، ہر قسم کے حاجی پر لازم و ضروری ہے کیونکہ یہ حج کے واجبات میں سے ہے، البتہ حج کی سعی، طواف الزیارہ کے بعد ہی کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر کوئی شخص حج سے پہلے بھی حج کی سعی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اور مکہ یا حل (جیسے جدہ) میں رہنے والے لوگوں پر چونکہ طواف قدوم نہیں لہذا ایسے حضرات اگر حج سے پہلے سعی کرنا چاہتے ہوں تو اُنہیں چاہئے کہ حج کا احرام باندھ کر کسی نفلی طواف کے بعد حج کی سعی کریں اور اُس طواف میں رمل واضطباع بھی کریں۔
سعی کرنا، حج کے واجبات میں سے ہے، چنانچہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں ہے: ’’السعی من واجبات الحج‘‘ ترجمہ: سعی، حج کے واجبات میں سے ہے۔ (المسلک المتقسط، باب السعی بین الصفا و المروۃ، فصل فی شرائط صحۃ السعی، صفحہ 248، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
مکہ یا حل میں رہنے والے اگر حج سے پہلے، سعی کرنا چاہیں تو حج کا احرام باندھ کر کسی نفلی طواف کے بعد کرسکتے ہیں، جیسا کہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: ’’(إن أراد) أی المکی و من بمعناہ (تقدیم السعی علی طواف الزیارۃ یتنفّل بطواف) لأنّہ لیس للمکی و من فی حکمہ طواف القدوم الذی ھو سنۃ للافاقی فیاتی المکی بطواف نفل (بعد الإحرام بالحج یضطبع فیہ و یرمل ثمّ یسعی بعدہ)‘‘ ترجمہ: مکی یا جو اس کے معنی میں ہے اگر طواف الزیارہ سے پہلے سعی کرنا چاہتے ہوں تو وہ نفلی طواف کریں کیونکہ طواف قدوم جو آفاقی کیلئے سنت ہے وہ مکی اور جو اس کے حکم میں ہے ان کیلئے سنت نہیں، لہذا مکی حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کرے جس میں وہ اضطباع و رمل کرے پھر اس طواف کے بعد سعی کرے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب الخطبۃ، صفحہ 265، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1778
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 27 جون 2023ء