logo logo
AI Search

کیا حالت احرام میں احتلام ہونے پر دم لازم ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام کی حالت میں احتلام ہو گیا یا بیوی کا بوسہ لے لیا، تو دم لازم ہوگا یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

احرام کی حالت میں احتلام ہو گیا تو کیا دم لازم ہوجائے گا؟ یونہی اگر کسی احرام کی حالت میں مرد نے بیوی کا بوسہ لے لیا تو اس صورت میں بھی دم لازم ہوگا؟

جواب

حالتِ احرام میں احتلام یعنی سوتے میں منی خارج ہونے سے دم لازم نہیں ہوتا، لہٰذا احرام کی حالت میں ایسا ہوجائے توغسل کرلینا کافی ہے اور احرام کی چادر کا جو حصہ ناپاک ہوا اسے پاک کرلیا جائے یا دوسری چادر پہن لی جائے۔ البتہ اگر احرام کی حالت میں معاذ اللہ کسی نے مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو دم لازم ہوجائے گا۔ یونہی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے یا بوسہ لینے سے بھی دم لازم ہو جاتا ہے، اگرچہ انزال نہ بھی ہوا ہو۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(قبل او لمس بشھوۃ انزل او لا) فی الاصح“ یعنی: مُحرِم نے شہوت کے ساتھ بوس و کنار کیا تو صحیح قول کے مطابق دم لازم ہوگا انزال ہو یا نہ ہو۔ (در مختار، جلد 3، صفحہ 667، مطبوعہ: بیروت)

خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ عبارت کے تحت فرماتے ہیں: ”حاصلہ: ان دواعی الجماع کالمعانقۃ و المباشرۃ الفاحشۃ و الجماع فیما دون الفرج و التقبیل و اللمس بشھوۃ موجبۃ للدم، انزل او لا ۔۔۔ الاحتلام لا یوجب شیئا“ یعنی: حاصل کلام یہ ہے کہ دواعی جماع جیسا کہ معانقہ، مباشرتِ فاحشہ، شرمگاہ کے علاوہ میں جماع، بوس و کنار جب یہ سب شہوت کے ساتھ ہوں تو دَم لازم کرتے ہیں، انزال ہو یا نہ ہو۔ احتلام محرم پر کچھ لازم نہیں کرتا۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 227، مطبوعہ: بیروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”الاحتلام لا یوجب شیئا سوی الغسل و ان استمنی بکفہ فانزل فعلیہ دم“ یعنی: احتلام محرم پر کچھ لازم نہیں کرتا سوائے غسل کے۔ البتہ اگر مشت زنی کی اور اس سے انزال ہوگیا تو دَم لازم ہوجائے گا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 270، مطبوعہ: بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مباشرتِ فاحشہ اور شہوت کے ساتھ بوس و کنار اور بدن مس کرنے میں دَم ہے، اگرچہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں ۔۔۔ جلق سے انزال ہوجائے تو دَم ہے ورنہ مکروہ اور احتلام سے کچھ نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1172 ۔ 1173، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1068
تاریخ اجراء: 15 ربیع الثانی 1445ھ / 31 اکتوبر 2023ء