logo logo
AI Search

منی میں قیام کئے بغیر عرفات جانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منی کے قیام کے بغیر ڈائریکٹ عرفات جانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم جب ریاض سے حج کے لیے جاتے ہیں تو ہم 8 تاریخ کی رات کو حرم پہنچتے ہیں۔ ہمیں عمرہ کرتے اور سعی کرتے صبح ہو جاتی ہے۔ اب کیا ہم احرام کھول کر حلق کروا کر دوبارہ حج کا احرام باندھ کر منی کے لیے چلے جائیں۔ کیا یوں ہم حج تمتع کر سکتے ہیں؟ کیا یونہی ہم 9 کو عمرہ کر کے سیدھا عرفات جا سکتے ہیں؟

جواب

جب آٹھ تاریخ کی رات حرم پہنچا جائے تو عمرہ وسعی کرنے کے بعد صبح ہوتی ہے اور وہ صبح آٹھ تاریخ کا دن ہے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ حج کا احرام باندھ کر منی چلے جائیں، کیونکہ آٹھ تاریخ کے دن میں منی کے لیے جانا سُنَّت ہے۔ وہاں آٹھویں کا دن اور نویں کی رات گزارنے کے بعد آپ عرفات جائیں گے۔ اِس بیان کردہ طریقہ کے مطابق حج تمتع درست ہوگا۔

آپ نے سوال میں جو دوسری صورت بیان کی کہ نو تاریخ کوعمرہ کر کے سیدھا عرفات ہی جائیں تو اِس صورت میں اگرچہ حج درست ہو جائے گا مگر سنتِ مؤکدہ کا ترک لازم آئے گا، کیونکہ نو ذو الحجہ کی رات منی میں گزارنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ مسئولہ صورت میں آپ یہ رات منی میں نہیں گزار رہے، بلکہ مکہ میں بحالتِ عمرہ گزار رہے ہیں، جو کہ ترکِ سنت اور برا کام ہے، البتہ نو کی رات منی میں نہ گزارنے کے سبب کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔

مناسک ملا علی قاری میں ہے "البیتوتۃ بمنی لیلۃ عرفۃ ای لا بمکۃ ۔۔۔ ھذہ ۔۔۔ السنن المؤکدۃ ۔۔۔ و حکم السنن الاساءۃ بترکھا و عدم لزوم شئی من دم و صدقۃ۔" ترجمہ: شب عرفہ، منی میں گزارنا سنت ہے نہ کہ مکہ میں۔ یہ موکدہ سنتیں ہیں، اورموکدہ سنتوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا ترک اساءت ہے لیکن ان کے ترک سے کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں آتا۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 82، ط: مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1772
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 23 جون 2023ء