اگر کمپنی حج کروا دے تو کیا ملازم کا فرض حج ادا ہو جائیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ملازم کو کمپنی حج کروا دے تو ملازم کا فرض حج ادا ہوگا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی کمپنی اپنے ملازم کو حج کروا دے، تو کیا اس ملازم کا فرض حج ادا ہوجائے گا جبکہ اس پر حج فرض ہی نہ ہوا ہو؟ اور اگر حج فرض ہوچکا ہو، تو کیا حکم ہوگا؟
جواب
ملازم پر حج فرض ہوا ہو یا نہ ہو، بہر صورت کمپنی کی طرف سے ملنے والی سہولت پر جب اس نے حج ادا کرلیا، تو اس کا فرض حج ادا ہوجائے گا بشرطیکہ وہ حج اس نے فرض حج یا مطلق حج کی نیت سے ادا کیا ہو۔ ہاں! اگر اس نے یہ حج خاص نفلی حج کی نیت سے ادا کیا، تو اس صورت میں اس کا حجِ فرض ادا نہ ہوگا، بلکہ حج فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانے کی صورت میں اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا۔
بحر الرائق و منحۃ الخالق میں ہے: ”(الفقير اذا حج) ای فانه يسقط عنه الفرض حتى لو استغنى لا يجب عليه ان يحج“ یعنی فقیر نے جب حج کرلیا، تو اس کا فرض حج ادا ہوجائے گا، یہاں تک کہ اگر وہ غنی ہوگیا، تو اس پر حج کرنا واجب نہیں ہوگا۔ (منحۃ الخالق علی البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 546، مطبوعہ: کوئٹہ)
بدائع الصنائع میں ہے: ”اذا حج بالسؤال من الناس يجوز ذلك عن حجة الاسلام حتى لو ايسر لا يلزمه حجة اخرى“ یعنی فقیر نے لوگوں سے مانگ کر حج کرلیا، تو یہ حجۃ الاسلام (یعنی فرض حج) کو کافی ہوگا یہاں تک کہ اگر وہ مالدار ہو گیا، تو اس پر دوسرا حج لازم نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 45، بیروت)
فتاوی ھندیہ و مناسک ملا علی قاری میں ہے: ”(لو احرم بالحج) ای مطلقا (و لم ینو فرضا و لا تطوعا فھو فرض) لان المطلق ینصرف الی الکامل ۔۔۔۔ (و لو نوی) ای الحج (عن الغیر او النذر او النفل) ای التطوع (کان) ای حجہ (عما نوی) ای مما عین لہ (و ان لم یحج للفرض) ای لحجۃ الاسلام“ یعنی اگر کسی نے مطلقاً حج کی نیت سے احرام باندھا اور فرض یا نفل کی نیت نہ کی، تو حجِ فرض ادا ہوگا، کیونکہ مطلق فردِ کامل کی طرف منصرف ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور اگرکسی دوسرے کی طرف سے حج کی نیت کی یا نذر یا نفل کی نیت کی، تو اس کا حج اسی کی طرف سے ہوگا، جس کے لئے اس نے معین کیا اگرچہ اس نے ابھی تک فرض حج ادا نہ کیا ہو۔ (مناسکِ ملا علی قاری، صفحہ 107 ۔ 108، مطبوعہ: کراچی)
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: محکمہ حج کے تمام اخراجات خود ادا کرے، تو ایسی صورت میں ملازم کا حج کرنا اور محکمہ کی طرف سے حج کروانا جائز ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 442، بزمِ وقار الدین، کراچی)
نفل کی نیت سے حج کرنے کی صورت میں جب فرض حج ادا نہ ہو، تو شرائط پائے جانے کی صورت میں دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا۔ اس کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”لو نواہ نفلا لزمہ الحج ثانیا“ یعنی اگر اس نے نفلی حج کی نیت کی، تو اس پر دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 526، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اگر فقیر ہو جب بھی اسے حجِ فرض کی نیت کرنی چاہئے، نفل کی نیت کرے گا، تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا اور مطلق حج کی نیت کی یعنی فرض یا نفل کچھ معین نہ کیا، تو فرض ادا ہوگیا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1041، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Nor-12685
تاریخ اجراء: 28 جمادی الثانی 1444ھ / 21 جنوری 2023ء