logo logo
AI Search

انڈیا سے مکہ احرام کے بغیر حاضر ہونا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرہ کی نیت نہ ہو، تو انڈیا سے بغیر احرام مکۂ معظمہ حاضر ہونا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی شخص انڈیا سے مکہ مکرمہ احرام کے بغیر حاضر ہو اور عمرے کی نیت بھی نہیں کی، تو کیا اس صورت میں اسے دم دینا پڑے گا جبکہ ابھی وہ مکہ میں ہی ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر اس شخص کا میقات کے اندر کہیں اور (مثلاً: جدہ) جانے کا ارادہ نہ تھا بلکہ ڈائریکٹ مکہ مکرمہ جانے کے ارادے سے ہی سفر کرتا ہوا جان بوجھ کر بغیر احرام کے میقات سے گزرگیا ہے، تو گنہگار ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر دم بھی لازم ہوگیا ہے، البتہ جان بوجھ کر نہیں کیا ہے تو گنہگار نہ ہوا لیکن دم پھر بھی لازم ہوگا۔ اس پر لازم ہے کہ کسی بھی آفاقی میقات (مثلا طائف کے میقات) پر جاکر حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر آئے اور وہ عبادت بجالائے، تو دم ساقط ہوجائے گا۔

بہارِ شریعت میں ہے: مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں پھر وہاں سے اگر مکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیر احرام جاسکتا ہے ۔۔۔ اور اگر پہلے ہی سے مکہ معظمہ کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جاسکتا۔ (ملقتطاً بہارِ شریعت، حصہ 6، صفحہ 1068، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے: میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دَم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دَم ساقط۔ (بہارِ شریعت، حصہ 6، صفحہ 1191، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1060
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1445ھ / 19 اگست 2023ء