مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب و فضیلت؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجدِ نبوی علٰی صاحبھا الصلٰوة و السّلام میں نماز پڑھنے کی فضیلت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجدِ نبوی علٰی صاحبھا الصلٰوة و السّلام میں نماز پڑھنے کی فضیلت اسی حصّہ کے ساتھ خاص ہے جو نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانہ میں موجود تھا یا اس حصّہ کو بھی شامل ہے جو نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ و سلَّم کی وفاتِ ظاہری کے بعد شامل کیا گیا؟
سائل: مجاہد رضوی (فیصل آباد)
جواب
مسجدِ نبوی علٰی صاحبھا الصلٰوة و السّلام میں نماز پڑھنے کی فضیلت اسی حصّہ کے ساتھ خاص نہیں جو نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ و سلَّم کے زمانہ میں موجود تھا بلکہ اس حصّے کو بھی شامل ہے جو نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ و سلَّم کی وفاتِ ظاہری کے بعد مسجد میں شامل کیا گیا ہے جیساکہ علامہ جلال الدّین السُّیوطی الشافعی (متوفی 911ھ) شرح سننِ ابنِ ماجہ میں فرماتے ہیں: "وَ الْمُخْتَارُ عِنْدَ الْجُمْہُورِ اَنَّ الْحُکْمَ بِالْمُضَاعَفَةِ یَشْمَل لِمَا زِیْدَ عَلَیْہِ" ترجمہ: جمہور کے نزدیک مختار یہ ہے کہ (مسجدِ نبوی علٰی صاحبھا الصلٰوة و السّلام میں) زیادتیِ ثواب کا تعلق اس حصّے کے ساتھ بھی ہے جسکو مزید شامل کیا گیا ہے۔ (شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی، ص 101، باب المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2017ء