عمرہ کی سعی سے پہلے نفلی طواف کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کی سعی سے پہلے طواف کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عمرہ کا طواف کرنے کے بعد سعی سے پہلے نفلی طواف کرسکتے ہیں؟
جواب
عمرے کے طواف کے بعد سنت یہ ہے کہ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو فوراً طواف کی دو رکعتیں اور اس کے فوراً بعد سعی کی جائے، بلاعذر سعی میں تاخیر مکروہ ہے۔ ہاں اگر تاخیر کسی عذر کی وجہ سے ہو مثلاً تھک چکا ہے آرام کرکے سعی کرنا چاہتا ہے تو حرج نہیں۔ نیز اگر کوئی بغیر عذر کے بھی تاخیر کرتا ہے تو اس پر دم وغیرہ کچھ لازم نہیں ہوگا۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں عمرہ کا طواف کرنے کے بعد سعی سے پہلے دوبارہ نفلی طواف کرنا خلاف سنت ہے مگر اس پر دم وغیرہ کچھ لازم نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-594
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب 1443ھ / 01 مارچ 2022ء