حج بدل کی شرائط اور حکم کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس نے حج نہ کیا، اسے حجِ بدل کے لیے بھیجنا، نیز حج بدل والا نیت کیا کرے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل سوالات کے بارے میں:
(1) جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا اور اس پر حج فرض بھی نہیں، تو کیا اسے حجِ بدل کے لیے بھیج سکتے ہیں؟
(2) حجِ بدل کرنے والا کس کی طرف سے حج کی نیت کرے گا، اپنی طرف سے یا حج کروانے والے کی طرف سے؟
جواب
(1) شرائط کی موجودگی میں کسی دوسرے سے حج بدل کروا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسے شخص کو بھیجا جائے، جو متقی و پرہیزگار، حج کے مسائل کو جانتا ہو اور اپنی طرف سے حج ادا کر چکا ہو، تاکہ ارکانِ حج کامل طریقے سے ادا کرسکے اور اگر اس نے پہلے حج نہیں کیا اور اس پر حج فرض بھی نہیں، تو اسے بھیجنا بھی جائز ہے اور حج بھی ادا ہو جائے گا، البتہ جس شخص پر حج فرض ہو چکا ہو اور اس نے ابھی تک ادا نہ کیا ہو، تو جان بوجھ کر اسے حجِ بدل کے لیے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔
شرائط کی موجودگی میں دوسرے سے حج کرواسکتے ہیں۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’العبادات ثلاثة انواع: مالية محضة كالزكاة و صدقة الفطر، و بدنية محضة كالصلاة و الصوم، و مركبة منهما كالحج. و الانابة تجری فی النوع الاول فی حالتی الاختيار و الاضطرار، و لا تجری فی النوع الثانی، و تجری فی النوع الثالث عند العجز‘‘ عبادات کی تین قسمیں ہیں: فقط مالی: جیسے زکاۃ اور صدقہ فطر۔ فقط بدنی: جیسے نماز اور روزہ۔ مالی اور بدنی کا مجموعہ: جیسے حج۔ پہلی قسم میں اختیاری اور اضطراری دونوں حالتوں میں (اپنی طرف سے دوسرے کو) نائب بنانا صحیح ہے، اور دوسری قسم میں مطلقاً درست نہیں اور تیسری میں خود قادر نہ ہونے کے وقت نائب بناسکتے ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 283، مطبوعہ کراچی)
حجِ بدل کے لیے کس شخص کو بھیجنا بہتر ہے، اس بارے میں الاختیار لتعلیل المختارمیں ہے: ’’و الاولى ان يختار رجلا حرا عاقلا بالغا قد حج، عالما بطريق الحج و افعاله، ليقع حجه على اكمل الوجوه‘‘ ترجمہ: بہتر یہ ہے کہ حج کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرے جو آزاد، عاقل بالغ اور اس نے پہلے حج کر لیا ہو، اور حج کے راستے اور اس کے افعال کو جانتا ہو، تاکہ کامل طریقے سے اس کا حج ادا ہو جائے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 1، ص 171، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اور اس مسئلے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسا شخص بھیجا جائے، جو خود حجۃ الاسلام ادا کرچکا ہو اور اگر ایسے کو بھیجا، جس نے خود نہیں کیا ہے، جب بھی حجِ بدل ہو جائے گا، اور اگر خود اس پر حج فرض ہو اور ادا نہ کیا ہو، تو اسے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔ (بھار شریعت، ج 1، ص 1204، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اور مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: حج بدل میں ایسے شخص کو بھیجنا چاہئے، جو متقی، پرہیزگار اور حج کے مسائل جاننے والا ہو، اگر پہلے حج کرچکا ہے تو زیادہ اچھا ہے، اور اگر پہلے حج نہیں کیا جب بھی بھیجنا جائز ہے۔ (وقار الفتاوی،ج 2، ص 467، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)
(2) حجِ بدل کرنے والے کے لیے محجوج عنہ (یعنی جس کی طرف سے حج کر رہا ہے، اس) کی طرف سے حج کی نیت کرنا ضروری ہے، اپنی طرف سے حج کی نیت نہیں کر سکتا، اگر اپنی طرف سے کرے گا، تو حج کروانے والے کا حج ادا نہیں ہوگا۔ مناسک ملا علی قاری میں حجِ بدل کی شرائط کے بیان میں ہے: ’’(التاسع النیة) ای نیة المحجوج عنہ عند الاحرام او بعدہ عند الامام قبل ان یشرع فی افعال الحج (و ھی ان یقول) ای بلسانہ و ھو افضل (احرمت عن فلان) ای نویت الحج عن فلان ۔۔۔ (و ان شاء اکتفی) ای عنہ (بنیۃ القلب) ای لہ“ ترجمہ: نویں شرط نیت ہے، یعنی احرام کے وقت محجوج عنہ (جس کی طرف سے حج کر رہا ہے، اس) کی طرف سے نیت ہو۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک احرام کے بعد اور حج کے افعال شروع کرنے سے پہلے بھی نیت ہو سکتی ہے اور نیت یہ ہے کہ بندہ زبان سے یوں کہے (زبان سے نیت کرنا افضل ہے) کہ میں نے فلاں کی طرف سے احرام باندھا، یعنی میں نے فلاں کی طرف سے حج کی نیت کی اور اگر چاہے، تو اس کی طرف سے دل کی نیت پر اکتفا کرلے۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 442، مطبوعہ ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ، کراچی)
اور بدائع الصنائع میں حجِ بدل کی شرائط کے بیان میں ہے: ”منھا: نیة المحجوج عنہ عند الاحرام، لان النائب یحج عنہ، لا عن نفسہ، فلا بد من نیتہ‘‘ ترجمہ: حجِ بدل کی شرائط میں سے یہ ہے کہ احرام کے وقت محجوج عنہ (جس کی طرف سے حج کر رہا ہے، اس) کی طرف سے نیت ہو، کیونکہ نائب (حج کرنے والا) حج کروانے والے کی طرف سے حج کر رہا ہے، نہ کہ اپنی طرف سے، لہذا اسی کی طرف سے نیت کرنا ضروری ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 2، ص 456، مطبوعہ کوئٹہ)
اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ حج بدل کی شرائط کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: حجِ بدل کرنے والا تنہا ایک محجوج عنہ کی طرف سے حجِ واحد کی نیت کرے، مثلا: ’’احرمت عن فلان یا اللّٰھم لبیک عن فلان‘‘ اگر اس کی طرف سے نیت نہ کی یا دو حج کی نیت کی، ایک اس کی طرف سے، ایک اپنی طرف سے یا دو شخصوں کی طرف سے نیت کی، ایک اس کی جانب، ایک منیب آخر کی جانب سے، تو کافی نہ ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 660، مطبوعہ رضا فاﺅنڈیشن، لاھور)
نوٹ: حجِ بدل کی شرائط اور ان کے مختلف احکام جاننے کے لیے بہارِ شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1201 سے حجِ بدل کی شرائط کا مطالعہ فرمائیں۔ رفیق الحرمین ص 208 تا 212 پر بھی ان کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-6975
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1443ھ / 31 مئی 2022ء