logo logo
AI Search

لائف انشورنس سے ملنے والی رقم سے حج کر سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انشورنس سے ملنے والی رقم سے حج کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لائف انشورنس سے ملنے والی زائد رقم سے حج کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر حج کرلیا، تو کیا فرض ساقط ہو جائے گا یا دوبارہ کرنا فرض ہوگا؟

جواب

لائف انشورنس میں ملنے والی زائد رقم سود ہے، اس لیے کہ انشورنس کمپنی بیمہ ہولڈر سے جن شرائط و اصول کے تحت رقم لیتی ہے، اس کی بناء پراس رقم کی حیثیت فقط قرض کی ہوتی ہے، اس لیے پالیسی لینے والا شخص (قرض خواہ) اور انشورنس کمپنی (قرض دار) کی حیثیت رکھتے ہیں اور چونکہ شرعی اعتبارسے قرض پر معاہدے کے تحت کچھ زائد لینا، اگرچہ مقدار فکس نہ ہو، سود ہوتا ہے، جبکہ کمپنی اپنے پالیسی ہولڈر کو اس کی جمع شدہ رقم پر زائد رقم ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے اور یہ سود ہے اور جو حج سودی رقم سے ادا کیا جائے وہ قبول نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ عزوجل پاک ہے اور وہ صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے، البتہ اس سے فرض ساقط ہوجاتا ہے، دوبارہ پاک مال سے حج کرنا فرض نہیں ہوتا۔

چنانچہ سودکی تعریف کے بارے میں فقہ کی مشہورکتاب ہدایہ میں ہے: ”الربا ھو الفضل المستحق لأحد المتعاقدین فی المعاوضة الخالی عن عوض شرط فیہ“ ترجمہ: سود عاقدین میں سے کسی ایک کے لیے معاوضہ میں ثابت ہونے والی وہ مشروط زیادتی ہے جو عوض سے خالی ہو۔ (ھدایہ اخرین، ج 2، ص 82، مطبوعہ لاھور)

سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ تعالیٰ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود کو۔ (پارہ 3، سورہ بقرہ، آیت 275)

قرض پر مشروط نفع کے سود ہونے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کل قرض جر منفعة فھو ربا، رواہ الحارث بن ابی اسامة عن امیر المومنین علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم“ ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع لے آئے وہ (نفع) سود ہے۔ اسے حارث بن ابی اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا۔ (کنز العمال، کتاب الدین و السلم، رقم الحدیث 15512، ج 6، ص 99، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

در مختار اور رد المحتار میں ہے: ”کل قرض جر نفعا حرام۔ و فی الرد:ای کان مشروطا“ ترجمہ: ہر قرض جو نفع لے آئے وہ حرام ہے، اور رد المحتار میں ہے: یعنی جب وہ نفع مشروط ہو۔ (در مختار و رد المحتار، کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، ج 7، ص 395، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: ”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: أيها الناس! إن اللہ طيب لا يقبل إلا طيبا“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے اور صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ (الصحیح لمسلم،کتاب الزکوۃ، ج 02، ص 703، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اور سودی رقم سے کیے جانے والے حج کے مردود ہونے کے بارے میں حدیث شریف میں ہے: جومالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب لبیک کہتا ہے، تو فرشتہ جواب دیتا ہے: ”لا لبیک و لا سعدیک و حجک مردود علیک حتی ترد ما فی یدیک“ ترجمہ: نہ تیری حاضری قبول، نہ تیری خدمت قبول اور تیرا حج تیرے منہ پر مردود، جب تک تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھوں میں ہے، واپس نہ دے۔ (ارشاد الساری لعلی قاری، باب المترقات، ص 323، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت)

ذمہ سے فرض ساقط ہونے کے بارے میں فتح القدیر میں ہے: ’’لایقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھا‘‘ ترجمہ: مال حرام سے کیا گیا حج قبول نہیں کیا جائے گا، باوجود یہ کہ ذمہ سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ (فتح القدیر، کتاب الحج، ج 05، ص 01، مطبوعہ بیروت، لبنان)

بحرالرائق اور رد المحتار میں ہے: و اللفظ للآخر: ’’لا یقبل بالنفقۃ الحرام کما ورد فی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا و لا تنافی بین سقوطہ و عدم قبولہ، فلایثاب لعدم القبول، و لا یعاقب عقاب تارک الحج‘‘ ترجمہ: مال حرام سے کیا گیا حج قبول نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے، لیکن مال حرام سے کیے گئے حج کے ساتھ بندے سے فرض ساقط ہوجائے گا اور فرض کے ساقط ہونے اور حج کے قبول نہ ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے، حج کے مردود ہونے کی وجہ سے ثواب نہیں ملے گا اور فرض حج ترک کرنے کا گناہ نہیں ملے گا۔ (رد المحتار، کتاب الحج، ج 02، ص 456، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: سود کے روپیہ سے جو کارِ نیک کیا جائے اس میں استحقاق ثواب نہیں ..... اس روپے کو اس صَرف میں اٹھانا، جائز نہیں، ہاں فرضِ حج ذمہ سے ادا ہوجائے گا ’’فان القبول شئی آخر غیر سقوط الفرض و کان کمن صلی فی ارض مغصوبۃ‘‘ ترجمہ: کیونکہ کسی شے کا قبول ہونا اور فرض ساقط ہوجانا دونوں ایک نہیں، بلکہ الگ الگ چیزیں ہیں یعنی قبولیت شے اور چیز ہے اور سقوطِ فرض اور چیز، جیساکہ کوئی شخص ناجائز مقبوضہ زمین پر نماز پڑھے، تو اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا، مگر نماز مقبول نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 542، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Sar-7802
تاریخ اجراء: 11 رمضان المبارک 1443ھ / 13 اپریل 2022ء