احرام میں مونچھیں مونڈنے کا کیا کفارہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حالتِ احرام میں مونچھیں مونڈ نے کا کفارہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص صرف عمرے کی نیت سے احرام باندھے، پھر عمرے کے مناسک ادا کرنے کے بعد، حالت احرام سے باہر نکلنے کے لیے، حلق کرنے کے ارادے سے واش روم جائے، لیکن بھولے سے حلق کرنے سے پہلے مونچھیں صاف کر دے، اور اس کے بعد حلق کرے، تو کیا اس صورت میں اس پر کوئی کفارہ یا دم لازم آئےگا یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی شخص فقط عمرے کی نیت سے احرام باندھے، پھر عمرے کے مناسک ادا کرنے کے بعد، حلق یا تقصیر سے پہلے، حالت احرام میں ہی، اپنی مونچھیں مونڈ ڈالے، تو اس پر فقط ایک صدقہ لازم ہے، کہ احرام کی جنایات میں مونچھ کی انفرادی حیثیت نہیں ہے، بلکہ یہ داڑھی کے ساتھ تابع ہے، اور حالت احرام میں داڑھی چوتھا ئی یا اس سے زیادہ مونڈ لی جائے، تو دم لازم، اور اگر اس سے کم مونڈ لی جائے، تو صدقہ لازم ہوتا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ مونچھیں داڑھی کا چوتھائی حصہ نہیں بلکہ کم ہیں، اس لیے محرم پر حلق یا تقصیر سے پہلے مونچھیں مونڈنے کی صورت میں فقط صدقہ لازم آئے گا۔
نوٹ: صدقہ سے مراد صدقہ فطر ہے اور اس کی مقدار آدھا صاع یعنی دو کلومیں 80 گرام کم گندم، یا ا س کا آٹا یا چار کلو میں 160 گرام کم کھجور یا جو ہے، صدقہ میں ان چیزوں کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے، نیز یہ صدقہ اپنے شہر کے شرعی فقیر کو بھی دیا جاسکتا ہے لیکن حرم شریف میں موجود شرعی فقیر کو دینا افضل ہے۔
ردالمحتار میں ہے "اللحية مع الشارب عضو واحد" ترجمہ: داڑھی مونچھ سمیت ایک ہی عضو ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 3، صفحہ 659، مطبوعہ: کوئٹہ)
اور حالتِ احرام میں داڑھی کٹوانے کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر چوتھائی یا اِس سے زیادہ کٹوائی تو دَم ورنہ صدقہ لازم ہوتا ہے، چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے "إذا حلق ربع لحيته فصاعدا فعليه دم و إن كان أقل من الربع فصدقة كذا في السراج الوهاج" ترجمہ: اگر محرم نے اپنی داڑھی کے چوتھائی یا اِس سے زائد حصہ کو مونڈا، تو اس پر دَم لازم ہے اور اگر چوتھائی سے کم مونڈا، تو صدقہ ہے، اسی طرح السراج الوهاج میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 420، مطوعہ: کوئٹہ)
ردالمحتار میں ہے "لأنه تبع للحية و لا يبلغ ربعها، و القول بوجوب الصدقة فيه هو المذهب المصحح" ترجمہ: کیونکہ مونچھ داڑھی کے تابع ہے اور داڑھی کی چوتھائی کو بھی نہیں پہنچتی، لہذا مونچھ مونڈنے کی صورت میں صدقہ واجب ہونے کا قول ہی تصحیح یافتہ مذہب ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد3، صفحہ 669، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے مُونچھیں اگرچہ پوری ہوں صرف صدقہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 759، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
صدقہ سے مراد صدقۂ فطر ہے اور صدقہ اپنے شہر کے شرعی فقیر کو بھی دے سکتے ہیں، لیکن حرم شریف میں موجود شرعی فقیر کو دینا افضل ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے (تصدق بنصف صاع من بر) كالفطرة ۔ ۔ ۔ أين شاء، ملخصا“ ترجمہ: محرم صدقۂ فطر کی طرح آدھا صاع گندم صدقہ کرے، جہاں چاہے۔ رد المحتار میں ہے (قوله أين شاء) أي في غير الحرم أو فيه و لو على غير أهله لإطلاق النص، بخلاف الذبح و التصدق على فقراء مكة أفضل“ ترجمہ: شارح رحمۃ اللہ علیہ کا قول (جہاں چاہے) یعنی حرم کے علاوہ یا حرم میں، اگرچہ حرم کے فقیر کے علاوہ کسی دوسرے فقیر پر، کیونکہ اس بارے میں نص مطلق ہے برخلاف جانور ذبح کرنے کے (وہ حرم میں ضروری ہے) اور صدقہ مکۃ المکرمہ کے فقیروں پر کرنا افضل ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 671, 672، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدقہ فطر کی مقدار کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے ”ھی نصف صاعٍ من بر او صاعٍ من شعیر او تمر و دقیق الحنطۃ و الشعیر“ ترجمہ: یہ گندم سے آدھا صاع یا جو، کھجور سے ایک صاع ہے اور گندم اور جو کا آٹا۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 191، مطبوعہ:کوئٹہ)
صدقہ کی مقدار بیان کرتے ہوئے امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں: صدقہ فطر کی مقدار، آج کل کے حساب سے صدقہ فطر کی مقدار 2 کلو میں سے 80 گرام کم گندم یا اُس کا آٹا یا اُس کی رقم یا اُس کے دُگنے جَو یا کھجور یا اُس کی رقم ہے۔ (رفیق المعتمرین، صفحہ 136،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدقے میں ان چیزوں کی قیمت دینا بھی جائز ہے۔ چنانچہ لباب المناسک میں ہے ”و یجوز اداء القیمۃ“ ترجمہ: اور (صدقے میں ان چیزوں کی) قیمت ادا کرنا بھی جائز ہے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک، ص 562، مطبوعہ: پشاور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5127
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ / 22 جون 2026ء