کسی وجہ سے حالت احرام میں بدن کی کھال اکھیڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں بدن کی کھال اکھیڑنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عمرہ کے دوران احرام کی حالت میں اگر کسی مقام کی کھال ابھر گئی اور اسے اکھیڑ دیا تو اس کے متعلق کیا حکم ہوگا؟
جواب
حالت احرام میں اگر کسی مقام کی کھال اکھڑ گئی یا اکھیڑ دی تو اس صورت میں کچھ لازم نہیں ہوگا فقہائے کرام نے احرام کی حالت میں ختنہ کروانے کو جائز قرار دیا ہے اور ختنہ میں بھی کھال کو جدا کیا جاتا ہے۔ بہارشریعت میں ہے کہ احرام میں یہ باتیں جائز ہیں: ۔۔۔۔ ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کر دینا۔ دنبل یا پُھنسی توڑ دینا۔ ختنہ کرنا ۔۔۔۔ الخ ( بہار شریعت، حصہ 6، صفحہ 1081، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1455
تاریخ اجراء: 13 شعبان المعظم 1444ھ / 06 مارچ 2023ء