logo logo
AI Search

کیا شادی کی وجہ سے حج میں تاخیر کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شادی کی وجہ سے حج میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں اسپین سے بات کر رہا ہوں یہاں کی کرنسی کے مطابق سات سے آٹھ ہزار یورو کا حج ہوتا ہے، میں نے اتنی رقم والدین کو دی تو انھوں نے کہا کہ تم ابھی حج نہ کرو جب تمھاری شادی ہوئی تو بیوی کو بھی ساتھ لے جانا، اب میری شادی ہوچکی ہے مگر ایسی نوبت آ گئی ہے کہ شاید طلاق ہو جائے، پوچھنا یہ ہے کہ حج والی رقم والدین اپنے پاس رکھیں یا پھر دوبارہ جب میری شادی ہو تو میں حج کے لیے جاؤں یا ابھی مجھے حج کرنا ہوگا؟

جواب

پوچھی گئی صورت سے ظاہرہو رہا ہے کہ آپ پر حج کی ادائیگی فرض ہو چکی ہے اور ادائیگی مؤخر کرنے میں کوئی شرعی عذر بھی نہیں، ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہوتا ہے کہ جس سال حج فرض ہوا اسی سال اس کی ادائیگی فرض ہے، بلا عذر شرعی اس میں تاخیر کرنا ناجائز و گناہ ہے لہذا آپ پر لازم ہے کہ اسی سال حج کریں، شادی کی وجہ سے حج میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔ پہلے بلا عذر شرعی تاخیر کر چکے ہیں تو اس سے توبہ بھی کریں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1369
تاریخ اجراء: 12 رجب المرجب 1444ھ / 04 فروری 2023ء