logo logo
AI Search

حج کی رمی کب کی جاتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج کی رَمی کا حکم اور یہ کب کب کی جاتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حج میں رَمی کرنا واجب ہے؟ اور یہ کتنی دفعہ اور کس تاریخ کو کی جائے گی؟

جواب

دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تینوں دنوں میں سے ہر دن کی رَمی الگ الگ واجب ہے۔ پہلے دن صرف جمرۃ العقبہ کو رَمی کی جائے گی جبکہ باقی دو دن تینوں جمروں کی رَمی کرنی ہوگی۔ ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارنا بھی واجب ہے۔ پہلے دن کی رمی کا وقت دسویں تاریخ کی فجرکا وقت شروع ہونے سے گیارہویں کی فجرکا وقت شروع ہونے تک ہے۔ مسنون یہ ہے کہ دسویں کے سورج نکلنے سے لے کر زوال تک کر لی جائے زوال سے لے کر دسویں کا سورج غروب ہونے تک کرنا بھی مباح یعنی جائز ہے۔ البتہ غروب ہونے سے فجر تک مکروہ ہے۔ دسویں کی فجر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے سورج نکلنے تک کرنا بھی مکروہ ہے۔

دوسرے دن کی رمی کا وقت گیارہ تاریخ کو زوال کا وقت ختم ہونے یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے البتہ بلا عذر سورج غروب ہونے کے بعد مکروہ ہے۔

یونہی تیسرے دن یعنی 12 ذو الحجہ کی رمی کا وقت، زوال کا وقت ختم ہونے یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے البتہ بلا عذر سورج غروب ہونے کے بعد مکروہ ہے۔

13 تاریخ کو اس کا وقت صبحِ صادق یعنی فجر کا وقت شروع ہونے سے سورج غروب ہونے تک ہے البتہ صبح سے زوال کا وقت باقی رہنے تک مکروہ ہے اور ظہر کا وقت شروع ہونے سے غروب تک مسنون وقت ہے۔

اس کے طریقے اور دیگر تفصیلی احکامات کے لیے دیے گئے لنک سے کتاب 27 واجبات حج اور تفصیلی احکام کا مطالعہ فرما لیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2452
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1446ھ / 08 ستمبر 2024ء