عمرہ کے بعد مدینہ جا کر واپسی پر کس حج کا احرام باندھیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کر کے مدینہ منورہ چلے گئے، تو واپسی پر کون سا حج کریں گے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر حاجی دو ذوالحجہ کو مکہ شریف پہنچ کر عمرہ کرتا ہے، پھر مدینہ پاک چلا جاتا ہے اور چھ کو واپس آتا ہے، تو مدینہ پاک سے وہ کس حج کا احرام باندھے گا یعنی حج افراد کا یا کسی اور کا ؟ اور کیا وہ واپس آکر عمرہ کر سکتا ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ واپسی پر حاجی کو اختیار ہے کہ صرف عمرے کا احرام باندھ کر آ جائے اور عمرہ کر کے احرام کھول دے، پھر ایام حج میں نئے سرے سے حج کا احرام باندھے یا پھر مدینہ منورہ سے ہی حج کا احرام باندھ کر آ جائے، ان دونوں صورتوں میں اس کا حج حج تمتع ہوگا، اس لیے کہ آفاقی (میقات سے باہر کا رہنے والا) حج کے مہینوں (شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن) میں عمرہ کرے، پھر اسی سال حج کرے اور یہ عمرہ و حج حقیقتاً یا حکماً ایک ہی سفر میں پائے جائیں، تو وہ متمتع کہلاتا ہے۔ ایسے حاجی کا تمتع اس وقت باطل ہوتا ہے جب حاجی عمرہ ادا کر لینے کے بعد احرام کھول دے اور اپنے وطن واپس چلا جائے، جسے المامِ صحیح کہتے ہیں، چونکہ مدینہ منورہ جانا اپنے وطن واپس جانا نہیں ہے، اس لیے حاجی کا تمتع باطل نہ ہوگا اور وہ بدستور متمتع ہی رہے گا۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ان التمتع أن يحرم بالعمرة ويأتي بأكثر طوافها (فى) أشهر الحج ثم يحرم بالحج من دون إلمام صحيح بالوطن فيحج من عامه“ ترجمہ: حج تمتع یہ ہے کہ آدمی عمرے کا احرام باندھے اور اس کے اکثر طواف کو حج کے مہینوں میں ادا کرے، پھر اپنے وطن میں المام صحیح کیے بغیر حج کا احرام باندھے اور اسی سال حج ادا کرے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الحج، باب القران، جلد 4، صفحہ 318، مکتبة المدینه، کراچی)
علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1174ھ / 1761ء) لکھتے ہیں: و اما تمتع پس عبارت است از اتیان بحج بعد فراغ از عمرہ بشرط وقوع هر د و عبادت در اشهر حج و در سفر واحد حقیقۃ يا حكما“ ترجمہ: اور رہا تمتع تو وہ عمرے سے فارغ ہونے کے بعد حج بجا لانے کا نام ہے، اس شرط کے ساتھ کہ دونوں عبادتیں حج کے مہینوں میں اور حقیقتاً یا حکماً ایک ہی سفر میں واقع ہوں۔ (حیاۃ القلوب فی زيارة المحبوب، باب اول در بیان احرام، صفحہ 16، مخطوطہ)
علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: السادس عدم الإلمام أي النزول بالأهل إلماما صحيحا و هو أن يرجع إلى وطنه حلالا و العبرة بالمقام و التوطن لا بالمولد و المنشأ و وجود الأهل“ ترجمہ: (حج تمتع کی) چھٹی شرط بطورِ المامِ صحیح اہل و عیال کے ساتھ المام یعنی ان میں اترنے (لوٹ آنے) کا نہ پایا جانا ہے، اور اِلمامِ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنے وطن کی طرف (احرام سے فارغ ہونے کے بعد) حلال ہونے کی حالت میں واپس آئے، اور یہاں اعتبار رہائش گاہ اور وطن بنانے کا ہے، نہ کہ جائے پیدائش، جائے پرورش اور اہل و عیال کے موجود ہونے کا۔ (المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، باب التمتع، صفحہ 381، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: تمتع اسے کہتے ہیں کہ حج کے مہینے میں عمرہ کرے پھر اسی سال حج کا احرام باندھے، یا پورا عمرہ نہ کیا صرف چار پھیرے کیے پھر حج کا احرام باندھا۔ . . . (تمتع کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ) اِلمام صحیح نہ کیا ہو، المام صحیح کے یہ معنی ہیں کہ عمرہ کے بعد احرام کھول کر اپنے وطن کو واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے، پیدائش کا مقام اگرچہ دوسری جگہ ہو، لہذا اگر عمرہ کرنے کے بعد وطن گیا پھر واپس آکر حج کیا تو تمتع نہ ہوا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1157 - 1558، مکتبة المدینہ، کراچی)
علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: كوفي اى افاقي حل من عمرته فيها اي في الاشهر بان فرغ من اداء افعالها فيها وسكن بصرة اي غير بلده اراد به مكانا لا اهل له به سواء كان بصرة او غيرها و سواء نوي اقامة خمسة عشر يوما بها او لا و سواء اتخذها دارا او لا و حج من عامه فهو متمتع واما اذا اقام في غير بلده خارج المواقیت فهو متمتع عند الامام ايضا لبقاء سفره يعني ان حكم السفر الاول قائم ما لم يعد الي وطنه وقد اجتمع له نسكان في اشھر الحج فوجب دم التمتع“ ترجمہ: اگر کوئی کوفی مراد آفاقی شخص، حج کے مہینوں میں اپنے عمرے کے احرام سے باہر ہو لے، بایں طور کہ انہی مہینوں میں عمرے کے افعال ادا کر کے فارغ ہو جائے، پھر بصرہ میں یعنی کہ اپنے شہر کے علاوہ کسی شہر میں ٹھہر جائے، اس سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں اس کے اہل و عیال نہ (مقیم) ہوں، خواہ وہ بصرہ ہو یا کوئی اور جگہ، اور خواہ اس نے وہاں پندرہ دن اقامت کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو، اور خواہ اسے اپنا گھر بنایا ہو یا نہ بنایا ہو، پھر اسی سال حج کرے تو وہ متمتع ہے۔ پس (اس صورت میں) جب وہ اپنے وطن کے علاوہ کسی ایسی جگہ میں اقامت کرے جو میقاتوں کے باہر ہو تو بھی امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک وہ متمتع ہے؛ اس کے سفر کے باقی ہونے کی وجہ سے، یعنی اس پہلے سفر کا حکم قائم ہے جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ لوٹے، اور چونکہ حج کے مہینوں میں اس کے لیے دو مناسک جمع ہو گئے، اس لیے اس پر دمِ تمتع واجب ہوگا۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الحج، باب التمتع، جلد 4، صفحہ 174 ملخصاً، مخطوطه)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1227
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجة الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء