logo logo
AI Search

بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج کی قربانی کسی ادارے کے ذریعے کروانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حج میں قربانی Islamic development bank کے ذریعے کرسکتے ہیں؟

جواب

بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانے کے بجائے اپنی قربانی خود کریں کہ بینک وغیرہ کے ذریعے کروانے میں بہت ساری پیچیدگیاں ہیں۔ لہذا اپنی قربانی خود کریں، کسی بینک وغیرہ میں قربانی کی رقم جمع نہ کروائیں۔

بینک وغیرہ کے ذریعے قربانی کروانے کے متعلق امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیۃ تحریر فرماتے ہیں: آج کل بَہُت سارے حاجی صاحِبان بینک میں قُربانی کی رقم جمع کروا کر ٹوکن حاصِل کرتے ہیں، آپ ایسا مت کیجئے۔ ادارے کے ذَرِیعے قُربانی کروانے میں سَراسَرخطرہ ہے کیونکہ مُتَمَتِّع اورقارِن کے لیے یہ ترتیب واجِب ہے کہ پہلے رَمی کرے پھر قُربانی اور پھر حَلْق اگر اِس ترتیب کے خِلاف کیا تو دَم واجِب ہوجائے گا۔ اب آپ نے اِدارے کو رقم جمع کروادی، اُنہوں نے اگرچِہ قُربانی کا وَقْت بھی بتادِیا پھر بھی اِس بات کا پتا لگنا بے حد دُشوار ہے کہ آپ کی طرف سے قُربانی وَقْت پر ہوئی یا نہیں! اگر آپ نے قُربانی سے پہلے ہی حَلْق کروادِیا تو آپ پر دَم واجِب ہوجائے گا۔ اِدارے کے ذَرِیعے قُربانی کروانے والوں کو یہ اِختِیار دِیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنی قُربانی کا صحیح وَقت معلوم کرنا چاہیں تو 30 اَفراد پر اپنا ایک نمایَندہ منتخَب کرلیں اُس کو پھر خُصُوصی پاس جاری کیا جاتا ہے اور وہ جاکر سب کی قُربانیاں ہوتی دیکھ سکتا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک خطرہ موجود ہے اور وہ یہ کہ اِدارے والے لاکھوں جانور خریدتے ہیں اور اُن سب کا بے عَیب ہونا قریب بہ ناممکن ہے۔ اکثر کاروان والے بھی اجتِماعی قُربانیوں کی ترکیب کرتے ہیں مگر ان میں بھی بعضوں کی بد عُنوانیوں کی بدترین داستانیں ہیں! بَہَرحال مناسِب یِہی ہے کہ اپنی قُربانی آپ خود ہی کریں۔ (رفیق الحرمین، صفحہ 195، 196، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-770
تاریخ اجراء: 01 ذو القعدۃ الحرام 1443ھ / 01 جون 2022ء