logo logo
AI Search

حج کے لیے قرض لینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج پہ جانے کے لیے قرض لینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حج پر جانے کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہوں، تو کیا کسی سے تھوڑی سی رقم ادھار لے سکتے ہیں؟

جواب

حج پر جانے کے لئے قرض لینا جائز ہے، بلکہ اگر کسی شخص پر حج فرض تھا لیکن ادا نہ کیا، پھر مال ضائع ہوگیا تو فقہاے کرام اسے قرض لے کر حج پہ جانے کا حکم دیتے ہیں۔ امام اہلسنت، امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اگر مال حلال اس قدر اس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا تو اس پر حج فرض ہے مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہوگا اگر چہ فرض ساقط ہوجائے گا۔ ۔ ۔ اس کے لیے چارہ کار یہ ہے کہ قرض لے کر فرض ادا کرے۔ (فتاوی رضویہِ، جلد 10، صفحہ 708، 709، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قبولِ حج کی امید نہیں اگر چہ فرض اُتر جائے گا، اگر اپنے مال میں کچھ شُبہ ہو تو قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے مال سے ادا کردے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، ص 1051، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مزیدبہارِ شریعت میں ہے مال موجود تھا اور حج نہ کیا پھر وہ مال تلف ہوگیا، تو قرض لے کرجائے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1036، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5134
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 24 جون 2025ء