logo logo
AI Search

کیا حاجی اپنے ملک میں بھی قربانی کرے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حاجی پر عید کی قربانی لازم ہے یا نہیں اور کیا حاجی عید کی قربانی گھر پر کرسکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو حج پر گیا ہو تو کیا وہ گھر میں بھی قربانی کرے گا؟

جواب

پہلے تو یہ یاد رہے کہ اگر کوئی مقیم شخص صاحب نصاب ہو کہ عید کے ایام میں اس کے پاس نصاب یعنی ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود ہو، تو اس پر قربانی لازم ہوگی۔ اور اگر کوئی شخص عید کے دنوں میں نصاب کا مالک نہیں یا مقیم نہیں بلکہ مسافر ہے تو اس پر شرعا عید والی قربانی واجب نہیں ہوتی۔ اس تفصیل کے مطابق حاجی کا مسئلہ درج ذیل ہے:

اگر حاجی قربانی کے ایام میں شرعی مسافر ہو، یا صاحب نصاب نہ ہو تو اس پر ہر سال دی جانے والی، عید والی قربانی لازم نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ عید کے ایام میں شرعی مسافر نہ ہو بلکہ مقیم ہو اور صاحب نصاب ہو تو دیگر شرائط کے ساتھ اس پر بھی یہ قربانی لازم ہوگی اور یہ والی قربانی وہ اپنے گھر میں بھی کرواسکتا ہے۔ اور حج قران یا تمتع کر رہا ہے تو اس کی قربانی الگ سے کرنا ہوگی جو حرم میں کرنی ہوتی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1104
تاریخ اجراء: 25 صفر المظفر 1444ھ / 22 ستمبر 2022ء