عورت کا بہن اور اس کی بیٹی کو شوہر کے ساتھ عمرہ پر لیجانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا اپنی بہن اور اس کی بیٹی کو اپنے شوہر کے ساتھ عمرہ پر لے کر جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں اپنے شوہر کے ہمراہ عمرہ کرنے جارہی ہوں، میری بڑی بہن اور اُن کی بیٹی بھی جانا چاہتی ہیں کیا میں ان کو اپنے ساتھ لے جاسکتی ہوں؟
جواب
شریعتِ مطہرہ میں کسی بھی عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر شرعی مسافت یعنی 92 کلومیٹر یا اس سے زائد کی مسافت پر واقع کسی جگہ جانا حرام ہے، خواہ وہ سفر حج و عمرہ کی غرض سے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے ہو۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کے شوہر، آپ کی بہن اور ان کی بیٹی کے لیے غیر محرم ہیں، اور ان کا آپس میں شرعی پردہ بھی ہے، آپ کے شوہر اُن کے محرم نہیں بن سکتے۔ لہٰذا سوال میں بیان کیے گئے طریقے پر عمرہ کرنے کے لیے جانے کی اجازت نہیں۔
امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: اپنی حقیقی ہمشیرہ کے شوہر سے عورت کو پردہ کرنا فرض ہے یا نہیں؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: بہنوئی کا حکم شرع میں بالکل مثلِ حکمِ اجنبی ہے بلکہ اس سے بھی زائد کہ وہ جس بے تکلفی سے آمد و رفت، نشست و برخاست کرسکتا ہے غیر شخص کی اتنی ہمت نہیں ہوسکتی لہٰذا صحیح حدیث میں ہے: قالوا یارسول اللہ ا رأیت الحمو قال الحمو الموت صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ! جیٹھ، دیور، اور ان کے مثل رشتہ داران شوہر کا کیا حکم ہے۔ فرمایا: یہ تو موت ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 17، صفحہ 237، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملخصاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1172
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاول 1445ھ / 21 نومبر 2023ء