logo logo
AI Search

کیا عورت اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جا سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بالغہ عورت کا اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرے پر جانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کوئی بالغ لڑکی اپنی بہن کے سسرالی خاندان کے ساتھ عمرہ کے لیے جاسکتی ہے جبکہ اس کی بہن اور بہنوئی بھی ساتھ ہوں اور کیا بہن کے حیات ہوتے ہوئے بہنوئی محارم میں شامل ہوگا؟

جواب

بہن کی موجودگی میں بھی بہنوئی غیرمحرم ہی ہے، اور غیر محرم والے تمام احکامات جاری ہوں گے۔ لہٰذا بہن بہنوئی موجود ہوں تب بھی مذکورہ بالغہ لڑکی کو 92 کلومیٹر یا اس سے زائد مسافت کا سفر شوہر یا محرم کے بغیر کرنا حرام و گناہ ہے چاہے حج و عمرے کے لئے جائے یا کسی اور کام کے لئے۔ لہٰذا بغیر محرم ہرگز ہرگز سفر نہ کرے صرف بہنوئی کا ساتھ ہونا کافی نہیں، اگر محرم کے بغیر جائے گی تو قدم قدم پر گناہ گار ہوگی۔

امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہوجائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 726، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1156
تاریخ اجراء: 28 ربیع الثانی 1445ھ / 13 نومبر 2023ء