عمرہ کے بعد عورتوں کے قصر کا طریقہ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کے بال چھوٹے بڑے ہوں تو کیسے تقصیر کریں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج و عمرہ میں احرام سے باہر ہونے کیلئے عورتیں اپنے بالوں کی تقصیر کرتی ہیں۔ اب اگر عورتوں کے بال اوپر نیچے ہوں تو ایسی صورت میں وہ کس طرح تقصیر کروائیں گی؟ کیونکہ تقصیر میں تو ہر بال کا کٹوانا ضروری ہے۔
جواب
تقصیر میں کم از کم چوتھائی سر کے بالوں میں سے ہر بال کو انگلی کے ایک پورے کے برابر کاٹنا لازم و ضروری ہےاور سنت یہ ہے کہ پورے سر کے بالوں کی تقصیر کی جائے یعنی سر کے تمام بالوں کو ایک پورے برابر کاٹ لیا جائے۔ عورتوں کیلئے بھی سنت یہ ہے کہ سر کے تمام بالوں کو ایک پورے کے برابر کاٹیں، البتہ اگر چوتھائی سر کے بالوں کی تقصیر کریں اور کچھ بال چھوٹے اور کچھ بڑے ہوں تو ایسی صورت میں ان پر لازم ہے کہ زیادہ سے زیادہ کی صورت اختیار کر کے اس بات کی یقین دہانی کرلیں کہ واجب تقصیر میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ رہے۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: سر میں جتنے بال ہیں ان میں کے چہارم بالوں میں سے کتروانا ضروری ہے، لہٰذا ایک پورہ سے زیادہ کتروائیں کہ بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ چہارم بالوں میں سب ایک ایک پورا نہ ترشیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1142، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام نامی کتاب میں ہے: تقصیر کرتے وقت چوتھائی سر سے کچھ زیادہ حصے کے بال شامل کرلینا چاہیے تاکہ بال چھوٹے بڑے ہونے کی بناء پر یہ نہ ہو کہ چوتھائی سر کے کل بالوں کی تقصیر نہ ہوسکے اور احرام سے باہر ہونے میں مشکلات پیدا ہوجائیں۔ خاص طور پر عورتوں کے بالوں میں چھوٹے بڑے بال بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یا پھر ایک پورے سے زیادہ کاٹ لئے جائیں تاکہ چھوٹے بال بھی شامل ہوجائیں۔ جس کے بال چھوٹے بڑے ہوں اس کے لئے تو ان دونوں میں سے کسی ایک احتیاطی صورت پر عمل کرکے چوتھائی سر کےبالوں کی تقصیر کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ (27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 118، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1855
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1445ھ / 02 اگست 2023ء