احرام کی حالت میں بیلٹ والی چھتری استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حالتِ احرام میں بیلٹ والی چھتری پہننا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا احرام میں ایسی چھتری سر پر لے سکتے ہیں، جو سر پر تو نہیں لگتی، لیکن اس کے ساتھ جڑی ہوئی ایک لچکدار بیلٹ سر کے چاروں طرف گھومتی ہوئی سر کو لگی رہتی ہے؟ اس بیلٹ کی چوڑائی تقریبا ایک ڈیڑھ انچ ہے اور کیا اس کو پہننے پر کوئی کفارہ بھی لازم آئے گا؟
جواب
مُحرم کے لیے سوال میں بیان کردہ چھتری استعمال کرنا، جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی بیلٹ سر کے چاروں طرف سر کو لگی رہتی ہے اور اتنا حصہ سر کا چھپ جاتا ہے، حالانکہ احرام کی حالت میں سر کو چھپانا، جائز نہیں ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ ایسی بیلٹ سے سر کا چوتھائی سے کم حصہ چھپے گا، لہٰذا اگر پورا دن یا پوری رات تک پہنی تو صدقہ لازم ہوگا اور اگر پورے دن یا پوری رات سے کم وقت کے لیے پہنی، تو کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ مکروہ تحریمی و گناہ ہونے کی وجہ سے توبہ لازم ہوگی۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ بیلٹ سرپر لگانا ایسے ہی ہے جیسے سرپر پٹی باندھنا اور احرام کی حالت میں (بلا عذر شرعی) سر پر پٹی باندھنا ناجائز و ممنوع ہے اور بعض صورتوں میں کفارے کا بھی حکم ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: ”لا يعصب المحرم رأسه بسير، و لا خرقة“ ترجمہ: محرم اپنے سر پر نہ چمڑے کے تراشے سے پٹی باندھے اور نہ کپڑےکے ٹکڑے سے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الحج، المحرم یعصب راسہ، جلد 3، صفحہ 184، مطبوعہ ریاض)
مبسوط سرخسی میں ہے: ”و يكره له أن يعصب رأسه فإن فعل يوما إلى الليل فعليه صدقة؛ لأنه غطى بعض رأسه بالعصابة و هو ممنوع من تغطية الرأس إلا أن ما غطى به جزء يسير من رأسه فتكفيه الصدقة لعدم تمام جنايته“ ترجمہ: محرم کے لئے مکروہ ہے کہ وہ اپنے سر پر پٹی باندھے، اگر اس نے ایک پورا دن، یعنی رات ہونے تک پٹی باندھی تو اس پر صدقہ ہے کیونکہ اس نے پٹی کے ذریعے سر کے بعض حصے کو چھپایا ہے حالانکہ اسے سر چھپانا ممنوع ہے، البتہ چونکہ سر کا جتنا حصہ چھپایا ، وہ تھوڑا سا ہے اس لئے صدقہ کافی ہے، جنایت کامل نہ ہونے کی وجہ سے۔ (المبسوط ،کتاب المناسک، باب ما یلبسہ المحرم، جلد 4، صفحہ 127، دار المعرفہ، بیروت)
فتح القدیر میں ہے: ”لو عصب المحرم رأسه بعصابة أو وجهه يوما أو ليلة فعليه صدقة، إلا أن يأخذ قدر الربع“ ترجمہ: اگر محرم نے سر یا چہرے پر پٹی باندھی ایک دن یا ایک رات تک تو اس پر صدقہ لازم ہے، الّا یہ کہ سر کے چوتھائی حصے کو ڈھانپ لے (کہ پھر دم لازم ہوگا۔) (فتح القدير، کتاب الحج، باب الجنایات، جلد 3، صفحہ 31، دار الفکر، بیروت)
رد المحتار میں نہر اور اس میں خانیہ کے حوالے سے ہے: ”و يكره له تعصيب رأسه و لو فعل يوما و ليلة كان عليه صدقة. اهـ.“ ترجمہ: اور محرم کے لئے سر پر پٹی باندھنا مکروہ ہے، اگر اس نے ایک دن یا ایک رات تک ایسا کیا تو اس پر صدقہ ہے۔ (رد المحتار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام، جلد 2، صفحہ488، دار الفکر، بیروت)
اس کے علاوہ یہ مسئلہ البحر الرائق (3 / 9)، البحر العمیق (801 / 2) اور بدائع (187 / 2) وغیرہ میں بھی ہے۔ سر چھپانے پر کتنا کفارہ ہوگا، اس کی تفصیل و تحقیق بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: ”فالذي تحرّر مما تقرّر أنّ الكمال في المستور - أعني: الرأس و الوجه - بالربع و في المستور فيه - أعني: اليوم أو الليلة - باستيعاب المقدار فإذا وجد الكمال فيهما فدم أو في أحدهما فصدقة أو لا في شيءٍ منهما فلا شيء إلاّ الكراهة، و هي على ما استظهر ط تحريمية“ یعنی بیان کردہ تقریر سے یہ بات منقح ہوئی کہ مستور یعنی سر اور چہرہ میں کمال جنایت چوتھائی حصہ چھپانے سے ہے اور مستور فیہ یعنی دن یا رات کے اعتبار سے کمال جنایت پورے وقت میں فعل پائے جانے سے ہے، لہذا اگر ان دونوں اعتبار سے جنایت کامل ہوئی تو دم لازم ہوگا اور اگر ان میں سے ایک کے اعتبار سے جنایت کامل ہوئی تو صدقہ لازم ہوگا اور اگر کسی ایک کے اعتبار سے بھی جنایت کامل نہ ہوئی تو کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا مگر کراہت لازم آئے گی اور صاحب طحطاوی کے استظہار کے مطابق یہ کراہت تحریمی ہے۔ (جد الممتار، کتاب الحج، باب الجنایات، جلد 4، صفحہ 324، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اشکال: یہ بیلٹ سر پر لگنا ممنوع نہیں ہونا چاہیے کہ لبس معتاد یا ستر معتاد نہیں۔
جواب: ایسا ہرگزنہیں، کیونکہ یہ بیلٹ لباس ناس (یعنی انسانوں کے پہننے) میں سے ہے اور یہ بیلٹ سر پر لگانا عرفا لبس و پہننا ہی شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ ما یقصد بہ التغطیۃ میں شامل ہو کر ممنوع و ناجائز ہی قرار پائے گا اور فقہاء کرام نے جن چیزوں کو سرپر اٹھانے کی اجازت دی اور فرمایا کہ ان سے تغطیہ مقصود نہیں ہوتا، اس میں وہ چیزیں شمار کی ہیں، جو لباسِ ناس میں سے نہیں ہیں اور ان کو سر پر اٹھا لیا جائے، تو کوئی بھی پہننا یا سر چھپانا شمار نہیں کرتا، بلکہ اس کا مقصود مطلق حمل (اٹھانا) یا کچھ اور ہوتا ہے۔ جیسے طشت، برتن، پتھر، شیشہ، مٹی کے ڈھیلے وغیرہ۔
بدائع الصنائع اور البحر العمیق میں ہے: و اللفظ للبدائع: ”و لو حمل على رأسه شيئا فإن كان مما يقصد به التغطية من لباس الناس لا يجوز له ذلك؛ لأنه كاللبس، و إن كان مما لا يقصد به التغطية كإجانة، أو عدل بروضعه على رأسه فلا بأس بذلك؛ لأنه لا يعد ذلك لبسا، و لا تغطية“ ترجمہ: اگر محرم نے سر پر کوئی چیز اٹھائی تو اگر یہ چیز لباس ناس میں سے ایسی ہے جس سے تغطیہ (چھپانا) مقصود ہوتا ہے تو اس کا اٹھانا، جائز نہیں ہوگا کیونکہ یہ لبس (پہننے) کی طرح ہوگا اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس سے تغطیہ مقصود نہیں ہوتا جیسے برتن (جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں) یا گندم کی بوری کہ ان کو اگر محرم اپنے سر پر رکھے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ لبس اور تغطیہ شمار نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل فی محظورات الاحرام، جلد 2، صفحہ 185، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
رد المحتار میں نہر اور اس میں خانیہ کے حوالے سے ہے: ”لو حمل المحرم على رأسه شيئا يلبسه الناس يكون لابسا، و إن كان لا يلبسه الناس كالإجانة و نحوها فلا“ ترجمہ: اگر کسی محرم نے اپنے سر پر ایسی چیز اٹھائی جس کو لوگ پہنتے ہیں تو یہ پہننے والا شمار ہوگا اور اگر لوگ اسے نہیں پہنتے جیسے کپڑے دھونے والا برتن یا اس طرح کی اور چیزیں تو پھر وہ پہننے والا شمار نہیں ہوگا۔ (رد المحتار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام، جلد 2، صفحہ 488، دار الفکر، بیروت)
المسالک لعلامۃ کرمانی میں ہے: ”فان غطی راسہ بشیء مما لا یلبسہ الناس عادۃ کاجانۃ او عدل او طاسۃ او مکتل و ما اشبہ ذلک فلا شیء علیہ لانہ لا یقصد بہ تغظیۃ الراس و انما یقصد بہ الحمل وغیرہ“ ترجمہ: اگر محرم نے کسی ایسی چیز سے سر کو چھپایا جس کو لوگ عادۃ نہیں پہنتے جیسے کپڑے دھونے والا برتن، بوری، پیتل یا تانبے کا پانی پینے والا برتن، چیز ماپنے کا پیمانہ، یا اس طرح کی دوسری چیزیں تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا کیونکہ ان چیزوں سے سر چھپانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان سے مقصود اٹھانا یا کچھ اور ہوتا ہے۔ (المسالک فی المناسک، 711 / 1، شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ)
جن چیزوں سے تغطیہ مقصود نہیں ہوتا، اس کی مزید کچھ مثالیں لباب اور اس کی شرح میں یوں دی گئی ہیں: ”(او حجر او مدر او صفر او حدید او زجاج او خشب و نحوھا) ای من فضۃ و ذھب“ ترجمہ: یا پتھر یا مٹی کے ڈھیلے یا پیتل یا لوہا یا شیشہ یا لکڑی یا اس طرح کی اور چیزیں جیسے چاندی اور سونا۔ (المسلک المتقسط، باب الجنایات، صفحہ 436، مؤسسۃ الریان)
ان جزئیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جن چیزوں سے تغطیہ مقصود نہیں ہوتا، ان میں اور اس بیلٹ میں نمایاں فرق ہے، لہٰذا بیلٹ کو ان چیزوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ساجد عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: UK-10
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1440ھ / 29 جولائی 2019ء