logo logo
AI Search

کیا نفلی طواف میں اضطباع کرنا لازم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج قران والا نفلی طواف کرے تو اضطباع کرے گا یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حج قران کرنے والا اگر محض نفلی طواف کرے تو اضطباع کرے گا یا نہیں؟

جواب

اضطباع کے بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو اور وہ احرام کی چادروں میں کیا جائے تو اس میں اضطباع کیا جائے گا۔ بیان کردہ صورت میں اگر اس طواف کے بعد سعی کا ارادہ ہو تو پھر اضطباع کرے گا ورنہ نہیں۔

لباب و شرح لباب میں ہے”(و هو) أي الاضطباع (سنة في كل طواف بعده سعي) كطواف القدوم و العمرة و طواف الزيارة على تقدير تأخير السعي، و بفرض أنه لم يكن لابساً فلا ينافي ما قال في «البحر» من أنه لا يسن في طواف الزيارة، لأنه قد تحلل من إحرامه و لبس المخيط، و الاضطباع في حال بقاء الإحرام“ ترجمہ: اضطباع ہر اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو جیسا کہ طواف قدوم، طواف عمرہ اور طواف زیارت جبکہ طواف زیارت کے بعد سعی ہو اور سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے ہوں، اور یہ اس کے منافی نہیں جو بحر میں کہا گیا ہے کہ اضطباع طوافِ زیارت میں مسنون نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ احرام سے نکل کر سلے ہوئے کپڑے پہن چکا جبکہ اضطباع احرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ (لباب و شرح لباب، باب دخول مکۃ، ص 183، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری  مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1164
تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1444ھ / 15 اکتوبر 2022ء