کوئی نابالغ ممنوعات احرام کا ارتکاب کرے تو کفارہ کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام میں ممنوع کام کے ارتکاب سے نابالغ پر کفارہ ہوگا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جس طرح بالغ افراد پر حالتِ احرام میں، ممنوعاتِ احرام کاموں کے ارتکاب سے کفارہ وغیرہ لازم ہوتا ہے تو کیا اسی طرح نابالغ بچوں پر بھی احرام کے کسی ممنوع کام کے ارتکاب سے کوئی کفارہ وغیرہ لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
نابالغ بچوں کو بھی حالتِ احرام میں ممنوعاتِ احرام کاموں سے بچانا چاہئے۔ البتہ اگر نابالغ بچے احرام کی حالت میں، ممنوعاتِ احرام کاموں میں سے کسی کام کا ارتکاب کرلیں تو اُن پر کسی قسم کا کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہوگا۔ یوہیں اگر ناسمجھ بچے کی طرف سے اس کے والد یا سرپرست نے احرام باندھا اور بچے نے کوئی ممنوع کام کیا تو باپ یا سرپرست پر بھی نابالغ بچے کی طرف سے کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہوگا۔
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(و ینبغی لولیہ أن یجنبہ) أی یحفظہ و یبعدہ (من محظورات الاحرام) کلبس المخیط و استعمال الطیب و نحوہ (و إن ارتکبھا) أی الصبی شیئا من المحظورات (لاشئ علیہ) أی و لو بعد بلوغہ لعدم تکلیفہ قبلہ‘‘ ترجمہ: بچہ کے سرپرست کو چاہئے کہ وہ بچہ کو احرام کے ممنوعات سے بچائے یعنی اس کی حفاظت کرے اور اس کو ممنوع کاموں سے دور رکھے جیسے سلا ہوا لباس نہ پہنائے، خوشبو وغیرہ کا استعمال نہ کرائے۔ اور اگر بچہ احرام کے ممنوعات میں سے کسی کام کو کرلے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں، یعنی اس کے بالغ ہونے کے بعد بھی اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ کیونکہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے شرعی احکام کا مکلف ہی نہیں۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی احرام الصبی، صفحہ 159، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2033
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1445ھ / 02 اکتوبر 2023ء