logo logo
AI Search

کیا احرام کی حالت میں چھتری کا استعمال جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام کی حالت میں چھتری استعمال کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حالت احرام میں، دھوپ اور بارش سے بچنے کیلئے چھتری کا استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب

عام طورپر طوافِ کعبہ اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران دھوپ وغیرہ سے بچنے کیلئے دو طرح کی چھتریاں استعمال کی جاتی ہیں:

ایک چھتری وہ ہوتی ہے، جسے ہاتھ میں پکڑا جاتا ہے، ایسی چھتری سر سے علیحدہ رکھ کر حالتِ احرام میں استعمال کرسکتے ہیں۔

اور دوسری چھتری وہ ہوتی ہے، جسے ہاتھ میں پکڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اُس کے ساتھ کپڑے کا بیلٹ ہوتا ہے، جو سر پر پہن لیا جاتا ہے، ایسی چھتری حالت احرام میں مرد و عورت کسی کے لئے بھی استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس چھتری کا بیلٹ سر پر پہننے سے پیشانی اور سر، دونوں کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے، حالانکہ احرام کی حالت میں مرد کےلئے اپنے پورے سر یا چہرے کو یا ان کے بعض حصوں کو چھپانا جائز نہیں۔ اور عورت اپنے پورے چہرے یا اس کے بعض حصے کو احرام کی حالت میں نہیں چھپا سکتی۔

ہاتھ والی چھتری سر سے جُدا رکھ کر، احرام کی حالت میں استعمال کرسکتے ہیں، چنانچہ مراٰۃ المناجیح میں ہے: محرم بحالتِ احرام چھتری، خیمہ، چادر کا سایہ لے سکتا ہے، بشرطیکہ یہ چیزیں اُس کے سر سے علیحدہ رہیں۔ (مراۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 200، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

محرم کو سر یا چہرے کا کل یا بعض حصہ چھپانا ممنوع ہے، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں احرام کے ممنوعات والی فصل میں ہے: ’’(و تغطیۃ الرأس) أی کلہ أو بعضہ لکنہ فی حق الرجل (و الوجہ) أی للرجل و المرأۃ‘‘ ترجمہ: حالت احرام میں مرد کو سر کا کل یا بعض حصہ، اور مرد و عورت دونوں کو چہرہ چھپانا ممنوع ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی محظورات الاحرام، صفحہ 131، دارا لکتب العلمیہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1724
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 08 جون 2023ء