احرام کی چادریں عمرہ کی ادائیگی سے پہلے تبدیل کرنے کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرے کی نیت سے باندھی گئی احرام کی چادریں عمرہ سے پہلے تبدیل کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عمرے کی نیت سے باندھے گئے احرام کی چادریں عمرہ کی ادئیگی سے پہلے تبدیل کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
عمرہ کی ادائیگی سے پہلے احرام کی چادریں تبدیل کرکے دوسری چادریں پہننا جائز ہے، شرعاً اس کی ممانعت نہیں۔
صحیح بخاری میں ہے: ’’و قال ابراھیم: لا باس ان یبدل ثیابہ‘‘ یعنی: حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: محرم کے لئے احرام کی چادریں تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (صحیح بخاری، صفحہ 375، مطبوعہ: دمشق)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں حضرت ابراھیم رضی اللہ عنہ کے اس قول کو سند کے ساتھ بیان فرمایا: ”حدثنا جریر عن مغیرہ بن شعبۃ عن ابراھیم قال: یغیر المحرم ثیابہ ما شاء بعد ان یلبس ثیاب المحرم“ یعنی: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی انھوں نے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا انھوں نے ابراھیم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، فرماتے ہیں: محرم احرام کی چادر پہننے کے بعد اپنے احرام کی چادریں تبدیل کرسکتا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 9، صفحہ 239، مطبوعہ بیروت)
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذکورہ قول کے متعلق نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری میں مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسے امام ابو بکر نے سند متصل کے ساتھ روایت کیا، نیز یہ بھی کہ عکرمہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تنعیم میں اپنا لباس تبدیل فرمایا۔ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 59، مطبوعہ: لاہور)
مفتی علی اصغر عطاری دامت برکاتہم العالیۃ اپنی مختصر و جامع تصنیف 27 واجبات حج میں لکھتے ہیں: صرف حج کی نیت کرنا یا صرف عمرے کی نیت کرنا یا حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرنا احرام میں داخل ہونا کہلاتا ہے۔ نیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تلبیہ بھی پڑھا جائے یا کم از کم جو کلمات تلبیہ کے قائم مقام ہیں وہ پڑھے جائیں۔ جب نیت پائی گئی تو اب حالتِ احرام شروع ہوگئی اور احرام کی پابندیوں کا لحاظ کرنا لازم ہوگیا عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید احرام کی چادر پہننے کو حالت احرام کہتے ہیں اسی لئے وہ چادر تبدیل کرنے پربھی سوچ و بچار میں پڑتے ہیں کہ کہیں احرام نہ کھل جائے۔ یہ غلط فہمی مسائل کا ادراک نہ ہونے کی بنا پرہے حالت احرام دراصل ایک کیفیت کا نام ہے جس کا دار و مدار نیت اور تلبیہ کہنے پر ہے۔ (27 واجبات حج، صفحہ 191، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1069
تاریخ اجراء: 15 ربیع الثانی 1445ھ / 31 اکتوبر 2023ء