logo logo
AI Search

کیا حاجی پر تیرہ ذی الحجہ کی رمی کرنا واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنے کا کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا حاجی پر تیرہ (13) ذو الحِجّہ کی رمی کرنا واجب ہوتا ہے، اگر کسی نے نہیں کی تو کیا حکم ہے؟

جواب

حاجی پر تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنا واجب نہیں ہوتا، البتہ اُس کیلئے افضل یہ ہے کہ بارہ ذو الحجہ کی رمی کرنے کے بعد منٰی میں ہی ٹھہرے اور تیرہ ذو الحجہ کی رمی کر کے مکہ جائے، اور اگر کوئی شخص بارہ ذو الحجہ کی رمی کرنے کے بعد مکہ جانا چاہے تو غروب آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مکہ مکرمہ کو چلا جائے، اور اگر منٰی میں ہی غروب آفتاب ہوگیا تو اب اس کیلئے منٰی میں رات گزارنا اور تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنا سنت ہے، لہذا اس صورت میں اگر کوئی شخص بغیر رمی کئے چلا جائے تو اس پر کچھ لازم تو نہیں ہوگا لیکن ایسا شخص سنت کے ترک کی وجہ سے اساءت کا مرتکب ہوگا۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے جس میں تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنا واجب ہوجاتا ہے، اُس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص منٰی میں ہی رہا اور تیرہ ذو الحجہ کی صبح صادق ہوگئی تو ایسی صورت میں اُس پر تیرہ ذو الحجہ کی رمی کرنا واجب ہوجائے گا اور اب اُس کیلئے بغیر رمی کئے منٰی سے جانا جائز نہیں ہوگا، اگر جائے گا تو دم واجب ہوگا۔

لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: (و اذا رمی و اراد أن ینفر فی ھذا الیوم من منی الی مکۃ جاز بلا کراھۃ و الأفضل أن یقیم و یرمی فی الیوم الرابع) أی لفعلہ صلی اللہ علیہ و سلم (وإن لم یقم نفر قبل غروب الشمس) ترجمہ: اور جب کوئی شخص بارہ ذو الحجہ کی رمی کرلے اور اس دن منی سے مکہ جانا چاہے تو اس کیلئے مکہ چلا جانا بلا کراہت جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ منی میں ٹھہرے اور چوتھے دن کی رمی کرے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی کیا، اور اگر وہ ٹھہرنا نہ چاہے تو غروب آفتاب سے پہلے چلا جائے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب رمی الجمار و احکامہ، صفحہ 343 - 344، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)

البحر العمیق میں ہے: ’’فان لم ینفر حتی غربت الشمس، فانہ یکرہ لہ أن ینفر، و یسن لہ المبیت بمنی، و الرمی فی الیوم الثالث باتفاق العلماء … فان لم ينفر حتي طلع الفجر من اليوم الثالث من ايام التشريق، فانہ یجب علیہ أن یرمی الجمرات الثلاث باتفاق العلماء، و یجب علیہ دم اذا ترکہ‘‘ ملتقطاً۔ ترجمہ: اگر نہ گیا اور غروب آفتاب ہوگیا تو ایسی صورت میں (چوتھے دن کی رمی کئے بغیر) منی سے جانا مکروہ ہے اور اب اُس کیلئے منی میں رات گزارنا اور تیرہ کی رمی کرنا بالاتفاق سنت ہے اور اگر منی سے نہ گیا یہاں تک کہ تیرہ ذو الحجہ کی صبح صادق منی میں ہوگئی، تو ایسی صورت میں اُس پر تینوں جمروں کی رمی کرنا بالاتفاق واجب ہوگیا اور اگر رمی کو ترک کیا تو اس پر دم واجب ہوگا۔ (البحر العمیق، فصل فیما یفعلہ الحاج ۔۔ الخ، صفحہ 1889 - 1890، مؤسسۃ الریان)

بہار شریعت میں ہے بارھویں کی رَمی کر کے غروب آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ کو روانہ ہو جاؤ مگر بعد غروب چلا جانا معیوب۔ اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے رَمی کر کے مکہ جانا ہوگا اور یہی افضل ہے ۔۔۔۔ اور اگر تیرھویں کی صبح ہوگئی تو اب بغیر رَمی کیے جانا جائز نہیں، جائے گا تو دَم واجب ہوگا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 06، ص 1146، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1705
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 03 جون 2023ء