logo logo
AI Search

تیرہ ذو الحج کی رمی فجر کے بعد کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تیرہ ذی الحجہ کی رمی کا وقت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

13 ذو الحجہ کی رمی فجر کے بعد کر سکتے ہیں؟

جواب

13 ذو الحجہ کی رمی کا وقت، فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک ہے، البتہ! ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت، سنت ہے، اور فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کرظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک کا وقت، مکروہ وقت ہے، اب اگر بغیر کسی عذر کے ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے رمی کی، تو کراہت ہے، اور عذر ہو تو پھر مکروہ نہیں۔ لہذا اگر کوئی 13 ذو الحجہ کو فجر کے بعد رمی کرے، تو اس کی رمی ہوجائے گی لیکن بلا عذر کرے گا، تو مکروہ ہے۔

لباب المناسک میں ہے ”وقت الرمی فی الیوم الرابع من أیام الرمی وقتہ من الفجر إلی الغروب إلا أن ما قبل الزوال وقت مکروہ و ما بعدہ فمسنون“ ترجمہ: ایام رمی میں سے چوتھے دن (13 ذی الحج) کی رمی کا وقت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہے، مگر اس دن زوال سے پہلے تک رمی کرنا مکروہ ہے اور بعد میں سنت ہے۔ (لباب المناسك، صفحہ 340، مطبوعہ: پشاور)

مفتی علی اصغر صاحب مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: 13 تاریخ کو اس کا وقت صبحِ صادق یعنی فجر کا وقت شروع ہونے سے سورج غروب ہونے تک ہے البتہ صبح سے زوال کا وقت باقی رہنے تک مکروہ ہے اور ظہر کا وقت شروع ہونے سے غروب تک مسنون وقت ہے۔ (27 واجبات حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 104، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے تیرھویں کی رَمی کا وقت صبح سے آفتاب ڈوبنے تک ہے مگر صبح سے آفتاب ڈھلنے تک مکروہ وقت ہے، اس کے بعد غروب آفتاب تک مسنون۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر بغیر عُذر ہے تو کراہت ہے، ورنہ کچھ نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1146، 1147، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5099
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء