کیا طواف قدوم منیٰ جانے سے پہلے کرنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طواف قدوم کا وقت اور طواف قدوم اور طواف زیارت میں اضطباع کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
(الف) کیا طوافِ قدوم، منیٰ جانے سے پہلے کرنا ضروری ہے؟
(ب) کیا طوافِ قدوم اور طواف الزیارۃ میں اضطباع کیا جائے گا؟
جواب
(الف) طوافِ قدوم کا وقت، مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے لے کر، وقوفِ عرفہ سے پہلے تک ہے، اگر کسی نے طوافِ قدوم نہ کیا اور وقوفِ عرفہ ادا کرلیا، تو اب اُس پر سے طوافِ قدوم کی ادائیگی ساقط ہوجائے گی، لہذا طوافِ قدوم منیٰ جانے سے پہلے کرنا ضروری نہیں لیکن چونکہ منیٰ جانے کے بعد، وقوفِ عرفہ سے پہلے، طوافِ قدوم کیلئے دوبارہ مکہ مکرمہ آنا عام طور پر انتہائی مشکل معاملہ ہوتا ہے، اس لئے منیٰ جانے سے پہلے پہلے طواف قدوم کرلیا جائے۔
(ب) طوافِ قدوم میں اضطباع اس وقت کیا جائے گا جب اس کے بعد حج کی سعی کرنی ہو، لہذا اگر کسی نے طوافِ قدوم کے بعد حج کی سعی نہیں کرنی، تو اب اُس کے لئے طوافِ قدوم میں اضطباع بھی نہیں۔ یہی حکم طواف الزیارۃ کا ہے کہ جس نے اس کے بعد حج کی سعی کرنی ہو، وہ طواف الزیارۃ میں اضطباع کرے گا، البتہ طواف الزیارۃ میں اضطباع اس وقت ہے جبکہ وہ حالت احرام میں ہو، ورنہ اگر احرام اتار کر سلے کپڑے پہن چکا تو اب اضطباع نہیں۔
طواف قدوم کے ابتدائی اور انتہائی وقت کے متعلق، لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(و أوّل وقتہ) أی وقت ادائہ (حین دخول مکۃ و آخرہ وقوفہ بعرفۃ) أی ینتھی بوقوفہ بعرفۃ (فاذا وقف فقد فات وقتہ) أی سقط اداؤہ‘‘ ترجمہ: طوافِ قدوم کی ادائیگی کا اول وقت مکہ میں داخل ہونے سے ہوتا ہے اوروقوف عرفہ کی ادائیگی کے ساتھ اس کا وقت ختم ہوتا ہے تو جب کسی نے وقوف عرفہ کرلیا تو اس پر سے طواف قدوم کی ادائیگی ساقط ہوگئی۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 199، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)
اضطباع ہر اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(و ھو) أی الاضطباع (سنۃ فی کل طواف بعدہ سعی) کطواف القدوم و العمرۃ و طواف الزیارۃ علی تقدیر تاخیر السعی و بفرض انہ لم یکن لابسا فلا ینافی ما قال فی البحر من انہ لا یسن فی طواف الزیارۃ، لانہ قد تحلل من احرامہ و لبس المخیط، و الاضطباع فی حال بقاء الاحرام‘‘ ترجمہ: اضطباع ہر اُس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو جیسے طوافِ قدوم، طوافِ عمرہ اور حج کی سعی میں تاخیر ہونے کی صورت میں طواف الزیارۃ، جبکہ وہ عام لباس میں نہ ہو، لہذا یہ اُس کے منافی نہیں جو بحر میں فرمایا کہ طواف الزیارۃ میں اضطباع سنت نہیں، کیونکہ اب حج کرنے والا احرام سے باہر آگیا اور اُس نے سلا ہوا لباس پہن لیا، جبکہ اضطباع تو احرام کے باقی ہونے کی حالت میں ہوتا ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 183، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1694
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 31 مئی 2023ء