ذبح کرنے والے کا مذہب اور اسکے عقائد معلوم ہونا ضروری ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا ذابح کے مسلمان ہونے کا علم کافی ہے یا اس کے عقائدکی تفصیل معلوم ہونا بھی ضروری ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سوال کا جواب جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ شریعتِ مطہرہ نے ہمیں ظاہر کا مکلف کیا ہے ۔ جب کوئی شخص اپنا مسلمان ہونا بتا رہا ہو اور کوئی ایسی واضح دلیل یا علامت بھی نہ ہو جس سے اس کی غلط بیانی ثابت ہو تو اب ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے اس پر مسلمانوں والے احکام ہی جاری ہوں گے،جب تک کہ یقین یا ظنِ غالب کے طور پر اس شخص کا کافر ومرتد ہونا ثابت نہ ہو جائے۔دوسری بات یہ کہ دینِ اسلام حتی الامکان امور کو درستی پر محمول کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جب کسی کام کا درست طریقے پر ہونا معلوم ہوگیا تو محض شک و شبہ کی وجہ سے اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔
اس تفصیل کو جاننے کے بعد پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اس کمپنی کا مکمل طریقہ کار وغیرہ دیکھ کر شریعت کے مطابق ہونے کا اطمینان حاصل کرلیا (اس تفصیل کے مطابق جو مجلس تحقیقات شرعیہ کے فیصلے بنام ”مسلم کمپنی کے پیک شدہ گوشت کا شرعی حکم“ میں بیان ہوئی) اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ کمپنی اس بات کا التزام کرتی ہے کہ ذبح کرنے والا ہمیشہ مسلمان ہی ہو تو اس کے بعد جب تک کسی واضح دلیل سے ذبح کرنے والوں کا ”مرتد“ یا ”غیر کتابی کافر“ ہونا ثابت نہ ہو جائے، تب تک صرف شک کی وجہ سے ایسے سلاٹر ہاؤس کا ذبیحہ حرام نہیں ہوگا، بلکہ وہ حلال ہی شمار ہوگااور اس کا کھانا بلا شبہ جائز ہوگا۔ کیونکہ ہماری شریعت یہ کہتی ہے کہ جب ذابح کا مسلمان ہونا معلوم ہو تو اس کے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے اس کے ذبح وغیرہ افعال کو درستی پرہی محمول کیا جائے گا۔ ایسے مقام پر بغیر کسی دلیل و قرینے کے جو شکوک و شبہات پیدا ہوں ان کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
اس کی ایک نظیر فقہائے کرام کا بیان کردہ یہ مسئلہ ہے کہ کسی نے مسلمانوں کے بازار سے گوشت خریدا تو ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے اسے کھانا جائز ہے، اگرچہ اس میں یہ احتمال تو ہو ہی سکتا ہے کہ یہ مجوسی کا ذبیحہ ہو۔یوں ہی فقہائے کرام نے کتابی کے ذبیحہ کو اسی وقت حرام قرار دیا جب ذبح کرتے ہوئے اسے غیر اللہ کا نام لیتے ہوئے سنے، ورنہ حرام نہیں ہوگا اگرچہ اس نے ہمارے سامنے ذبح نہ کیا ہو۔ حالانکہ یہاں بھی یہ احتمال موجود ہے کہ اس کتابی نےذبح کے وقت درست تکبیر نہ کہی ہو۔ نیزحضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی کتابی کا ذبیحہ بغیر تفتیش کئے تناول فرمایا ہے۔(واضح رہے کہ فی زمانہ کتابی کے ذبیحہ میں کچھ مزید تفصیل ہے جو آگے آ رہی ہے۔)
معلوم ہوا کہ بلا دلیل احتمالات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اگر بغیر کسی دلیل کے پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کا اعتبار کیا جائے پھر تو صحیح العقیدہ سنی مسلمان، جو نماز وروزے کا پابند ہو اس کے متعلق بھی شک ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے اس نے ماضی میں کوئی صریح کلمہ کفر بول دیا ہو اور توبہ کیے بغیر جانور ذبح کر رہا ہویا یہ شک ہو سکتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا ہو۔ لیکن جیسے ان شبہات کا ظاہر کے خلاف ہونے کی وجہ سے کوئی اعتبار نہیں اسی طرح مسلمان ذابح کا بد عقیدہ ہونے کا احتمال اور شبہہ بھی ظاہر کے خلاف ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں اور ایسے احتمال و شبہہ کی وجہ سے ذبیحہ حرام یا ممنوع نہیں ہوگا۔
ہاں اگر ذابح کے کفریہ بد عقیدگی میں ملوث ہونے کی کوئی علامت و قرینہ ہو یا وہاں غالب اکثریت ایسے بد عقیدہ لوگوں کی ہو تو وہاں تفتیش کر لینے کا حکم ہوگا۔ (واضح رہے کہ ہر بد عقیدہ کا ذبیحہ بھی حرام نہیں ہوتا بلکہ اس بد مذہب کا ذبیحہ حرام ہوتاہےجس کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچ چکی ہو۔)
درج بالا باتوں سے متعلق شرعی نصوص اورعلماء کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
شریعتِ مطہرہ نے ہمیں صرف ظاہر کا مکلف بنایا ہے،جب کوئی شخص اپنا مسلمان ہونا بتا رہا ہو تو ظاہرِحال کا اعتبار کریں گے، اور اس کے لیے مسلمانوں والے ہی احکام جاری ہوں گے۔ اس بات کی تعلیم ہمیں حدیثِ مبارک سے ملتی ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہم صبح صبح قبیلہ جہینہ کی بستیوں پر پہنچے، میں ایک آدمی تک پہنچا تو اس نے ”لا إله إلا اللہ“ کہا، لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا،مجھے اس واقعے سے متعلق کچھ تردد تھا، چنانچہ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أقال: لا إله إلا اللہ، و قتلته؟ قال: قلت: يا رسول اللہ، إنما قالها خوفا من السلاح، قال: أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم أقالها أم لا؟ فما زال يكررها علي حتى تمنيت أني أسلمت يومئذ.“ ترجمہ: کیا اس نے ”لا إله إلا اللہ“ کہا تھا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے تو صرف ہتھیار کے خوف سے کلمہ کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:تو کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی جملہ مجھ سے دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا۔ (صحيح مسلم، جلد 01، صفحہ 67، دار الطباعۃ العامرۃ، الترکیا)
اس حدیث کے تحت علماء نے واضح فرمایا کہ ہمیں ظاہر کا مکلف کیا گیا ہے۔ ظاہر کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو تو باطنی امور پر احکام کی بنا نہیں رکھی جائے گی۔ چنانچہ مذکورہ حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”قال النووي: معناه أنك إنما كلفت بالعمل بالظاهر و ما ينطق به اللسان، و أما القلب فليس لك طريق إلى معرفة ما فيه، فأنكر عليه امتناعه من العمل بما يظهر باللسان فقال: هلا شققت عن قلبه لتنظر هل قالها بالقلب واعتقدها وكانت فيه، أم لم تكن فيه بل جرت على اللسان فحسب يعني: فأنت لست بقادر على هذا، فاقتصر على اللسان و لا تطلب غيره، وفيه دليل للقاعدة المعروفة في الفقه و الأصول أن الأحكام يحكم فيها بالظواهر، والله تعالى يتولى السرائر.“ ترجمہ: امام نووی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اےاسامہ! تمہیں صرف ظاہرکا مکلف بنایا گیا ہے اور اس کا جسے زبان بیان کرتی ہے، دل میں کیا ہے تمہیں اس کی معرفت نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا ان شخص کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کے ظاہر کا اعتبار نہ کرنےپر انکار کیا ، اور فرمایا: تم نے اس کا دل کیوں نہ چیر دیا تاکہ تم جانتے کہ وہ دل سے ایمان لایا اور اس کا اعتقاد رکھا یا اس کے دل میں ایمان ہی نہیں تھا، بلکہ محض زبانی کہہ رہا تھا؟ پس تم اس بات کا علم حاصل کرنے پر قادر نہیں، اس لیے زبان سے جو کہا جائے اسی پر اکتفا کرواور اس کے علاوہ (باطن) کی ٹوہ میں نہ پڑو۔ اس حدیث سے فقہ اور اصولِ فقہ کے اس معروف قاعدے کی بھی دلیل ملتی ہے کہ احکام کا فیصلہ ظاہری امور کی بنا پر کیا جاتا ہے، جبکہ پوشیدہ امور کا والی اللہ ہی ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 06، صفحہ 2260، دار الفکر، بیروت)
یونہی امام قاضی خان رحمہ اللہ تعالی شرح الزیادات میں فرماتے ہیں: ”العمل بالظاهر واجب ما لم يعارضه دليل فوقه.“ ترجمہ: ظاہرِ حال کے مطابق عمل کرنا واجب ہے، جب تک اس کے خلاف اس سے زیادہ مضبوط کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ (شرح الزيادات لقاضی خان، جلد 06، صفحہ 2011، مطبوعہ کراچی)
امور كو حتی الامکان درستی پر ہی محمول کیا جائے گا جب تک یقین یا ظنِ غالب کے ساتھ خطا ہونا ثابت نہ ہو۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے: ”أمره محمول على الصلاح حتى يتبين الخطأ بيقين أو بغالب الظن.“ ترجمہ:کسی شخص کے معاملے کو درستی پر محمول کیا جاتا ہے، جب تک کہ یقین یا ظنِ غالب کے ساتھ غلطی ثابت نہ ہو جائے۔ (البحر الرائق، جلد 01، صفحہ 308، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
جو اپنا مسلمان ہونا بتائے تو اس پر مسلمانوں والے احکام لگیں گےجب تک اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو اگرچہ باطنی طور پر اس کا بد عقیدہ ہوناممکن ہے۔ تفسیر احکام القرآن للجصاص میں ہے: ”أن من أظهر القول بالتوحيد وتصديق الرسول صلى الله عليه وسلم كان حكمه حكم المسلمين مع جواز اعتقاده للتشبيه المضاد للتوحيد.“ ترجمہ: جو شخص توحید اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ظاہر کرے تو اس کا مسلمانوں والا ہی حکم ہوتا ہے، اگرچہ ممکن ہے کہ اس کا تشبیہ والا عقیدہ (ایک گمراہ عقیدہ) ہو جو کہ توحید کے منافی ہے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 01، صفحہ 154، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ذبح اور گوشت کے باب میں ظاہر کا اعتبار کرنے اور امور کو درستی پر محمول کرنے کے متعلق جزئیات:
نئے نئے مسلمان ہونے والے کا ذبیحہ اور شبہ کا معاملہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی کہ کچھ لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں وہ ہمارے لئے گوشت بھیجتے ہیں حالانکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ انھوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں وہ گوشت کھانے کی اجازت دی۔ علماء نےفرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے حال کو صلاح (درستی)پر ہی محمول کیا جائے گا اگرچہ وہ جاہل ہو۔ لہذا مسلمان کا ذبیحہ ہمیشہ حلال ہی تصور ہوگا جب تک ذبح کا خلافِ شریعت ہونا ثابت نہ ہو جائےاور اس معاملے میں جوشک و شبہ بغیر کسی دلیل کے پیدا ہو، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
چنانچہ بخاری شریف کی حدیث مبارک ہے:”عن عائشة رضي اللہ عنها: «أن قوما قالوا للنبي صلى اللہ عليه وسلم: إن قوما يأتونا باللحم لا ندري أذكر اسم اللہ عليه أم لا، فقال: سموا عليه أنتم وكلوه» قالت: و كانوا حديثي عهد بالكفر.“ ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود بسم اللہ پڑھو اور اسے کھالو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے۔ (صحيح البخاري، جلد 07، صفحہ 92، دار طوق النجاۃ، بیروت)
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ ”التمہید“ میں لکھتے ہیں: ”هذا الحديث من الفقه: أن ما ذبحه المسلم ولم يعرف هل سمى الله عليه أم لا، أنه لا بأس بأكله، وهو محمول على أنه قد سمى، و المؤمن لا يظن به إلا الخير، وذبيحته وصيده أبدا محمول على السلامة حتى يصح فيه غير ذلك؛ من تعمد ترك التسمية ونحوه.“ ترجمہ: یہ حدیث فقہ کے باب سے ہے (اس حدیث پاک سے ایک مسئلہ معلوم ہوا) کہ مسلمان کے ذبح کیے ہوئے جانور کے بارے میں اگر معلوم نہ ہو کہ اس نے تسمیہ پڑھی تھی یا نہیں، تو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہےاس معاملے کو اسی بات پر محمول کیا جائے گا کہ اس نے تسمیہ پڑھی ہوگی۔ مؤمن کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھا جاتا ہےاور اس کا ذبیحہ اور شکار ہمیشہ درست ہی تصور کیا جائے گا حتٰی کہ اس کے خلاف کوئی بات ثابت ہو جائے، مثلاً جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑ دینا وغیرہ۔ (التمهيد لابن عبد البر، جلد 14، صفحہ 319، مؤسسۃ الفرقان للتراث الاسلامی، لندن)
مسلمانوں کے بازار سے ملنے والا گوشت اور شبہ کا معاملہ
فقہا ئےکرام فرماتے ہیں کہ کسی نے مسلمانوں کے بازار سے گوشت خریدا تو ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے اسے کھانا جائز ہےاور اسے مسلمان کا ذبیحہ ہی تصور کیا جائے گا اگرچہ اس بات کا وہم ہو کہ یہ مجوسی کا ذبیحہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ المبسوط للسرخسی میں ہے: ”من اشترى لحما في سوق المسلمين يباح له التناول بناء على الظاهر، وإن كان يتوهم أنه ذبيحة مجوسي.“ ترجمہ: کوئی شخص مسلمانوں کے بازار سے گوشت خریدے تو ظاہری حالت کی بنا پر اس کے لیے اسے کھانا جائز ہے، اگرچہ اسے یہ وہم ہو کہ شاید یہ کسی مجوسی کا ذبیحہ ہو۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 11، صفحہ 238، دار المعرفۃ، بیروت)
یہودی کا ذبیحہ اور شبہ کا معاملہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ کی طرف سےملنے والا گوشت کا ہدیہ بغیر کسی تفتیش کے قبول فرمایا اور اس میں سے کھایا۔ علماء نےفرمایا کہ ا س حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص کا طعام حلال ہوتا ہے اس سے بغیر کسی تفتیش کے کھانا لے کر استعمال کرنا جائز ہے۔(موجودہ دور کے نصاری(عیسائیوں) کی اکثریت خدا کی منکر اور دہریہ ہو چکی ہے۔نیز اب وہ شرعی ذبح کا التزام بھی نہیں کرتے اس لئے نصاری سے ملنے والا گوشت حلال شمار نہیں ہوگا اوریہودی اگرچہ ذبح کا التزام کرتے ہیں لیکن معلومات کے مطابق وہ ذبح کے وقت ہر جانور پر اللہ کا نام لینا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ ایک تکبیر سے ہی متعدد جانور ذبح کرنے کو درست سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہر جانور کے ذبح کے وقت جدا گانہ اللہ کا نام لینا ضروری ہوتا ہے ورنہ جانور حلال نہیں ہوتا۔لہذا ان کی طرف سے ملنےوالا گوشت بھی کھانے کی اجازت نہیں ۔ ہاں اگر کسی کتابی کے متعلق کنفرم معلوم ہو کہ وہ دہریہ نہیں بلکہ واقعی اہل کتاب میں سے ہےاور فلاں خاص جانور اس نے اللہ کا نام لے کر ہاتھ سے ذبح کیا ہے تو اب یہ ذ بیحہ حلال ہوگا۔ مزید معلومات کے لئے مفتی نظام الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ”مشینی ذبیحہ کا حکم “ کے صفحہ 32 اور 83 سے 99 تک کا مطالعہ کیجیے۔) نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاملات کو اصل اور ظاہرِ حال کے اعتبار سے حتی الامکان درستی پر ہی محمول کیا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو۔
چنانچہ بخاری شریف کی حدیث مبارک ہے: ”عن أنس بن مالك رضي اللہ عنه: «أن يهودية أتت النبي صلى اللہ عليه و سلم بشاة مسمومة فأكل منها، فجيء بها، فقيل: ألا نقتلها؟ قال: لا .“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودیہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ تناول فرمایا۔ پھر اس عورت کو پکڑ کر لایا گیا اور عرض کیا گیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (صحيح البخاري، جلد 03، صفحہ 163، دار طوق النجاۃ، بیروت)
مذکورہ بالا حدیث مبارک کی شرح بیان کرتے ہوئے عمدۃ القاری میں ہے: ”و في الحديث دلالة على أكل طعام من يحل أكل طعامه، دون أن يسأل عن أصله. و فيه: حمل الأمور على السلامة حتى يقوم دليل على غيرها، و كذلك حكم ما بيع في سوق المسلمين، و هو محمول على السلامة حتى يتبين خلافها.“ ترجمہ: "اس حدیث مبارک میں اس بات پر دلالت ہے کہ جس شخص کا دیا ہوا کھانا شرعاً حلال ہو، وہ کھانا اس کی اصل کے بارے میں پوچھ گچھ کیے بغیر کھایا جا سکتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاملات کو درستی پر ہی محمول کیا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو۔ اسی طرح مسلمانوں کے بازار میں فروخت کی جانے والی اشیاء کا بھی یہی حکم ہے کہ انہیں صحیح سمجھا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے خلاف کوئی واضح دلیل ثابت ہو جائے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد13، صفحہ 171، دارا لفکر، بیروت)
امام ابن جوزی رحمہ اللہ کشف المشکل میں لکھتے ہیں: ”الظاهر من المسلم والكتابي أنه يسمي، فيحمل أمره على أحسن أحواله، و لا يلزمنا سؤاله عن هذا.“ ترجمہ: مسلمان اور اہلِ کتاب کے بارے میں ظاہر حال یہی ہے کہ وہ (بوقت ذبح) اللہ کا نام لیتے ہیں، لہٰذا ان کے معاملے کو ان کی بہترین حالت پر محمول کیا جائے گا، اور ہم پر اس کی تفتیش کرنا لازم نہیں۔ (كشف المشكل من حديث الصحيحين، جلد 04، صفحہ 385، دار الوطن، الریاض)
فقہائے کرام نے کتابی کے ذبیحہ کو اسی وقت حرام قرار دیا جب ذبح کرتے ہوئے اسے غیر اللہ کا نام لیتے ہوئے سنے۔ اگر کچھ نہیں سنا اور نہ ہی دیکھاتو وہ گوشت حلال ہے۔
چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ”إنما تؤكل ذبيحة الكتابي إذا لم يشهد ذبحه و لم يسمع منه شيء أو سمع وشهد منه تسمية اللہ تعالى وحده؛ لأنه إذا لم يسمع منه شيئا يحمل على أنه قد سمى اللہ تبارك وتعالى و جرد التسمية تحسينا للظن به كما بالمسلم.“ ترجمہ: اہلِ کتاب کا ذبیحہ اسی وقت کھایا جائے گا جب ذبح کے وقت اسے نہ دیکھا گیا ہو اور نہ اس سے کوئی کلمہ سنا گیا ہو یا اگر سنا گیا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کا نام سنا ہو۔اس لیے کہ جب اس سے کچھ نہ سنا جائے تو حسنِ ظن کی بنا پر یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام لیا ہوگا اور تسمیہ کو خالص رکھا ہوگا، جیسا کہ مسلمان کے متعلق گمان کیا جاتا ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 05، صفحہ 46، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
تفتیش و چھان بین کہاں ضروری ہے؟
ذابح کے عقائد کی تفتیش اس صورت میں لازم ہوگی جب مقام، مقامِ شبہ ہوجیسے کسی نے ذابح کے متعلق ایسی خبر دی کہ وہ کفریہ بد عقیدگی میں ملوث ہے یا وہاں غالب آبادی ایسے لوگوں کی ہے۔ ورنہ کوئی وجہِ شبہ نہ ہو تو تفتیش کی بھی حاجت نہیں۔
جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے جب یہ سوال ہوا کہ سفر میں امام کے عقائد کی تصدیق کی ضرورت ہے یا نہیں؟ تو آپ نے اس طرح جواب ارشافرمایا: ”اگر محلِ شُبہ ہو تو پھر ضرورت ہے۔ جیسے کسی نے امام کے بد عقیدہ ہونے کی خبر دی اگرچہ خبر دینے والا عادل نہ ہو بلکہ مستور الحال ہو تو تحقیق کرنی ہوگی۔ یا وہ بستی ہی بد عقیدہ لوگوں کی ہے تو تحقیق کرنی ہوگی۔ ورنہ اگر کوئی وجہِ شُبہ نہیں تو بغیر تفتیش کے اس امام کے پیچھے نماز پڑھے۔ پھر اگر بعد میں اس کا بد عقیدہ ہونا ثابت ہو تو اعادہ فرض ہے۔“ (ملخصا) (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 617، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے، تفتیش و تحقیقات کی بھی حاجت نہیں، مسلمان کو رواکہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن ویحتمل وشاید ولعل کو جگہ نہ دے۔ ۔ ۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ شبہہ کی جگہ تفتیش وسوال بہتر ہے جب اس پر کوئی فائدہ مترتب ہوتا سمجھے۔ ۔ ۔ اور یہ بھی اسی وقت تک ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امراہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 512، 514، 526، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام ہل سنت علیہ الرحمۃ کا کلام ہم نے مختصرا نقل کیا ہے۔ تفصیل دیکھنی ہو توفتاوی رضویہ کا یہ مقام دیکھا جا سکتا ہے۔
کس بد عقیدہ کا ذبیحہ حرام ہے؟
واضح رہے کہ ہر بد عقیدہ کا ذبیحہ حرام نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی بد عقیدہ کا ذبیحہ حرام ہوتا ہے جس کے عقیدے کی خرابی کفریہ حد تک ہو اور وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہو۔ جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”جس بد مذہب کا عقیدہ حد کفر تک پہنچا ہو ، جیسے نیچری کہ وجودِ ملائکہ ووجودِ جن ووجودِ شیطان ووجود آسمان وصحت معجزاتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃو السلام وحشر ونشر وجنت و نار بطورِ عقائد اسلام وغیرہا بہت ضروریات دینیہ سے منکر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ و علی ہذالقیاس جو بد مذہب ضروریات دین اسلام میں سے کسی عقیدہ کا منکر ہو یا اس میں شک کرے یا تاویلیں گھڑے، باجماع تمام علماء اسلام وہ سب کے سب کافر ومرتد ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اس قسم کے ہر بدمذہب کا ذبیحہ مردار وحرام۔ ۔ ۔ ۔ ہاں جو مذہب دین اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شک نہ کرتاہو، صرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہو۔ ۔ ۔ ۔ وہ اگر چہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کاذبیحہ حلال ہے۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 245و 246، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0546
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 7 144ھ / 03 جولائی 2026ء