اسکارپین مچھلی کھانا اور اس سے بنی دوائی استعمال کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عقرب البحر (Scorpionfish) کو کھانے اور ادویات میں استعمال کرنے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: محمد سہیل (ہند)
جواب
"عقرب البحر" یہ مچھلیوں کی ایک قسم ہےجسے انگلش میں اسکارپین فِش (Scorpionfish) کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے اسکی علامت یہ بیان کی ہے کہ اس کا سر اور منہ باقی جسم کے مقابلہ میں نسبتاً بڑا ہوتا ہے، اور اس کے جسم پر کثیر کانٹے ہوتے ہیں اور اسے مچھلی ہی کہا جاتا ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک مچھلیاں اپنی تمام اقسام کے ساتھ حلال ہیں۔لہذا، یہ مچھلی بھی حلال ہے، اوراسے کھانا و دواؤں میں استعمال کرنا جائز ہے۔
البتہ، یہ بات ذہن میں رہے کہ اس مچھلی کی بعض اقسام کے بیرونی کانٹے زہریلے ہوتے ہیں، جو چھونے یا چبھنے و کھانے کی صورت میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ لہذا اس میں احتیاط لازم ہے۔
سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی حلال ہے،چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ”أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله.“ ترجمہ: رہے وہ جانور جو سمندر میں رہتے ہیں تو سمندر کے تمام جانداروں کا کھانا حرام ہے سوائے مچھلی کے؛ کہ اس کا کھانا حلال ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 05، صفحہ 35، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
مچھلی کی تمام اقسام حلال ہیں، چنانچہ اس کے متعلق فاکھۃ البستان میں علامہ ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”حكم السمك انه بجميع انواعه حلال. كذا في السراجية، والتاتارخانية، و الحمادية.“ ترجمہ: مچھلی کا حکم یہ ہے کہ یہ اپنی تمام اقسام کے ساتھ حلال ہے، ایسا ہی سراجیہ، تتارخانیہ، اور حمادیہ میں ہے۔ (فاکھۃ البستان، جلد 02، صفحہ 535، دار الفتح، بیروت)
عقرب البحر (Scorpionfish) كی معلومات:
عقرب البحر یہ ایک ایسی مچھلی ہے جو اپنے بڑے سر، کانٹے دار جسم اور زہریلے کانٹوں کے سبب پہچانی جاتی ہے۔ یہ عموماً گرم سمندروں میں پائی جاتی ہے اور اپنی بعض طبی خصوصیات کے باعث طب میں بھی اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس کا زہر فقط کانٹوں میں ہوتا ہے، اور مچھلی بنانے والوں کو ان کی معلومات ہوتی ہے تو وہ احتیاط سے ان کو الگ کر دیتے ہیں۔ دیگر جسم میں نہیں ہوتا کہ یہ کھانے کےلیے غیر محفوظ ہو، بلکہ یہ کئی ممالک میں دستیاب ہوتی ہے اور بطور خوراک استعمال کی جاتی ہے۔
چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے جامع ابن بيطار میں ہے: ”عقرب بحري، الزهراوي: عقرب البحر هو حوت صغير أغبر اللون إلى الحمرة، في رأسه شوكة بيضاء بها يضرب، و جسمه كثير الشوك، رأسه أكبر من جسده، رأيته و أخذته فلسعني في يدي و ألمني ألما شديداً كألم العقرب البري أو أشد.“ ترجمہ: عقرب بحری، زھراوی؛ یہ ایک سرخی مائل بھورے رنگ کی چھوٹی مچھلی ہے، اس کے سر میں ایک سفید کانٹا ہے جس سے یہ حملہ کرتی ہے، اور اس کے جسم پر کثیر کانٹے ہوتے ہیں، اس کا سر باقی جسم سے بڑا ہوتا ہے،میں نے اسے دیکھا توہاتھ میں لیا لیکن اس نے مجھے ڈنک مارا جس سے مجھے شدید تکلیف ہوئی جیسا کہ عام بچھو کا ڈنک ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی شدید درد تھا۔ (جامع ابن بیطار، جلد 02، صفحہ 175، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اس کے متعلق مشہور طبیب و فلسفی ابن سینا کی کتاب القانون فی الطب میں ہے: ”العقرب البحري أظن أنه يعرض من لدغة العقرب البحري انتفاخ البطن و هيئة استسقائية و ربما عرض منه خروج الريح بغير إرادة“ ترجمہ: عقرب بحری کے متعلق میرا گمان یہ ہے کہ اس کے ڈنک سے پیٹ پھول جاتا ہے، استسقائی کیفیت (یعنی جسم میں غیر معمولی طور پر پانی جمع ہونے یا سوجن کی حالت) لاحق ہو جاتی ہے، اور کئی بار بغیر محسوس کئے ہوا خارج ہو جاتی ہے۔ (القانون في الطب، جلد 03، صفحہ 337، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
دوسرے مسلمان طبیب امام محمد بن زکریا رازی اپنی کتاب الحاوی فی الطب میں لکھتے ہیں: ”العقرب البحري جيد لغشاوة البصر.“ یعنی عقربِ بحری (نظر تیز کرنے میں) آنکھ کی جھلی کےلیے مفید ہوتی ہے۔ (الحاوی في الطب، جلد 1، صفحہ 320، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اس کی بعض اقسام میں زہریلے کانٹوں کے متعلق ویکیپیڈیا میں ہے:
ـThe Scorpaenidae (also known as scorpionfish) are a family of mostly marine fishes that includes many of the world's most venomous species. As their name suggests, scorpionfish have a type of "sting" in the form of sharp spines coated with venomous mucus
یعنی Scorpaenidae (جسے scorpionfish یعنی عقرب مچھلیاں بھی کہا جاتا ہے) سمندری مچھلیوں کا ایک خاندان ہے، جس میں دنیا کی سب سے زیادہ زہریلی مچھلیاں شامل ہوتی ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ان مچھلیوں میں ڈنک کی طرح تیز کانٹے ہوتے ہیں، جن پر زہریلا مادہ چپکا ہوتا ہے۔
ویب سائٹ Business Insider کی ایک رپورٹ میں اسکارپین فِش( Scorpionfish) کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ مچھلی کھانے کےلیے محفوظ ہے۔ رپورٹ میں شیف کے الفاظ یوں نقل کیے گئے ہیں: "Scorpion fish is 100% safe to eat" یعنی سکارپین فش مکمل طور پر کھانے کےلیے محفوظ ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ عربی میں بعض اوقات عقرب الماء کا اطلاق کیکڑے (Crab) پر بھی کیا جاتا ہے، تو غلط فہمی و لاعلمی کے باعث بعض لوگ اسے عقرب البحر کہہ دیتے ہیں، حالانکہ وہ اس سے جدا سمندری جاندار ہےجو بالاتفاق مچھلی نہیں۔ لہذا اس کا کھانا حرام ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں "عقرب" بچھو کو بھی کہا جاتا ہے جو کہ سمندری جاندارنہیں، بلکہ حشرات الارض میں سے ہے، اور اس کا کھانا بھی حرام ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0499
تاریخ اجراء: 05 ذی القعدۃ 1447ھ / 23 اپریل 2025ء