logo logo
AI Search

مشک کیا ہے نیز مشک کھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا مُشک حلال ہے؟ اور اسے کھا سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مشک کیا ہے؟ اس کا کھانا حلال ہے یا حرام؟ سنا ہے کہ یہ ہرن کا خون ہوتا ہے۔

جواب

مشک ہرن سے حاصل ہونے والا انتہائی خوشبودار مادہ ہے۔ جس کو دوا اور خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص قسم کے نر ہرن کی ناف کے قریب ایک گلٹی(tumor)  نما تھیلی میں جمع ہوتا ہے جس کوعام زبان میں نافہ کہتے ہیں۔

مشک کا شرعی حکم یہ ہےکہ یہ پاک ہے اور اس کاکھانا مطلقاً حلال ہے۔ یعنی خواہ ذبح شرعی کے ساتھ ذبح کیے ہوئے ہرن سے حاصل ہو یا غیر مذبوح (زندہ یا مردہ) ہرن سے۔ اور مشک کی اصل اگرچہ خون تھی لیکن انقلابِ ماہیت یعنی اصل و حقیقت تبدیل ہو جانے کی وجہ سے اور خون سے خوشبو بن جانے کی وجہ سے مشک کو پاک و حلال شمار کیا جاتا ہے۔ جس طرح شراب ناپاک اور حرام ہے لیکن جب اس کی ماہیت و حقیقت تبدیل ہو جائے اور یہ سرکہ بن جائے تو اب یہ پاک وحلال ہو جاتی ہے۔ یونہی حلال جانور کا خون جب دودھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو وہ پاک و حلال ہو جاتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد اب یہ شبہ بھی دور ہو گیا کہ جب مشک خون ہے تو یہ حلال کیسے ہو سکتا ہے۔

مشک کی ماہیت کو بیان کرتے ہوئے علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات 1031ھ) فرماتے ہیں: ”و المسك دم يجتمع في سرته في وقت معلوم من السنة‘‘۔ یعنی: مشک وہ خو ن ہے جو سال کے ایک متعین وقت میں ہرن کے نافہ میں جمع ہوتا ہے۔ (فيض القدير، جلد 1، صفحه 547، تحت حديث رقمه 1121، المكتبة التجارية الكبرى، مصر(

مشک بہر صورت حلال ہے، جیسا کہ علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی رحمہ اللہ (سال وفات 1069ھ) لکھتےہیں: ’’و أكله حلال و لو من حيوان غير مذكي.‘‘ ترجمہ: مشک کھانا حلال ہے اگر چہ زکوۃ شرعی کے ساتھ ذبح کیے ہوئے جانور کے علاوہ سے حاصل ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوي علی مراقی الفلاح، صفحہ 170، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اسی طرح در مختار میں علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات 1088ھ) فرماتے ہیں: ’’و المسك طاهر حلال فيؤكل بكل حال.‘‘ ترجمہ: مشک پاک و حلال ہے۔ لہذا اس کو ہر حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ (الدر المختار، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، جلد 01، صفحہ 346، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس کے تحت مشک کے حلال ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ شامی رحمہ اللہ (سال وفات 1252ھ) رقم طراز ہیں: ’’لأنه و إن كان دما فقد تغير فيصير طاهرا كرماد العذرة، و المراد بالتغير الاستحالة إلى الطيبة و هي من المطهرات عندنا‘‘۔ یعنی اس کے پاک اور حلال ہونے کی علت یہ ہےکہ اگر چہ یہ خون تھا لیکن جب اس کی حقیقت بدل گئی تو یہ پاک ہو گیا جیسا کہ گوبر جب راکھ بن جائے تو راکھ پاک ہوتی ہے۔ یہاں حقیقت بدل جانے سے مرادخون کا خوشبو میں تبدیل ہو جانا ہے۔ اور خوشبو ہمارے نزدیک پاک چیزوں میں سے ہے۔ (رد المحتار، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، جلد 01، صفحہ 346،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی شامی کی اس عبارت کے تحت امام اہل سنت قدس سرہ نے اس کی ایک نظیر بیان کرتےہوئے فرمایا: ’’و کاللبن‘‘ یعنی اس کی مثال جانور سے نکلنے والا دودھ ہے۔ ( کہ یہ بھی انقلاب ماہیت کی وجہ سے پاک وحلال ہو جاتا ہے۔) (جد الممتار علی ردالمحتار، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ ، جلد 2، صفحہ 142، مکتبۃ المدینۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: JTL-1902
تاریخ اجراء: 28 صفر المظفر 1446ھ / 03 ستمبر 2024ء