logo logo
AI Search

پیٹ فوڈ میں حرام یا مشینی ذبیحہ ہو تو جانور کو کھلانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

Pet Food کا شرعی حکم

(جانوروں (Pets) کو بھی حلال گوشت کھلانا ضروری ہے یا مردار اور مشینی ذبیحہ بھی کھلا سکتے ہیں؟)

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہاں یوکے/یورپ میں بلی اور کتے کیلئے مختلف قسم کے Pet Food ملتے ہیں جو کئی شکلوں اور مختلف اجزاء سے تیار ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ سوکھی ڈلی یا بسکٹ نما ہوتے ہیں جو چاول، مکئی، آلو، سبزی پروٹین، اناج، مچھلی/ چکن/ بیف derivatives وغیرہ سے بنتے ہیں، بعض اوقات گوشت کے ٹکڑے گریوی یا جیلی میں ہوتے ہیں تاکہ خشک ہونے سے بچیں اور ذائقہ بہتر ہو۔ اسی طرح چکن، بیف، مٹن وغیرہ گوشت کے مخصوص حصے،جیسے: liver، heart ، kidney وغیرہ بھی پیکٹس یا فریج کی ٹھنڈی حالت میں دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کمپنیاں مخلوط خوراک تیار کرتی ہیں،جس میں خشک دانوں کے ساتھ فریزڈرائیڈ (Freeze-Dried) یا پکے ہوئے گوشت کے ٹکڑے ملائے جاتے ہیں۔تقریبا ان سب خوراکوں میں حیوانی اجزاء ،مثلا: گوشت،انتڑیاں، معدہ اور دیگر ماخوذات (animal derivatives) شامل ہوتے ہیں، لیکن مقدار میں فرق ہوتا ہے کہ کچھ میں حیوانی اجزاء غالب مقدار میں ہوتے ہیں، جبکہ بعض میں دوسری چیزیں، مثلا: اناج و سبزیاں وغیرہ غالب مقدار میں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ کنفرم نہیں ہوتا کہ یہ گوشت شرعی مذبوحہ یا مشینی ذبیحہ یا کفار کا ذبیحہ ہے؟ لہذا، اپنے پالتو جانور، جیسے: بلی، کتےوغیرہ کو یہ خوراک کھلانا جائز ہے یا نہیں؟

سائل: محمد فیصل (یوکے)

جواب

جانوروں کی مارکیٹ میں ملنے والی غذا (Pet Foods) چاہے وہ تنہا گوشت کے ٹکڑے ہوں یا گوشت اور دیگر اناج وغیرہ چیزوں سے ملا کر تیار کی گئی ہو، اسے خریدنا اور جانوروں کو کھلانا، جائز ہے۔ ہاں وہ غذا جس میں خنزیر یا میتہ غیر مذبوحہ کا گوشت یا کوئی بھی جزو شامل ہو وہ جانوروں کو کھلانا جائز نہیں ہے۔یونہی اگر معلوم ہو کہ یہ خوراک پاک ونجس (ناپاک) چیز کو مکس کر کے بنائی گئی ہے اور نجَس (ناپاک) چیز کی مقدار غالب یا برابر طور پر شامل ہے تو ایسی خوراک بھی جانور کو کھلانا جائز نہیں ۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ

حیوانی اجزاء اگر انسانی غذا کے طورپر استعمال کرنا چاہیں تو وہی حیوانی اجزاء استعمال کر سکتے ہیں جو حلال جانور کے طیب و پاکیزہ اجزاء ہوں اور اسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح بھی کر دیا گیا ہو۔ لیکن حیوانی اجزاء سے اپنے کھانے پینے کے علاوہ دیگر فوائد حاصل کرنا چاہیں تو اس میں درج ذیل تفصیل ہے:

(1) میتہ غیر مذبوحہ یعنی وہ جانور جسے ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ اپنی طبعی موت مر جائے۔ اس جانور سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مردار نجس وناپاک ہوتا ہے۔ ہاں اس مردار کے وہ اجزاء جو پاک ہیں جیسے بال، ناخن، بغیر رطوبت کے خشک ہڈی وغیرہ ان سے کھانے پینے کے علاوہ دیگر طریقوں سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔ یونہی اس کی کھال کو دباغت کے ذریعے پاک کر لیا جائے تو اس سے بھی نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔

نوٹ: جانور کو کسی ایسے عمل سے مارا گیا ہو جو ذبح نہ کہلائے اور اس سے خون جسم میں ہی رہ جاتا ہومثلا گلا گھونٹنا وغیرہ تو وہ بھی میتہ غیر مذبوحہ ہے۔ اس کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔

(2) میتہ مذبوحہ یعنی وہ جانورجس کوذبح تو کیا گیا ہولیکن ذبح شرعی ہونے کی شرائط میں کوئی کمی رہ گئی ہو جیسے مجوسی یا کسی غیر کتابی کافر نے جانور ذبح کیا یا مسلمان نے ذبح کیا اور جان بوجھ کر یاد ہونے کے باوجود ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا یا مشین سے ذبح کیا گیا جانور۔ ایسے جانور کا گوشت یا اس کا کوئی بھی جزو کھانا جائز نہیں لیکن اس کے گوشت وغیرہ اجزاء سے دیگر طریقوں سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ حتی کہ کسی جانور کو کھلانا بھی جائز ہے۔ کیونکہ مفتی بہ اور راجح قول کے مطابق ذبح سے جانور کا گوشت وغیرہ پاک ہو جاتا ہے اگرچہ وہ مشین سے یا کافر غیر کتابی کے ہاتھ سے ذبح ہو کیونکہ ذبح سے جانور میں موجود خون اور رطوبتیں نکل جاتی ہیں؛ جو اس کی ناپاکی کا اصل سبب ہیں۔

نوٹ: حرام جانور کو ذبح کر لیا گیا ہو تو وہ بھی میتہ مذبوحہ کے حکم میں ہے سوائے خنزیر کے۔ کیونکہ خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ نجس العین ہے، ذبح سے بھی وہ پاک نہیں ہو سکتا، لہذا اس سے کسی طرح نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔

مردار سے انتفاع کی ممانعت کے متعلق حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”لا تنتفعوا بشيء من الميتة“ ترجمہ:مردار سے کچھ نفع نہ اٹھاؤ۔ (شرح معانی الآثار، جلد 01، صفحہ 468،عالم الکتب، بیروت)

مردار کی کھال سے انتفاع کےجائز ہونے کے متعلق صحیحین وغیرہ کتب احادیث میں ہے: و اللفظ للبخاری ”عن ابن عباس رضي اللہ عنهما، قال: "وجد النبي صلى اللہ عليه و سلم شاة ميتة، أعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، فقال النبي صلى اللہ عليه و سلم: «هلا انتفعتم بجلدها؟» قالوا: إنها ميتة: قال: «إنما حرم أكلها»“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک مردار بکری ملی، جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "تم نے اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں اٹھایا؟ "صحابہ نے عرض کیا: "یہ تو مردار ہے! "نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔ (صحيح البخاري، جلد 02، صفحہ 128، دار طوق النجاۃ)

اس کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”(فقال: "إنما حرم أكلها"): قال ابن الملك: أي أكل الميتة، و أما جلدها فيجوز دباغته، و يطهر بها حتى يجوز استعماله في الأشياء الرطبة و الوضوء منه و الصلاة معه و عليه، و في شرح السنة فيه دليل لمن ذهب أي: أن ما عدا المأكول غير محرم الانتفاع كالشعر و السن و القرن، و نحوها“ ترجمہ: فرمایا کہ (صرف اس کا کھانا حرام ہے)۔ ابن الملک نے کہا: یعنی مردار کا کھانا حرام ہے، اور جہاں تک اس کی کھال کا تعلق ہے، تو اسے دباغت کرنا جائز ہے، اور اس کے ذریعے یہ پاک ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کا استعمال تر اشیاء میں، اس سے وضو کرنا اور اس کے ساتھ یا اس پر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ شرح السنہ میں ہے: اس سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ کھانے کے علاوہ(پاکی کی حالت میں) نفع اٹھانا حرام نہیں ہے جیسے بال، دانت، سینگ وغیرہ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 02، صفحہ 465، دار الفکر، بیروت)

اصطلاحِ شرع میں مردار کی وضاحت کرتے ہوئے امام جصاص علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”الميتة في الشرع اسم للحيوان الميت غير المذكى، و قد يكون ميتة بأن يموت حتف أنفه من غير سبب لآدمي فيه، و قد يكون ميتة لسبب فعل آدمي إذا لم يكن فعله فيه على وجه الذكاة المبيحة له“ ترجمہ: اصطلاح شرع میں مردار سے مراد وہ مردہ جانور ہے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو خواہ اس کا مرنا بغیر کسی انسانی سبب کےمحض طبعی موت ہو یا انسان کے کسی ایسے فعل سے ہو جو شرعی ذبیحہ کے درجہ میں نہ آتا ہو۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 01، صفحہ 130، دار الكتب العلمية، بيروت)

اس کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل“ ترجمہ: مردار سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں الا یہ کہ اس چیز کا خاص ہونا کسی دلیل سے ثابت ہو جائے۔ (أحكام القرآن، جلد 01، صفحہ 130، دار الكتب العلمية، بيروت)

مذکورہ حکم سے کھال کے خاص ہونے کے متعلق شرح مختصر طحاوی میں ہے: ”خصصنا منه الجلد المدبوغ بالسنة و على أنه بعد الدباغ عندنا ليس بميتة، لأن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: "دباغها ذكاتها"، و المذكى ليس بميتة“ یعنی اس حکم سے ہم نے دباغت شدہ کھال کو حدیث کے ذریعہ خاص کیا،اور اس وجہ سے بھی کہ ہمارے نزدیک دباغت شدہ کھال (حکماً) مردار نہیں ہوتی۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھال کی دباغت کرنا اسے ذبح کرنا ہے۔ اور ذبح شدہ جانور مردار نہیں ہوتا۔ (شرح مختصر الطحاوی للجصاص، جلد 01، صفحہ 295، دار البشائر الاسلامیۃ، بيروت)

میتہ کے بعض دیگر اعضاء کے مذکورہ حکم سے خاص ہونے کے متعلق تفسیر رازی میں ہے: ”قالوا: هب أن عموم قوله: حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ يقتضي حرمة الانتفاع بالصوف و العظم و غيرهما إلا أن هذه الدلائل تنتج الانتفاع بها، و الخاص مقدم على العام فكان هذا الجانب أولى بالرعاية“ یعنی علمائے احناف فرماتے ہیں اگر یہ تسلیم بھی کرلیں کہ "حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ" کا عموم مردار جانور کے بالوں و ہڈیوں وغیرہ سے انتفاع کے حرام ہونے پر دلالت کرتا ہے تو پھر بھی دیگر دلائل، ان سے نفع کا جواز ثابت کرتے ہیں اور خاص عام پر مقدم ہوتا ہے، تو یہ جانب رعایت کے زیادہ لائق ہے۔ (تفسير الرازي، جلد 05، صفحہ 196،دار احیاء التراث العربی، بیروت)

مردار کا ناقابلِ انتفاع ہونا نجس ہونے کے سبب ہے، چنانچہ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: لأنه  غير  منتفع  بها  لنجاستها“ یعنی مردارنجس ہونے کے سبب ناقابلِ انتفاع ہوتا ہے۔ (العناية شرح الهداية، جلد 06، صفحہ 426، دار الفکر، بیروت)

مردار میں نجاست کا اصل سبب خون و رطوبات ہیں، نہ کہ موت۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ”أن نجاسة  الميتة ليست لعين الموت، فإن الموت موجود في السمك و الجراد و لا يوجب التنجيس، و لكن لما فيها من الدم المسفوح“ یعنی مردار کی نجاست موت کے سبب نہیں ہوتی، کیونکہ موت مچھلی اور ٹڈی میں بھی پائی جاتی ہے بلکہ ان میں موجود بہتے خون کے سبب ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 01، صفحہ 79، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

میتہ غیر مذبوحہ سے یوں نفع اٹھانا بھی جائز نہیں کہ اسے اٹھا کر بلی کو دیا جائے۔ چنانچہ، قاضی خان وغیرہ کتب میں ہے: ”و لا يحمل الجيفة إلى الهرة و له أن يحمل الهرة إلى الجيفة“ ترجمہ: مردار کھانے کو بلی کی طرف نہیں لایا جا ئے گا بلکہ وہ چاہے تو بلی کو اس کی طرف (قریب) لا سکتا ہے۔ (فتاوى قاضيخان، جلد 03، صفحہ 371، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

پاکی کے سبب مردار سے بال و ہڈی وغیرہ چیزوں کے استثنی کے متعلق محیط برہانی میں ہے: ”و شعر الميتة و عظمها و صوفها و قرنها لا بأس بالانتفاع بها، و بيع ذلك كله جائز؛ لأنه لا حياة في هذه الأشياء، فلا يحلها الموت فلا يتنجس“ یعنی مردار کے بال و ہڈی اور اون و سینگ سے نفع حاصل کرنے میں حرج نہیں۔ اور ان کی بیع بھی جائز ہے۔کیونکہ ان اشیاء میں حیات نہیں ہوتی تو اس وجہ سے ان میں موت حلول نہیں کرتی تو یہ نجس بھی نہیں ہوتے۔ (المحيط البرهاني، جلد 06، صفحہ 350، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

میتہ مذبوحہ کی پاکی و ناپاکی کی تفصیل

ذبح سے خنزیر کے علاوہ دیگر حرام جانوروں کا گوشت پاک ہوتا ہے یا نہیں، یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ علماء کے دونوں طرح کے اقوال ہیں اوردونوں اقوال کی تصحیح بھی ہے اور دونوں ہی قابل عمل ہیں۔ لیکن جس قول کے مطابق ذبح سے حرام جانور کا گوشت پاک ہو جاتا ہے، اس میں آسانی بھی ہے اوروہ دلیل کے اعتبار سے قوی ہے کیونکہ ناپاکی کا اصل سبب دم مسفوح تھا۔ اور ذبح سے وہ نکل جاتا ہے۔ امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے پاکی والا قول اختیار کیا ہے۔ اور ان کی اتباع میں محقق و جید علماء نے یہی حکم مشینی ذبیحہ کے متعلق اختیار فرمایا ہے۔

چنانچہ، در مختار میں ہے: ”(لا) يطهر (لحمه على) قول (الأكثر إن) كان (غير مأكول) هذا أصح ما يفتى به و إن قال في الفيض الفتوى على طهارته (و هل يشترط) لطهارة جلده (كون ذكاته شرعية) بأن تكون من الأهل في المحل بالتسمية (قيل نعم، و قيل لا، و الأول أظهر)؛ لأن ذبح المجوسي و تارك التسمية عمدا كلا ذبح (و إن صحح الثاني) صححه الزاهدي في القنية و المجتبى، و أقره في البحر“ ترجمہ: اکثر کے قول پر ایسا مذبوح پاک نہیں ہوگا جبکہ وہ غیر ماکول اللحم جانور ہو۔ یہ اصح قول ہے جس پر فتوی دیا جاتا ہے، اگرچہ فیض میں اسکی طہارت پر فتوی دیا گیا ہے۔ اور کیا اس کی جلد کے پاک ہونے کےلیے شرعی ذبیحہ ہونا شرط ہے بایں طور پر کہ اہل سے محل میں تسمیہ کے ساتھ ذبح ہو۔ کہا گیا ہے کہ شرط ہے اور ایک قول یہ ہے کہ شرط نہیں، اور پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ کیونکہ مجوسی و عمدا تسمیہ چھوڑنے والے کا ذبیحہ گویا کہ ذبح ہی نہیں، اگرچہ دوسرے قول کی بھی تصحیح کی گئی ہے، اسے زاہدی نے قنیہ میں صحیح کہا اور بحر میں اسے برقرار رکھا گیا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 01، صفحہ 205، دار الفکر، بیروت)

اس کے تحت جد الممتار میں ہے: ”قال: أي: "الدرّ": تارك التسمية عمداً كلا ذبحٍ أقول: نعم! ذلك في حقّ آكل، أمّا طهارة الجلد فلا تتوقّف عليه، و إنّما هي لأنّ الذبح يفصل الرطوبات النجسة، و هذا يعمّ كلّ ذبح، فكان كما إذا دبغ مجوسي، فالأظهر ما اختاره الإمام قاضي خان، كما سيأتي“ ترجمہ: در کا قول: عمدا تارک تسمیہ کا مذبوحہ ذبح نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہے مگر یہ کھانے کے حق میں ہے، رہا اس سے جلد کا پاک ہونا تو وہ اس پر موقوف نہیں؛ کیونکہ ذبح سے نجس رطوبات زائل ہو جاتی ہیں، اور یہ سب ذبیحوں کو شامل ہے تو گویا یہ ایسے ہی ہے کہ مجوسی نے کسی کھال کو دباغت دی ہو تو اظہر قول وہ ہے جسے امام قاضی خان نے اختیار کیا ہے۔ (جد الممتار، جلد 02، صفحہ 113، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

درمختار کے مذکورہ مقام "هذا أصح ما يفتى به" کے تحت رد المحتار میں ہے:”أفاد أن مقابله مصحح أيضا، فقد صححه في الهداية و التحفة و البدائع، و مشى عليه المصنف في الذبائح كالكنز والدرر، والأول مختار شراح الهداية وغيرهم. وفي المعراج أنه قول المحققين“ ترجمہ: یہ افادہ کرتا ہے کہ اس کا مقابل بھی تصحیح شدہ قول ہےکہ ہدایہ و تحفہ و بدائع وغیرہ میں اسکی تصحیح کی گئی ہے، اور مصنف علیہ الرحمہ نے بھی ذبائح میں اسی کے مطابق قول کیا جیسا کہ کنز و درر میں ہے، اور پہلا قول شراحِ ہدایہ وغیرہ کا مختار ہے، اور معراج میں ہے کہ یہ محققین کا قول ہے۔ (رد المحتار، جلد 01، صفحہ 205، دار الفکر، بیروت)

رد المحتار کے قول "فقد صحّحه في الهداية و التحفة" کے تحت جد الممتار میں ہے: ”أقول: قال في "الهندية": (جميع أجزائه يطهر بالذكاة إلاّ الدم، هو الصحيح من المذهب، كذا في "محيط السرخسي")، و ظاهره أنّه هو ظاهر الرواية من أئمّة المذهب، فإن كان كذلك و قد قال في "الفيض": (إنّ الفتوى عليه، و صحّحه في أمثال "الهداية" و "البدائع" و قدّمه قاضي خان، فكان العمل به أولى)“ ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ ہندیہ میں کہا: جانور کے سب اجزاء ذبح سے پاک ہو جاتے ہیں سوائے خون کے، اور یہی صحیح مذہب ہے۔ ایسا ہی مبسوط سرخسی میں ہے۔ اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہی ظاہر الروایہ میں آئمہ مذہب سے ہے، تو اگر ایسا ہی ہے، اور فیض میں کہا کہ اسی پر فتوی ہے، اور امثالِ ہدایہ و بدائع وغیرہ نے اسکی تصحیح کی ہے اور امام قاضی خان نے اسکو مقدم کیا ہے تو اس پر عمل اولی ہے۔ (جد الممتار، جلد 02، صفحہ 112، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

انتفاع کی حرمت کا تعلق میتہ غیر مذکی سے ہے کہ نص اسی متعلق ہے۔اورایسے مردار سے نفع کی ممانعت کی وجہ اس کا ناپاک ہونا ہے۔ اسی وجہ سےحرام جانور سے ذبح کے بعد نفع اٹھانا جائز ہے۔ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ”و لأن غير  المذكى ميتة و هي منصوص عليها بالحرمة، و لأن الدم حرام لنجاسته لما تلونا، و هو غير متميز من اللحم، و إنما يتميز بالذكاة فلا بد منها ليتميز النجس من الطاهر. . . . و كما يثبت بالذبح الحل في المأكول يثبت به الطهارة في غيره، لأن الذكاة تنبئ عن الطهارة، و منها قوله صلى اللہ عليه و سلم «ذكاة الأرض يبسها» يعني أنها إذا يبست من رطوبة النجاسة طهرت و طابت كما أن الذبيحة بالذكاة تطهر و تطيب۔ ملتقطاً“

ترجمہ: کیونکہ (درحقیقت) غیر ذبح شدہ جانور مردار ہے، اور اس کی حرمت نص سے ثابت ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ خون نجس ہونے کے سبب حرام ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا، اور وہ (خون) گوشت سے جدانہیں ہوتا، ذبح کا عمل خون کو گوشت سے جدا کر دیتا ہے، پس ذبح کرنا ضروری ہے تاکہ نجس (ناپاک یعنی خون)، پاک (گوشت) سے جدا ہوجائے۔ اور جیسے ذبح سے ماکول اللحم میں (بشرائط دیگرہ) حلت ثابت ہوتی ہے تو اسی طرح حرام جانورں میں اس سے طہارت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ ذبح کرنا طہارت کا فائدہ دیتا ہے، اسی سے نبی علیہ السلام کا یہ فرمان ہے کہ ”زمین کی پاکیزگی اس کے خشک ہونے میں ہے۔“ یعنی جب نجاست کی تری خشک ہو جاتی ہے تو یہ پاک و صاف ہو جاتی ہےجیسا کہ جانور ذبح سے پاک و طاہر ہو جاتا ہے۔ (العناية شرح الهداية، جلد 09، صفحہ 486، دار الفکر، بیروت)

جانور کو ذبح کرنے سے اس کا گوشت مطلقاًپاک ہوجاتا ہے اگرچہ ذبح شرعی نہ ہو ،یہی قول راجح ہے، اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ”واگرازیں ہم گزریم وفرض کنیم کہ ذابح معاذ اللہ بہ نیت عبادت غیر کشت ومرتد گشت تاازینہم آنچہ لازم آید حرمت ذبیحہ است نہ نجاست پوست کہ نزد امام قاضی خان مذہب ارجح آنست کہ ذبح مطلقاً تطہیر جلد میکند اگرچہ ذابح مرتد یا مجوسی باشد۔ دربحرالرائق ست قد قدمنا عن معراج الدرایۃ معزیا المجتبی أن ذبیحۃ المجوسي و تارک التسمیۃ عمدا توجب الطھارۃ علی الأصح وإن لم یکن مأکولا وکذا نقل صاحب المعراج في ھذہ المسئلۃ الطھارۃ عن القنیۃ أیضا ھنا ویدل علی أن ھذا ھو الأصح أن صاحب النھایۃ ذکر ھذا الشرط بقیل معزیا إلی فتاوی قاضي خان۔ در فتاوائے امام اجل قاضی خان فخرالدین او زجندی ست مایطھر جلدہ بالدباغ یطھر لحمہ بالذکاۃ ذکرہ شمس الأئمۃ الحلواني رحمہ اللہ تعالی و قیل یجوز بشرط أن تکون الذکاۃ من أھلھا في محلھا و قد سمی اھ أقول فأفادبحکم المقابلۃ أن الذکاۃ في القول الأول مطلقۃ و لوغیر شرعیۃ و المسألۃ في اللحم تدل علی حکم الجلد بالأولی ففیہ ترجیحان لعدم اشتراط الشرعیۃ الأول ماذکر من ذکرہ القول الثاني بقیل و الثاني أنہ قدم الأول و ھو إنما یقدم الأظھر الأشھر کمانص علیہ في خطبتہ فیکون ھو المعتمد کمافي الطحطاوي و الشامي۔ أما قول الدر ھل یشترط لطھارۃ جلدہ کون ذکاتہ شرعیۃ قیل نعم و قیل لا و الأول أظھر لأن ذبح المجوسي و تارک التسمیۃ عمدا کلا ذبح اھ فأقول نعم ذلک في حق الحل أماطھارۃ الجلد فلا تتوقف علیہ و إنما ھی لأن الذبح یعمل عمل الدباغ في إزالۃ الرطوبات النجسۃکما في الھدایۃ بل لأنہ یمنع من اتصالھا بہ و الدباغ مزیل بعد الاتصال و لما کان الدباغ بعد الاتصال مزیلا و مطھرا کانت الذکاۃ المانعۃ من الاتصال أولی أن تکون مطھرۃکمافی العنایۃ و لاشک أن ھذا یعم کل ذبح فکان کما إذا دبغ مجوسي فالأظھر مااختارہ الإمام قاضیخان ھذا ولعل الأوفق بالقیاس و الألصق بالقواعد ماذکر تصحیحہ في التنویر و الدر و القنیۃ أیضا و بہ جزم الأکمل و الکمال و ابن الکمال في العنایۃ و الفتح و الایضاح و بالجملۃ ھما قولان مصححان و ھذا أوفق و ذاک أرفق فاختر لنفسک و الاحتیاط أولی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 03، صفحہ 257، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مشینی ذبیحہ کی پاکی کے متعلق مفتی محمدنظام الدین مصباحی دام ظلہ لکھتے ہیں: ”ایسے ذبح سے جانور کی چربی اور گوشت پوست کی پاکی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اکثر فقہا کا موقف یہ ہے کہ ایسے ذبح کے ذریعہ چربی اور گوشت پوست پاک نہ ہوں گے۔ یہ حضرات طہارت کے لئے ”ذبح شرعی“ کو لازم قرار دیتے ہیں۔ ان کے برعکس بہت سے فقہا یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ذبح شرعی ہو یا غیر شرعی، بہر حال طہارت کے لئے کافی ہے۔ یہی موقف صاحب خانیہ، صاحب ہدایہ، صاحب فیض، صاحب تحفہ وبدائع و غیر ہم کا ہے اور اسی کو فقیہ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمة والرضوان نے اختیار کیا ہے ۔ ۔ ۔ یہ بے مایہ بھی انھیں کی پیروی میں تیسیرا یہی موقف اختیار کرتا ہے کہ ذبح کا تحقق ہو جائے تو ذابح خواہ کوئی بھی ہو بہر حال جانور کا گوشت پاک ہو جائے گا، اور ٹھیک یہی حکم اس کی چربی کا بھی ہے ۔ ۔ ۔ مگر گوشت اور چربی کے پاک ہونے سے اس کا حلال ہونا نہیں لازم آتا، کیونکہ حلال ہونے کے لئے ذبح شرعی ضروری ہے جو یہاں مفقود ہے تو حاصل یہ ہوا کہ ناپاک خون اور رطوبتوں کے نکل جانے کی وجہ سے چربی تو پاک ہو گئی مگر ذابح (بجلی) کے نا عاقل اور غیر مسلم و غیر کتابی ہونے، نیز اس سے بسم اللہ کا ذکر نہ پائے جانے کی وجہ سے وہ میتہ کے حکم میں ہے اس لئے بالاجماع حرام ہے۔ ملتقطاً“ (مشینی ذبیحہ کا حکم، صفحہ 110 تا 114، برکات المدینہ، کراچی)

میتہ مذبوحہ سے نفع اٹھانا

میتہ مذبوحہ سے کھانے پینے کے علاوہ دیگر طریقوں سے نفع اٹھانے کا معاملہ بھی اس کے پاک اور ناپاک ہونے والے اختلاف پر مبنی ہے۔ جن کے نزدیک یہ پاک ہے ان کے نزدیک اس کی خریدو فروخت اور اس سے نفع اٹھانا بھی جائز ہے اور جن کے نزدیک یہ ناپاک ہے ان کے نزدیک بیچنا اور نفع اٹھانا بھی ناجائز ہے۔

جیسا کہ اوپربیان ہوا کہ امام اہل سنت اور ان کی اتباع میں محقق و جید علماء نے پاکی والا قول اختیار کیا ہے تو اس کے مطابق ایسے ذبیحہ جانور کی گوشت کی خریدو فروخت اور اس سے نفع اٹھانا بھی جائز ہوگا۔ ہاں خنزیر چونکہ ذبح سے بھی پاک نہیں ہو سکتا اس لئے اس سے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہوگا۔

اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے محیط برہانی میں ہے: ”و فرق بين الكلب و الحمار بين ما إذا كانا مذبوحين، و بينما إذا كانا ميتين، فلم يجز بيع لحمهما إذا كانا ميتين؛ لأن لحم الميت ليس بمنتفع إذ ليس له أن يطعم به سؤرة، قال عليه الصلاة و السلام: «لا تنتفعوا من الميتة بشيء» . و أما لحوم السباع فقد ذكر القدوري: أنه لا يجوز بيعها من غير فصل، و روي عن أبي حنيفة: أنه يجوز بيعها إذا ذبحت. و في «الفتاوي» : إذا كان السبع ميتاً لا يجوز بيع لحمه بلا خلاف، و إن كان مذبوحاً، ففيه اختلاف المشايخ، قال بعضهم: لا يجوز و به أخذ الفقيه أبو جعفر و الفقيه أبو الليث؛ لأن على قولهما: هذا اللحم نجس و قال بعضهم: يجوز؛ لأن هذا اللحم طاهر، وهو اختيار الصدر الشهيد“

ترجمہ: کتے و گدھے میں جب کہ یہ ذبح ہوں یا مردار ہوں تو ان دونوں حالتوں میں فرق بیان کیا گیا ہے؛کہ جب یہ مردار ہوں تو ان کے گوشت کی بیع جائز نہیں ہے کہ مردار کے گوشت سے نفع نہیں اٹھایا جا سکتا؛ جیسا کہ اسے بلی کو کھلانا جائز نہیں۔ کیونکہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: "مردار سے کچھ نفع نہ اٹھاؤ۔" جہاں تک درندوں کے گوشت کا تعلق ہے تو امام قدوری نے کہا کہ بغیر تفصیل بیان کئے انکی بیع جائز نہیں ہے، اور امام اعظم سے مروی ہے کہ جب ذبح کر دئیے جائیں تو بیع جائز ہے۔ اور فتاوی میں ہے کہ جب درندے مردار ہوں تو بلااختلاف ان کے گوشت کی بیع جائز نہیں، اور اگر ذبح کر دئیے گئے ہوں تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے؛بعض نے کہا جائز نہیں اور یہی قول فقیہ ابو جعفر و فقیہ ابو لیث کا ہے؛ کہ ان کے قول پر یہ گوشت نجس ہے، اور بعض نے کہا کہ جائز ہے کہ (ذبح سے) یہ گوشت پاک ہو چکا ہے اور یہی صدر الشہید کا مختار قول ہے۔ (المحيط البرهاني، جلد 06، صفحہ 349، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

نفع اٹھانے کے جواز کے متعلق حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق و رد المحتارمیں ہے: و اللفظ للاؤل ”و قال قاضي خان في البيع الفاسد من فتاواه و لا يجوز بيع لحم ما لا يؤكل لحمه و لا بيع جلده إن كان  ميتة، و إن كان مذبوحا فباع لحمه أو جلده جاز لأنه  يطهر  بالذكاة . . .و يباح الانتفاع به بأن يؤكل سنورا و ما أشبه ذلك إلا الخنزير فإنه لا يجوز بيع لحمه و لا بيع شعره و لا الانتفاع بلحمه، و إن كان مذبوحا و في بعض المواضع أنه لا يجوز بيع لحم السباع و الكلب، و ذلك محمول على ما إذا لم يكن مذبوحا أو ذاك قول بعض المشايخ اه.“ ملتقطا

یعنی امام قاضی خان نے اپنے فتاوی کے بیع فاسد میں فرمایا کہ حرام جانور کے گوشت و کھال کی بیع جائز نہیں جبکہ مردار ہو لیکن اگر ذبح کردیا جائے تو اب اسکے گوشت و جلد کو بیچنا جائز ہے کیونکہ وہ ذبح سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اس سے نفع اٹھانا جائز ہے جیسے بلی کو کھلانا اور اس کی مثل دیگر امور سوائے خنزیر کے ؛کیونکہ خنزیر کے گوشت و بالوں کی بیع اور اس کے گوشت سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے اگرچہ اسے ذبح کر دیا گیا ہو، اور بعض مقامات پر جو یوں ہے کہ درندوں اور کتے کے گوشت سے بھی انتفاع جائز نہیں ہے تو وہ اس پر محمول ہے کہ جب ان کو ذبح ہی نہ کیا گیا ہو یا پھر یہ بعض مشائخ کا قول ہے۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبيين الحقائق، جلد 01، صفحہ 33، المطبعۃ الکبری الامیریۃ، مصر)

چنانچہ اسی اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے میتہ مذبوح سے انتفاع کے متعلق فتاوی شامی میں ہے: ”(قوله يطهر لحمه و شحمه و جلده) حتى لو وقع في الماء القليل لا يفسده،  و هل  يجوز  الانتفاع  به  في  غير الأكل؟ لا يجوز اعتبارا بالأكل، و قيل يجوز كالزيت إذا خالطه و دك الميتة و الزيت غالب لا يؤكل و ينتفع به في غير الأكل هداية“ یعنی حرام جانور کا گوشت و چربی و کھال ذبح سے پاک ہو جاتی ہےحتی کہ اگر ماء قلیل میں یہ گر جائیں تو پانی ناپاک نہ ہوگا۔ کیا اس سے کھانے پینے کے علاوہ نفع اٹھانا جائز ہے؟کہا گیا: جائز نہیں ہے جیسا کہ کھانے کا حکم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جائز ہے جیسا کہ تیل میں اگر مردار کی چربی شامل ہو جائے اور اس میں تیل غالب ہو تو اس کا کھانے کے علاوہ بیرونی استعمال جائز ہوتا ہے، ہدایہ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 308،دار الفکر، بیروت)

قولِ ثانی کی ترجیح ذکر کرتے ہوئے ”و قيل يجوز“ کے تحت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”و هو الصحيح كذا في "الذخيرة" اهـ "هندية"“ یعنی یہی صحیح قول ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔ ہندیہ (جد الممتار، جلد 06، صفحہ 440، دارا لکتب العلمیہ، بیروت)

حرام جانور ذبح کیا ہو تو اس کا گوشت بلی کو کھلانا جائز ہے لیکن خنزیر اور طبعی موت مرنے والے مردار جانور کا گوشت نہیں کھلا سکتے۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”رجل  ذبح  كلبه أو حماره جاز أن يطعم سنوره من ذلك و ليس له أن يطعمه خنزيره أو شيئا من الميتة كذا في السراجية“ ترجمہ: کسی نے اپنے کتے یا گدھے کو ذبح کیا تو اس میں اسے اپنی بلی کو کھلانا جائز ہے، اور اس کےلیے اپنی بلی کو خنزیر کھلانا جائز نہیں ہے یا مردار کا کوئی جزو کھلانا جائز نہیں ہے۔ ایسا ہی سراجیہ میں ہے۔ ( الفتاوى الهندية، جلد 05، صفحہ 361، دار الفکر، بیروت)

خنزیر کے نجس و ناپاک ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ارشاد ہوا:(اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ) ترجمہ کنز العرفان: یا سور کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے۔ (پارہ 08، سورہ انعام، آیت: 145)

صورتِ مسئولہ کا تفصیلی حکم

جب یہ واضح ہوگیا کہ کافر کا ذبیحہ یا مشینی ذبیحہ پاک ہوتا ہے اور کھانے پینے کے علاوہ اس سے نفع حاصل کرنا بھی جائز ہے۔ تو اب سوال میں بیان کردہ خوراک (Pet Food) کا حکم واضح ہوگیا کہ وہ خوراک لے کر کتے یا بلی کو کھلانا جائز ہے۔ کیونکہ مغربی ممالک برطانیہ و یورپ وغیرہ میں عموما یہ حیوانی اجزاء مشینی ذبیحہ کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مفتی نظام الدین مصباحی دام ظلہ لکھتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ امریکی مصنوعات میں جو چربی ڈالی جاتی ہے وہ عموما مشینی ذبیحہ کی ہوتی ہے کہ وہی آسانی کے ساتھ یکجا وافر مقدار میں دستیاب ہے اس لئے ظن غالب یہ ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں صرف مذبوح کی چربی ملاتے ہیں۔“ (مشینی ذبیحہ کا حکم، صفحہ 121، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)

ا ور اوپر بیان ہو چکا ہے کہ مشینی ذبیحہ شرعا  پاکی کا حکم رکھتا ہے، گو ذبح شرعی نہ ہونے کی وجہ سے (انسانوں کےلیے) کھانا حرام ہے۔ لہذا جانور کو کھلانے کے طور پر اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔

ہاں اگر کسی خوراک میں خنزیر کا گوشت یا اجزاء شامل ہوں یا کسی خوراک کے بارے میں شرعی ثبوت سے معلوم ہو جائے کہ اس میں میتہ غیر مذبوحہ کا گوشت ہے یا نجس (ناپاک) اجزاءغالب یا برابر طور پر شامل ہیں تو ایسی خوراک کتے یا بلی کو بھی کھلانا جائز نہیں۔ کیونکہ خنزیر اور میتہ غیر مذبوحہ سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہوتا۔ یونہی جس میں غالب یا برابر اجزاء ناپاک ہوں وہ بھی مکمل طور پر نجس و ناپاک چیز کے حکم میں ہوتا ہے اور اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہوتا۔

نجس و متنجس اشیاء سے نفع کے متعلق حکمِ شرعی بیان کرے ہوئے مبسوط سرخسی میں ہے: ”مسألة الدهن إذا اختلط به ودك الميتة أو شحم الخنزير وهي تنقسم ثلاثة أقسام: فإن كان  الغالب  ودك  الميتة لم يجز الانتفاع بشيء منه لا بأكل و لا بغيره من وجوه الانتفاع لأن الحكم للغالب و باعتبار الغالب هذا محرم العين غير منتفع به . . . و كذلك إن كانا متساو يين لأن عند المساواة يغلب الحرام فكان هذا كالأول . . .فأما إذا كان الغالب هو الزيت فليس له أن يتناول شيئا منه . . .و يجوز له أن ينتفع بها من حيث الاستصباح ودبغ الجلود بها فإن الغالب هو الحلال فالانتفاع إنما يلاقي الحلال مقصودا.ملتقطا“

یعنی تیل میں مردار یا خنزیر کی چربی شامل ہونے کا مسئلہ تین صورتوں میں منقسم ہے۔ پس اگر مردار کی چربی غالب ہو تو اس سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں ہے خواہ کھانا پینا ہو یا اس کے علاوہ ہو۔ کیونکہ حکم غالب کے اعتبار سے ہوتا ہے اور غالب شے کے اعتبارسے یہ (تیل) عینِ حرام ہے جس سے اصلاً انتفاع جائز نہیں، اور اسی طرح اگر نجس و متنجس برابر ہو (تب بھی کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔) کیونکہ برابری کے وقت حرام کو غلبہ ہوتا ہے تو یہ صورت بھی حکم میں پہلے کی طرح ہے۔ بہرحال اگر تیل غالب ہو تو اس میں سے کھانا اگرچہ جائز نہیں مگر اس سے دیگر انتفاع جائز ہے جیسے چراغ جلانا، اور کھالوں کی دباغت وغیرہ۔ کیونکہ غالب حلال ہے تو مقصودی اعتبار سے یہ حلال سے ہی نفع ٹھانا ہوا۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 10، صفحہ 197،دار المعرفہ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0422
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447ھ / 15 اپریل 2026ء