پینگوئن حلال ہے یا حرام؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پینگوئن (Penguin) حلال ہے یا حرام؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پینگوئن (Penguin) حلال ہے یا حرام؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
پینگوئن کا شرعی حکم:
پینگوئن حلال پرندہ ہےجسے ذبحِ شرعی کے بعد کھانے میں حرج نہیں۔ کیونکہ یہ ان پرندوں میں شمار ہوتا ہے جن کے شکار والے پنجے نہیں ہوتے، بلکہ بطخ کی طرح تیرنے کےلیے جھلی نما پاؤں ہوتے ہیں۔ نیز یہ مردار نہیں کھاتا، بلکہ اسکی خوراک مچھلیاں وغیرہ سمندری جاندار ہوتی ہے۔ اور اس کی مثل پرندے، جیسے: بطخ، مرغابی، ہنس، بگلا اور شتر مرغ وغیرہ حلال ہیں، لہذا یہ بھی حلال ہے۔
مزید یہ کہ عام طور پر اس کی سیدھی چونچ (Beak) ہوتی ہے جس سے یہ شکار کرتا ہے اور علماء نے ایک استقرائی قاعدہ بیان کیا ہے کہ سیدھی چونچ والے سب پرندے حلال ہیں سوائے کوے کے۔ اس قاعدے سے بھی اس کا حلال ہونا ہی واضح ہوتا ہے۔
شکاری پنجے نہ رکھنے والے پرندوں کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے: ”و ما لا مخلب له من الطير، والمستأنس منه كالدجاج و البط، و المتوحش كالحمام و الفاختة و العصافير و القبج و الكركي و الغراب الذي يأكل الحب و الزرع و نحوها حلال بالإجماع، كذا في البدائع“ یعنی جن پرندوں کے شکاری پنجے نہیں ہوتے ان میں سے پالتو جیسے مرغی و بطخ اور وحشی جیسے کبوتر، فاختہ، چڑیاں، چکور، سارس، وہ غراب جو دانے اور سبزی کھاتا ہے اور اس جیسے دیگر پرندے باجماع حلال ہیں، ایسا ہی بدائع الصنائع میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، جلد 05، صفحہ 289، دار الفکر، بیروت)
بطخ کے متعلق علامہ ہاشم سندھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فاکھۃ البستان میں لکھتے ہیں: ”ان طير الماء اعم من البط و البط نوع منه . . . الطير الذي ليس له مخلب كالحمام و الاوز حل اكله. كذا في فتاوي قاضي خان، و فيه و في الحماديةايضا: و لا يؤكل ما في البحر سوي السمك و طيور الماء عندنا. انتهى“ ترجمہ: آبی پرندے بطخ سے عام ہیں، اور یہ ان کی ایک نوع ہے۔ جس پرندے کے (شکار کرنے والے) پنجے نہ ہوں، جیسے؛ کبوتر اور ہنس، اس کا کھانا حلال ہے۔ ایسا ہی قاضی خان میں ہے۔ اسی میں اور حمادیہ میں ہے کہ آبی جانوروں میں مچھلی و آبی پرندوں کے سوا کسی کو نہیں کھایا جائے گا۔ (فاکھۃ البستان، جلد 02، صفحہ 336 - 337، دار للدراسات و النشر، بیروت)
اسی میں ہے:”الغرنوق، مرغابي، الغرانيق جماعة...حكمه: قال في الخانية: لايحل من حيوان الماءعندنا الا السمك و طيور الماء.انتهي“ غرنوق مرغابی کو کہا جاتا ہے۔اس کی جمع غرانیق ہے۔ اس کا حکم:خانیہ میں ہے کہ پانی کے جانوروں میں سے سوائے مچھلی و آبی پرندوں کے ہمارے نزدیک کوئی جانور حلال نہیں۔ (فاکھۃ البستان، جلد 02، صفحہ 461، دار للدراسات و النشر، بیروت)
بگلے کے متعلق علامہ دمیری لکھتے ہیں: ”فإذا اجتمع إليه السمك الصغار، أسرع إلى خطف ما استطاع منها“ ترجمہ: جب اس کے قریب چھوٹی مچھلیاں جمع ہو جاتی ہیں تو یہ جلدی سے جتنا ممکن ہو ان کا شکار کر لیتا ہے۔ (حياة الحيوان الكبرى، جلد 02، صفحہ 438، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ایک سوال کے جواب میں شہزادہ اعلی حضرت مفتی اعظم ہندعلیہ الرحمۃ نے لکھا کہ بگلا حلال پرندہ ہے۔ (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 434، شبیر برادرز، لاہور)
فتاوی نوریہ میں ہے: ”پرندوں کے بارے میں ایک استقرائی اکثری قاعدہ یہ بھی ہے کہ جن کی چونچ مُڑی ہوئی ہے، طوطے کے سوا سب حرام ہیں، جیسے باز وغیرہ اورجن کی چونچ سیدھی ہے وہ کوے کے بغیر سب کے سب حلال ہیں،جیسے کبوتر، فاختہ، گیری، لالی، تلیر وغیرہ۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 03، صفحہ 381، 382، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
پرندے کی خصوصیات و علامات اور پینگوئن کے پرند ہ ہونے کی وضاحت:
ماہرین کے نزدیک پرندہ مندرجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؛
• اس کے پَرو بازو( ریش و جناح /Feathers & Wings ) ہوتے ہیں۔ بعض ماہرین نے بالخصوص پروں کو پرندوں کے خصوصی امتیازات سے گنوایا ہے۔
•یہ انڈے دیتا ہے۔
• اور اس کی چونچ ودم ہوتی ہے۔
چنانچہ، حیاۃالحیوان، فاکھۃ البستان اور محاضرات الادباء وغیرہ کتب میں ہے: و اللفظ للآخر ”و من الطائر الريش و الجناح و الذنب و المنقار و البيض و لذلك قيل:
كمثل نعامة تدعي بعيرا … تعاظمها إذا ما قيل طيري۔
فإن قيل إحملي قالت فإنّي … من الطير المرتب في الوكور“
یعنی؛ اور پرندوں میں پر، بازو، دم، چونچ، اور انڈوں کی صفات ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے، جیسے: شتر مرغ کی مثل کو اونٹ کہا جاتا ہے، اور اس کی عظمت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب اسے پرندہ کہا جائے۔ لیکن اگر اسے کہا جائے کہ بوجھ اٹھاؤ تو وہ کہتا ہے کہ میں پرندہ ہوں جو محفوظ جگہ میں رہتا ہے۔ (محاضرات الأدباء و محاورات الشعراء و البلغاء، جلد 02، صفحہ 710، دار الأرقم، بيروت)
شفاء العلیل میں ہے: ”فالطير كلها تشترك في الريش و الجناح“ یعنی تمام پرندے پَراور بازوں (ہونے )میں مشترک ہوتے ہیں۔
(شفاء العليل، جلد 02، صفحہ 231، دار عطاءات العلم، ریاض)
معتبر سائنسی ماہرین (Raven, Johnson, Losos & Singer) کی کتاب علم الأحياء (Biology) میں ہے: ”و الريش مميز للطيور دون غيرها من الحيوانات“ یعنی رِيش (پَر) پرندوں کےلیے مخصوص ہیں، نہ کہ دیگر حیوانات کےلیے۔ (علم الأحياء، صفحہ 700، وزارۃ التعلیم العالی، السعودیۃ)
ان خصوصیات و علامات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پینگوئن پرندہ ہی ہے؛ کیونکہ مرغی و بطخ وغیرہ دیگر پرندوں کی طرح اس کے بھی پَرو بازو (Feathers & Wings) ہوتے ہیں اور یہ انڈے بھی دیتا ہے اور اس کی چونچ و دُم بھی ہوتی ہے۔
پرندے کا اڑنہ سکنا پرندہ ہونے کے منافی نہیں:
مخفی نہ رہے کہ پینگوئن کا اڑ نہ سکنا اس کے پرندہ ہونے کے منافی نہیں۔ کیونکہ کئی دیگر پرندوں کو بھی فقہائے کرام نے پرندوں میں شمار کیا ہے حالانکہ یہ اڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جیسے بطخ اور مرغی وغیرہ۔ بلکہ شتر مرغ (ostrich) اسکی قریبی نظیر ہےکہ یہ پرندوں میں سے ہونے کے باوجود اصلاً اڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن پَر وغیرہ خصوصیات پرندوں والی ہیں، اور اسے بالاجماع حلال ہی کہا گیا ہے۔ لہذا یہی معاملہ پینگوئن کا بھی ہے۔
ماہرینِ حیوانات اور جدید سائنس کے مطابق بھی بعض پرندے ایسے ہیں جو اڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ کیوی (Kiwi) اور ایمو (Emu) نامی پرندے ہیں۔
بطخ کی اڑنے و نہ اڑنےوالی دونوں طرح کی قسموں کے متعلق محیط برہانی میں ہے: ”و ذكر الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة السرخسي رحمه اللہ في شرح كتاب الصلاة أن البط صنفان: صنف يعيش فيما بين الناس و لا يطير كالدجاج، اھ“ یعنی امام اجل شیخ شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے کتاب الصلاۃ کی شرح میں لکھا کہ بطخ کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جو لوگوں کے مابین پائی جاتی ہے اور وہ اڑتی نہیں ہے جیسا کہ مرغی کا معاملہ ہے، الخ۔ (المحيط البرهاني، جلد 01، صفحہ 107، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی طرح بطخ و مرغی وغیرہ کے پرندہ ہونے کے متعلق تحفۃ الفقہاء و بحر الرائق وغیرہ کتب احناف میں ہے: و اللفظ للاول ”الطيور كالدجاج و البط و الأوز“ یعنی مرغی، بطخ اور ہنس پرندوں میں سے ہیں۔ (تحفة الفقهاء، جلد 03، صفحہ 65، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
شتر مرغ کے متعلق فاکھۃ البستان میں ہے: ”يحل اكلها اجماعا“ یعنی اس کا کھانا بالاجماع حلال ہے۔(فاکھۃ البستان، جلد 02، صفحہ 504، دار الفتح لدراسات و النشر، بیروت)
حیاۃ الحیون میں علامہ دمیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”البط الذي لا يطير من الاوز“ یعنی وہ بطخ جو اڑ نہیں سکتی تو وہ ہنس (پرندے) کی نوع میں سے شمار ہوتی ہے۔ (حياة الحيوان الكبرى، جلد 01، صفحہ 180، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی میں ہے: ”(طير الماء) و يدخل فيه البط و الأوز و مالك الحزين قال أبو عاصم العبادي: و هو أكثر من مائة نوع و لا يدرى لأكثرها اسم عند العرب، فإنها لم تكن ببلادهم“ ترجمہ: (آبی پرندے) اس میں بطخ و ہنس اور بگلا بھی داخل ہے۔ ابو عاصم العبادی نے کہا: آبی پرندوں کی سو سے زائد اقسام ہیں اور ان میں سے اکثر کے نام اہلِ عرب میں معروف نہیں، کیونکہ یہ وہاں نہیں پائے جاتے۔ (حياة الحيوان الكبرى، جلد 01، صفحہ 274، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ماہر حیوانات جاحظ نے کتاب الحیوان میں لکھا: ”و رأينا طائرا لا يطير و هو وافي الجناح“ یعنی ہم نے ایسے پرندے بھی دیکھے جو اڑ نہیں سکتے لیکن وہ پورے پروں والے ہیں۔ (کتاب الحيوان للجاحظ، جلد 03، صفحہ 112، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
لوامع الدرر میں ہے: ”و الحمام الرومي الذي لا يطير“ یعنی رومی کبوتر جو اڑ نہیں سکتا۔ (لوامع الدرر في هتك استار المختصر، جلد 04، صفحہ 700، دار الرضوان،موريتانيا)
پینگوئن کے متعلق تفصیل:
پینگوئن ایک آبی پرندہ ہےجو زیادہ تر جنوبی قطب (Antarctica) اور دیگر سرد سمندری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ عموما برف پر نظر آتا ہے لیکن اپنی خوراک کےلیے سمندر میں تیراکی کرتا ہے۔ یہ اڑ نہیں سکتا، مگر پانی میں بہت تیزی سے تیرتا ہے۔ نیز اسکے شکار والے پنجے نہیں ہوتے، بلکہ بطخ کی طرح تیرنے والے جھلی نما پاؤں ہوتے ہیں۔ یہ انڈے دیتا ہے، اس کےدو بازو ہوتے ہیں جن کے ذریعہ یہ تیراکی کرتا ہے۔ نیز، اس کے سارے جسم پر چھوٹے چھوٹے پَر ہوتے ہیں جو اسے سخت سردی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
پینگوئن کے متعلق یہ سب معلومات و خصوصیات جانوروں اور سمندری حیات کے متعلق امریکی ادارہ" SeaWorld"کی ویب سائٹ سے اخذ کی گئی ہیں۔ نیز معلومات عامہ کی مشہور ویب سائٹ ویکیپیڈیا میں ہے:
"Penguins are a group of flightless semi-aquatic sea birds which live almost exclusively in the Southern Hemisphere. Only one species, the Galapagos penguin, lives at, and slightly north of, the equator. Highly adapted for life in the ocean water, penguins have countershaded dark and white plumage and flippers for swimming. Most penguins feed on krill, fish, squid and other forms of sea life which they catch with their bills and swallow whole while swimming".
یعنی پینگوئن ایک ایسی پرندوں کی جماعت ہے جو اڑ نہیں سکتے اور جزوی طور پر آبی ماحول میں رہتے ہیں، اور تقریباً مکمل طور پر جنوبی نصف کرہ میں پائے جاتے ہیں۔ صرف ایک نوع "گیلاپاگوس" پینگوئن، خط استوا کے پاس اور تھوڑا سا شمال میں رہتی ہے۔پانی میں زندگی کے لیے انتہائی موافق، پینگوئن کے جسم پر سیاہ اور سفید رنگ کے متضاد پر (countershaded plumage) ہوتے ہیں اور تیرنے کے لیے فلِپَر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر پینگوئن کرِل، مچھلی، اسکویڈ اور دیگر سمندری جانداروں پر خوراک پاتے ہیں، جنہیں وہ تیرتے ہوئے اپنی چونچ سے پکڑ کر پورا نگل جاتے ہیں۔
امریکی وفاقی تحقیقی و تعلیمی ادارہ National Ocean Service (NOS) کی ویب سائٹ کے مطابق بھی پینگوئن ایک پرندہ ہے جس کے پرہوتے ہیں۔ چنانچہ، ان کی ویب سائٹ میں ہے:
"Penguins are birds, so they do have wings. However, the wing structures of penguins are evolved for swimming, rather than flying in the traditional sense".
یعنی پینگوئن پرندے ہیں، اس لیے ان کے پَر ہوتے ہیں، لیکن یہ پَر اڑان کے لیےموزوں نہیں، بلکہ پانی میں تیرنے کے لیے بنے ہیں۔
پینگوئن کے پروں (Wings) کے متعلق ویکیپیڈیا پر ہے:
."On land, penguins use their tails and wings to maintain balance for their upright stance"
یعنی زمین پر پینگوئن اپنی دم اور پروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ سیدھا کھڑے رہنے میں توازن برقرار رکھ سکیں۔
Encyclopaedia Britannica میں Penguin کے پروں (feathers) کے متعلق لکھا ہے کہ:
."Adult penguins molt all of their feathers once a year"
یعنی بالغ پینگوئن ہر سال اپنے تمام پر (feathers)ایک بار بدلتے ہیں۔
پینگوئن کے انڈے دینے کے متعلق ویکیپیڈیا میں ہے:
"Most penguins lay two eggs in a clutch, although the two largest species, the emperor and the king penguins, lay only one."
یعنی زیادہ تر پینگوئن ایک دفعہ میں دو انڈے دیتے ہیں، لیکن اس کی دو سب سے بڑی اقسام ایمپرر (emperor) اور کنگ پینگوئن صرف ایک انڈا دیتے ہیں۔
قدیم عرب محققین کے کلام میں پینگوئن کا تذکرہ نہ ہونے کی وجہ:
حیوانات پر قدیم عرب مصادر جیسے، جاحظ و علامہ دمیری کی کتب میں پینگوئن کا ذکر نہیں ملتا، حالانکہ ان میں کئی دیگر آبی پرندوں کا ذکر ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن سیدہ (المتوفی: 458ھ) وغیرہ ماہرین نے تصریح کی کہ آبی پرندے عرب میں کم پائے جاتے ہیں تو اس وجہ سے اکثر ان کے نام نہیں ملتے۔ پھر یہ پرندہ تو پہلے زمانوں میں عام انسانوں کی پہنچ ہی سے دور تھا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اسےپہلی مرتبہ پندرہویں صدی عیسوی کے لگ بھگ یعنی آج سے قریباً پانچ سو سال پہلے دیکھا گیا، تب سے اس کانام پینگوئن مستعمل ہوا۔ البتہ جدید عربی میں اس کے مختلف نام ہیں، اور عام طور پر اسے "بطریق" کہا جاتا ہے۔
چنانچہ، القاموس (انکلیزی - عربی) میں ہے: ”بطريق، اكتع، طرسوح (طائر بحری): Penguin“ یعنی پنگوئن کو عربی میں بطریق، اکتع اور طرسوح (سمندری پرندہ) کہا جاتا ہے۔ (القاموس انکلیزی- عربی، صفحہ 550، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
پینگوئن کے متعلق المقدمات فی الجغرافیا الطبيعية میں ہے: ”و كثير من الطيور البحرية مثل طير البطريق "أوالبينجوين Penguin" . . . و جميع هذه الحيوانات تتغذى على ما تصطاده من أسماك و كائنات بحرية، و لهذا فإنها كثيرة التنقل فوق كتل الجليد التي تطفو فوق البحر . ملتقطا“ ترجمہ: کئی سمندری پرندے بھی ہیں، جیسے؛پینگوئن۔ یہ سب جانور مچھلیوں اور دیگر سمندری جانداروں کے شکار سے اپنی غذاء حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ سمندر پر تیرنے والی برف کی بڑی بڑی چٹانوں کے اوپر بکثرت نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں۔ (المقدمات في الجغرافيا الطبيعية، صفحہ 373، مركز الأسكندرية للكتاب، مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0474
تاریخ اجراء: 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء