logo logo
AI Search

ریڈ بل انرجی ڈرنک پینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا ریڈ بُل (Red Bull) انرجی ڈرنک (Energy drink) كا پینا جائز ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ انرجی ڈرنک "ریڈ بُل "(Red Bull) کو پینا حرام کہتے ہیں، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں ٹاورین نامی جز، بیل کے پیشاب سے اخذ کر کے شامل کیا جاتا ہے۔

کمپنی کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق اس کے یہ پانچ اجزاء (پانی، شوگر، کیفین، ٹاورین اوروٹامن بی) ہیں؛ جو نباتات و پٹرولیم بیس کیمیکلز سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ اور یہ ایک عالمگیر پروڈکٹ ہے جسے بشمول پاکستان کثیر ممالک میں مسلمان بھی پیتے ہیں۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس کا پینا ناجائز و حرام ہے؟

سائل: مقصود عطاری (لاہور)

جواب

پوچھی گئی صورت میں ریڈ بُل (Red Bull) انرجی ڈرنک (Energy drink) پینا جائز ہے۔

تفصیل:

سوال میں ریڈ بُل بنانے والی کمپنی کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق اس ڈرنک میں پانی، شوگر، کیفین، ٹاورین اوروٹامن بی شامل کئے جاتے ہیں۔ اور ان اجزاء میں سے پانی کی حلت واضح ہے جبکہ شوگر اور کیفین دونوں کو بھی نباتات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ بقیہ ٹاورین اور وٹامن بی، یہ دونوں عموما مصنوعی طریقے سے پٹرولیم بیس کیمیکلز سے اخذ کئے جاتے ہیں جو کہ قدرتی ذرائع سے حاصل کردہ مادے ہیں۔ اگرچہ ٹاورین کا جانوروں کے اعضاء سے حاصل کرنا بھی ممکن ہے مگر کمپنی نے یہ واضح کیا ہے کہ اس پروڈکٹ میں جانوروں سے اخذ کردہ کوئی چیز شامل نہیں کی جاتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان تمام اجزاء میں کوئی حرام جزو شامل ہونے کی معلومات نہیں ہیں۔ لہذا، اس ڈرنک کا پینا جائز ہے۔

نیز، شرعی اصول یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت و طہارت ہے، تو جب تک کسی چیز میں کسی ناپاک و حرام چیز کی شمولیت کا یقینی علم نہ ہو اس وقت تک اس چیز کے ناجائز ہونےکا حکم نہیں ہوتا۔ اور ایسے معاملات میں بلا دلیل و قرینہ کے پیدا ہونے والے شک و گمان کا اعتبار نہیں ہے۔ ہاں قرائن وغیرہ کی رو سے کسی حرام یا ناپاک چیز کی ملاوٹ کا اندیشہ ہو تو پھر تحقیق کا حکم ہوتا ہے۔ جبکہ سوال میں بیان کردہ صورت میں یہ کیفیت بھی نہیں ہے۔

پودوں وغیرہ نباتات کے متعلق رد المحتارمیں ہے: ”(قوله فيفهم منه حكم النبات) و هو الإباحة على المختار أو التوقف. و فيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره و تفتيره و إضراره، و إلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه“ ترجمہ: (شارح کا قول: اس سے جڑی بوٹیوں کا حکم معلوم ہو جاتا ہے۔) یعنی راجح قول میں وہ مباح ہوں گی یا (ایک مرجوح قول میں) توقف کیا جائے گا۔ اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ وہ نباتات نشہ والی، عقل میں فتور ڈالنے والی اور ضرر والی نہ ہوں وگرنہ انہیں اس قاعدہ  مذکورہ کے تحت داخل کرنا درست نہ ہوگا، اسی وجہ سے متنبہ رہنے کا حکم دیا گیا۔ (رد المحتار، جلد 06، صفحہ 460، دار الفکر، بیروت)

اشیاء میں اصل اباحت ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ہے: (هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ). ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔  (پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 29)

اس آیت کے تحت تفسیرات احمدیہ میں ہے: ”ففی الآیۃ دلیل علی کون الاباحۃ اصلا فی الاشیاء“. ترجمہ: پس اس آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (تفسیرات احمدیہ، صفحہ 12، مطبوعہ مکتبۃ الشرکۃ)

محض شک و ظن سے کسی چیز کی حرمت ثابت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ، فتاوی رضویہ میں ہے: ”شریعت مطہرہ میں طہارت وحلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک وظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع۔ ۔ ۔ اور یہ نفیس ضابطہ نہ صرف اسی قسم کے مسائل میں بلکہ ہزارہا جگہ کام دیتا ہے جب کسی کو کسی شے پر منع وانکار کرتے اور اُسے حرام یا مکروہ یا ناجائز کہتے سنو جان لو کہ بار ثبوت اُس کے ذمّہ ہے جب تک دلیل واضح شرعی سے ثابت نہ کرے اُس کا دعوٰی اُسی پر مردود اور جائز ومباح کہنے والا بالکل سبکدوش کہ اس کے لئے تمسک باصل موجود۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476 - 477، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اسی میں ہے: ”جب تک کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ رَیب و شبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 545، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بقیہ، کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ٹاورین کو جانوروں سے حاصل کرکے شامل کیا جاتا ہے تو اس کا بھی کوئی شرعی ثبوت نہیں، بلکہ اس کا مدار افواہوں پر ہے، اور خود بنانے والی کمپنی نے بھی اس کی تردید کی ہے۔

بلکہ اگر کمپنی کی تردید نہ بھی ہوتی تب بھی ٹاورین کو جس طرح جانوروں سے اخذ کیا جا سکتا ہے تو ایسے ہی اس کا دیگر حلال ذرائع سے بھی حاصل کرکے استعمال کرنا شائع وذائع ، بلکہ غالب ہے۔لہذا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ناپاک یا حرام ذریعہ اختیار کیا گیا ہے تب تک استعمال جائز رہے گا۔

مزید یہ کہ ٹاورین کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ "Taurus" (جس کا مطلب ہے سانڈ یا بیل) سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے بیل کے صفراء سے حاصل کیا گیا تھا اس لئے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ تو ممکن ہے کہ اس بنیاد پر قیاس آرائیاں کرتے ہوئے یہ افواہ پھیلی ہولیکن اب جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہو گیاہے کہ یہ گوشت، مچھلی، دودھ اور انسانی جسم وغیرہ کئی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم، فوڈ انڈسٹری میں غالب مصنوعی (synthetic) طریقے سے پٹرولیم کیمیکلز کے ذریعہ تیار کردہ ٹاورین استعمال کیا جاتا ہے؛ کیونکہ یہ جانوروں کی بنسبت ایک سستا، آسان اور محفوظ ذریعہ ہےجبکہ اسے جانوروں سے حاصل کرنا مہنگا، دقت طلب اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔

چنانچہ، ٹاورین کے متعلق ویکیپیڈٰیا میں ہے:

"It is named after Latin taurus (cognate to Ancient Greek ταρος, taûros) meaning bull or ox,[citation needed] as it was first isolated from ox bile in 1827 by German scientists Friedrich Tiedemann and Leopold Gmelin."

عمومی طور پر سائنسی طریقہ سے تیارکردہ ٹاورین استعمال ہونے کے متعلق ٹاورین بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ میں ہے:

"Most commercial taurine is produced synthetically through chemical processes, not extracted from animals. Strict quality control ensures pharmaceutical-grade purity, making it cost-effective and suitable for various certifications."

ریڈ بُل کمپنی کے وضاحتی بیان ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

ـ (1)"Red Bull Stimulant Drink is suitable for vegetarians. Red Bull Stimulant Drink does not contain any animal products or substances derived from animals".

 (2)"No. The taurine in Red Bull is not derived from animals. It is produced synthetically by pharmaceutical companies, which guarantees the highest quality standards".

 (3)"Red Bull Energy Drink Ingredients: Caffeine, B-group vitamins, Sugars, Taurine, Water".

"ان سب کا اردو میں مفہوم اوپر گزر چکا ہے۔"

اشکال:

کیا اس کا نام red bull ہونا اور اس پر بیل کی تصویر ہونا ، شبہ نہیں پیدا کرتا کہ اس میں جانور کا جزو ہے؟

جواب:

ظاہری طور پر اگرچہ نام اور تصویر سے شبہ پیدا ہوتا ہے، مگر معلومات کے مطابق کہ یہ نام اور تصویر کسی جانور کے جزو کے شامل ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض تجارتی پہچان اور قوت و توانائی کی علامت کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں۔ کیونکہ جب اس کمپنی کا آغاز ہوا تو اس مشروب کو مزدور طبقہ کےلیے شروع کیا گیا کہ وہ اس سے کام کے دوران قوت و توانائی حاصل کریں، اور جس ملک(تھائی لینڈ) میں اس کمپنی کا آغاز ہوا تو وہاں کی تہذیب و ثقافت میں بیلوں کو قوت و توانائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، تو اس میں سورج کے پسِ منظر کے ساتھ دو بیلوں کی تصویر دکھائی گئی جو آپس میں ایک دوسرے پرحملہ آور ہوتے ہیں، جو دراصل طاقت، توانائی اور مقابلے کی علامت ہے۔ لہذا اسی مناسبت سے اس ڈرنک کا نام ریڈ بُل رکھا گیا ہے جو درحقیقت تھائی زبان کے "Krating Daeng" (کریٹنگ ڈینگ) کا انگریزی ترجمہ ہے۔لہذا ڈرنک پر بیل کی تصویر ہونا یا اس کا نام ریڈ بل ہونا ، حرام جزو شامل ہونے کی دلیل نہیں۔

اور اسی طرح کے ایک فتوی میں عرقوں کا نام شراب رکھنے پر شبہہ کے متعلق امام اہلسنت نے تحقیق حال اور نام رکھنے کی وجہ کی طرف اشارہ فرمایا جس کا صاف مفہومِ مخالف یہ ہے کہ اگر نام رکھنے کی وجہ معلوم ہو اور تحقیقِ حال سے بھی ثابت ہو کہ اس کے اجزاء میں کوئی حرام یا ناپاک شے شامل نہیں، بلکہ یہ تصویر و نام رکھنے کی وجہ کوئی اور ہے تواب وہ شبہہ بھی نہ رہا۔

 جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے: ”اصل یہ ہے کہ اصل اشیاء میں طہارت واباحت ہے۔ جب تک نجاست یا حرمت معلوم نہ ہو حکم جواز ہے۔ ۔ ۔ ان عرقوں کا بنام شراب مشہور ہونا سخت شبہہ ڈالنے والا ہے۔ ۔ ۔ اگر شراب کا کچھ میل نہ ہوتا تو اسے شراب کانام دینے کی کیا وجہ ہوتی، تو جب تک حال تحقیق نہ ہو، الخ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 635، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ریڈ بل نام رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے، ویکیپیڈیا میں ہے:

"Krating Daeng 'red bull' or 'red gaur' is a non-carbonated energy drink. its derivative, Red Bull, is available in 165 countries.Chaleo took the name from the gaur (Thai: กระทิง krathing), a large wild bovine of Southeast Asia. The logo of the drink underlies its branding, with two red gaurs charging at each other backdropped by a sun.It was introduced in Thailand in 1976 as a refreshment for rural Thai labourers".

ترجمہ: Krating Daeng کا مطلب: "سرخ بیل" یا "سرخ جنگلی بیل" ایک نان کاربونیٹڈ انرجی ڈرنک ہے۔ جس کا جدید ورژن "Red Bull" دنیا کے 165 ممالک میں دستیاب ہے۔چالیو(بانی) نے اس کا نام "گاؤر" (تھائی زبان میں: กระทิง krathing) سے لیا، جو جنوب مشرقی ایشیا کا ایک بڑا جنگلی بیل ہے۔ اس مشروب کے برانڈ کی بنیاد اس کے لوگو پر رکھی گئی ہے، جس میں دو سرخ رنگ کے جنگلی بیل ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے دکھائے گئے ہیں، جن کے پیچھے سورج کا منظر ہوتا ہے۔ یہ مشروب 1976 میں تھائی لینڈ میں دیہی مزدوروں کے لیے بطور توانائی بخش مشروب متعارف کرایا گیا۔(ملتقطا)

نوٹ: مذکورہ بالا حکم اس ڈرنک کے بنیادی اجزاء اور عمومی حالت کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، مختلف ممالک میں اس کی الگ الگ پروڈکشن ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ اس میں کچھ دیگر اجزاء یا فوڈ ایڈیٹوز (Food Additives) بھی استعمال ہوتے ہوں ، تو ان کی نوعیت کے اعتبار سے حکم میں تبدیلی آ سکتی ہے جس کے متعلق یقینی معلومات حاصل کر کے قریبی دار الافتاء اہل سنت میں رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0296
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1447ھ / 30 جون 2024ء