الکحل والا ماؤتھ واش استعمال کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
الکوحل والا ماؤتھ واش (Mouth Wash) استعمال کرنے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ مذکورہ ماؤتھ واش استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ عموماً تو ماؤتھ واش منہ کی صفائی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن بعض ماؤتھ واش ایسے بھی ہوتے ہیں جو طبی مقاصد کے لئے مثلا منہ کے انفیکشن، مسوڑھوں کی تکلیف یا اس طرح کی کسی بیماری کے علاج کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ لہذا جب ان طبی مقاصد کے لئے ایسے ماؤتھ واش کو استعمال کیا جائے گا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی دوائی کا استعمال کرنا۔ اور فی زمانہ عمومِ بلوی کی وجہ سے الکوحل والی ادویات کی علماء نے اجازت دی ہے۔
کسی مرض و بیماری کو دور کرنے کا عمل علاج کہلاتا ہے۔ اورا س کے لئے جو چیز استعمال کی جائے اسے دوا کہتے ہیں۔ چنانچہ کتاب، التعريفات الفقهية میں ہے: ”العِلاج:المداواة لدفع المرض“ ملتقطا یعنی علاج یہ ہے کہ کسی دوا کے ذریعہ بیماری کو دور کرنا۔ (التعريفات الفقهية، صفحہ 150، دار الکتب العلمیہ)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ”و الدواء: ما داويته به“ یعنی دوا ،وہ چیز ہے جس کے ذریعے تو کسی کا علاج کرے۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیة، جلد11، صفحہ115، دارالسلاسل، الكويت)
فتاوی امجدیہ میں ہے: ”آج کے زمانہ میں نہ صرف ہند و پاک بلکہ پوری دنیا کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں عوام سے لے کر خواص تک سبھی الکحل آمیز دواؤں کے استعمال میں مبتلا ہیں اور جڑی بوٹی والے اطباء نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں اور مریضوں کا ڈاکٹروں کے پاس آئے بغیر علاج کرا لینا سخت دشوار اور باعثِ حرج ہے۔ لہذا آج کے دور میں جبکہ ابتلائے عام ہے دفعِ حرج کی بنا پر بغرضِ علاج ایسی دواؤں کا استعمال جائز ہو گا۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 104 - 105، مکتبہ رضویہ، کراچی)
کتاب ”مجلس شرعی کے فیصلے “ میں الکحل آمیز ادویات کے متعلق مجلس شرعی اشرفیہ کے علماء کرام کا فیصلہ یوں بیان کیا گیا ہے: ”اس عہد میں (اسپرٹ یا الکحل آمیز) انگریزی دواؤں کا استعمال عموم بلوی کی حد تک پہنچ چکا ہے، . . . . . . فیصل بورڈ کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤں کے استعمال کی بھی بوجہ عموم بلوی دفع حرج کے لئے اجازت ہے۔“ (مجلس شرعی کے فیصلے، صفحہ120،مطبوعہ دار النعمان)
مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”آج کے حالات میں ہومیو پیتھک دواؤں سے علاج شرعاً جائز و مباح ہے، کیونکہ دنیا کے مختلف حصوں میں اور خاص کر ہمارے ملک ہندوستان میں اس طریقۂ علاج کی افادیت ظاہر ہونے کے بعد کثرت سے اس کی طرف لوگوں کا رجوع ہوا ہے، بڑے بڑے ڈاکٹروں کے یہاں تو حیرت انگیز طور پر اژدھام کثیر ہوتا ہے اور سچائی یہ ہے کہ آج ہمارے عوام و خواص، اکابر و اصاغر بھی ان دواؤں کے استعمال میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اب ان سے احتراز حد درجہ دشوار ہو چکا ہے، بلکہ بہت سے امراض میں تو ہومیو پیتھک دواؤں سے اعراض ضررِ شدید کا باعث ہے پھر ان سے اعراض کر کے ایلو پیتھک کی طرف جائیں گے تو اُدھر بھی اسپرٹ اور الکحل سے چھٹکارا نہیں ملے گا، اس لئے فقہی اصطلاح کے مطابق الکحل آمیز دواؤں میں عمومِ بلوی ہو چکا ہے اور عمومِ بلوی کے باعث شریعتِ طاہرہ اپنے سخت احکام کو آسان، حتی کہ بہت سی حرام چیزوں کو مباح کر دیتی ہے، اس لیے آج الکحل آمیز دواؤں بشمول ہومیو پیتھک دواؤں سے علاج جائز و مباح ہے، مسلمان بلا دغدغہ یہ طریقۂ علاج اختیار کر سکتے ہیں۔“ (آپ کے مسائل، صفحہ 194، مطبوعہ مکتبہ برھانِ ملت، یو پی ھند)
نوٹ: الکحل والی ادویات کی اجازت کن فقہی اصولوں کی بنیاد پر دی گئی ہے، اس کی مزید تفصیل پڑھنا چاہیں تو دار الافتاء اہل سنت کا دوسرا فتوی ملاحظہ فرمائیں۔ جس کا ریفرنس نمبر UK64 ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0176
تاریخ اجراء: 13 رجب المرجب 1446ھ / 14 جنوری 2025ء