خشک روٹی سوکھی نجاست پر گرے تو ناپاک ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
خشک چیز سوکھی ہوئی نجاست پر گر جائے تو کیا وہ ناپاک ہوجائے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں خشک روٹی کا ٹکڑا اگر خشک ناپاکی (نجاست) پر گر جائے، تو اگر نجاست چھوٹ کر روٹی کے ٹکڑے کو نہیں پہنچتی، تو روٹی کا ٹکڑا پاک رہے گا۔
بہار شریعت میں ہے "غیر نماز میں نجس کپڑا پہنا تو حرج نہیں، اگرچہ پاک کپڑا موجود ہو ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس وقت ہے کہ اس کی نجاست خشک ہو، چھوٹ کر بدن کو نہ لگے، ورنہ پاک کپڑا ہوتے ہوئے ایسا کپڑا پہننا مطلقاً منع ہے کہ بلاوجہ بدن ناپاک کرنا ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 480، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
علامہ محمد بن محمد ابن امیر حاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”إذا غسل رجليه و مشى على لبد نجس أي: يابس، و لم يقف عليها و رجلاه مبتلتان بالماء، ففيه أيضاً هذا التفصيل بما عليه من التذييل، فيقال: إن ابتلت النجاسة و لم تصبهما البلة حتى إنه لم يظهر أثر البلة فيهما لا يتنجسان، و إن أصابتهما البلة حتى إنه ظهر أثر البلة فيهما يتنجسان۔ ۔ ۔ ۔ فلو كانت النجاسة في الأرض رطبة و رجله يابسة، ففي الخلاصة: تتنجس الرجل إذا ظهرت الرطوبة فيها. قال شيخنا رحمه الله: و يجب حمل الرطوبة على البلل لا النداوة
ترجمہ: اگر کسی نے اپنے پاؤں دھوئے اور ناپاک، یعنی خشک چٹائی پر چلتا ہوا گزر گیا اور اس پر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھی، جبکہ اس کے پاؤں پانی سے تر تھے، تو اس صورت میں بھی یہی تفصیل ہوگی۔ اگر نجاست گیلی ہوگئی، لیکن اس کی تری پاؤں تک اس طرح نہیں پہنچی کہ پاؤں پر اس تری کا اثر ظاہر ہو، تو پاؤں ناپاک نہیں ہوں گے۔ اور اگر نجاست کی تری پاؤں تک اس طرح پہنچ گئی کہ پاؤں پر اس کا اثر ظاہر ہوگیا تو پاؤں ناپاک ہوجائیں گے۔ اگر زمین پر نجاست گیلی ہو اور پاؤں خشک ہو تو خلاصہ میں ہے کہ اگر پاؤں پر تری کا اثر ظاہر ہوجائے تو پاؤں ناپاک ہوجائیں گے۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہاں تری سے مراد ایسا گیلا پن ہے جو اثر ظاہر کرے، محض نمی مراد نہیں۔ (حلبة المجلی في شرح منية المصلي،جلد 1، صفحہ 501، 502، دار الكتب العلمية، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں ”بھیگے ہوئے پاؤں نجس زمین یا بچھونے پر رکھے تو ناپاک نہ ہوں گے، اگرچہ پاؤں کی تری کا اس پر دھبہ محسوس ہو، ہاں اگر اس زمین یا بچھونے کو اتنی تری پہنچی کہ اس کی تری پاؤں کو لگی تو پاؤں نجس ہو جائیں گے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2،صفحہ 393، مکتبة المدینہ، کراچی)
دوسری مثال نجس بستر پر سونے اور پسینہ آنے والی ہے، جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے ”إذا نام الرجل على فراش فأصابه مني و يبس فعرق الرجل و ابتل الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في بدنه لا يتنجس و إن كان العرق كثيرا حتى ابتل الفراش ثم أصاب بلل الفراش جسده فظهر أثره في جسده يتنجس بدنه كذا في فتاوى قاضي خان“ ترجمہ: جب کوئی شخص ایسے بستر پر سویا کہ جسے منی پہنچی تھی اور وہ خشک ہو گئی پھر اس شخص کو پسینہ آیا اور بستر اس کے پسینےسے تر ہو گیا، تو اگر تری کا اثر اس کے بدن پر ظاہر نہیں ہوا تو بدن ناپاک نہیں ہو گا اور اگر پسینہ بہت زیادہ تھا یہاں تک کہ بستر تر ہو گیا پھر بستر کی تری اس کے بدن کو لگی جس سے نجاست کا اثر اس کے بدن پر ظاہر ہوا تو اس کا بدن ناپاک ہو جائے گا، یونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (الفتاویٰ الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 47، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا،اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 394، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5344
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ / 29 اگست 2026ء