خنزیر کے اجزاء سے بنی ہیپرن میڈیسن استعمال کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
خنزیر کے اجزاء سے تیار کردہ ہیپرن (heparin) میڈیسن کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہیپرن (Heparin) نامی ایک میڈیسن ہے جو انجيو گرافی (Angiography) اور ڈائیلاسز (Dialysis) میں استعمال ہوتی ہے، اس میڈیسن (Medicine) کا کام خون کو جمنے سے روکنا ہوتا ہےجس سے مریض کی جان بچتی ہے۔ لیکن یہ میڈیسن سور کی آنتوں کی اندرونی جھلی سے بنتی ہے، یوں ہی گائے کی آنتوں اور پھیپھڑوں سے بھی بنتی ہے، ہے لیکن یہ بہت کم ہے۔ پاکستان میں یہ میڈیسن چِین اور دیگر چند ممالک سے امپورٹ ہوتی ہےاور ان سب کا ماخذ سور کی آنتیں ہوتی ہیں یا پھر یہ سور ، گائے اور مصنوعی طور پر تیار ہامونز، ان سب کے مجموعے سے تیار ہوتی ہے۔ Cardiac patients کے لئے تو اس کا Alternate موجود ہے لیکن ڈائیلاسز (Dialysis) والوں کے لئے کوئی Alternate نہیں ہے، کیا اس کے استعمال کی اجازت ہوگی؟
(عزیر احمد، کراچی)
جواب
سوال کے جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ قرآن مجید کی صریح آیات کی رو سے خنزیر حرام قطعی اور نجس العین ہے۔ یعنی اس کا ایک ایک جزو ایک ایک بال ناپاک ہے۔ اور شرعی طور پر اس کے کسی جزو سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔ لہذا عام حالات میں خنزیر کے اجزاء سے تیار شدہ میڈیسن سے علاج کروانا جائز نہیں ہےکیونکہ اس صورت میں بلا ضرورت شرعی ایک ناپاک اور حرام چیز سے نفع اٹھانا لازم آئے گا جو کہ خلافِ شرع ہے۔
البتہ! اگر شدید مجبوری ہو کہ مریض کی جان جانے یا کوئی عضو تلف ہونے کا خطرہ ہو یا اس کی مثل کوئی مجبور ی کی صورت ہو تو صرف ضرورت کی حد تک اس طرح کی میڈیسن کے استعمال کی شریعت مطہرہ اجازت دیتی ہے، جبکہ یہ دو شرطیں پائی جائیں:
(1) ایک یہ کہ مریض کے لئے اس میڈیسن کے کے علاوہ کوئی حلال میڈیسن موجود نہ ہو۔
(2)دوسرا یہ کہ کوئی ماہر ،دین دار مسلمان ڈاکٹر اپنے تجربے کی بنیاد پر ظن غالب کے طور پر یہ خبر دے کہ اس مریض کا علاج اسی میڈیسن سے ہی ہوگا۔
جب یہ دو شرائط پائی جائیں گی تبھی اس قسم کی میڈیسن کے استعمال کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔
اس تفصیل کو سمجھنے کے بعد اب سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ہیپرن (Heparin) جو کہ خنزیر کی آنتوں کی جھلی سے یا خنزیر، گائے اور مصنوعی طور پر تیار ہامونز؛ ان تینوں کے مجموعے سے تیار ہوتی ہے ، اگر مریض کے لئے اس کا متبادل موجود اور میسر (دستیاب) ہو (جیسے Cardiac patients کے متعلق سوال میں بتایا گیا) تو ان کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔ کہ اب رخصت کے لئے درکار شرعی ضرورت ومجبوری کی صورت نہیں بن رہی۔ کیونکہ اس مریض کا علاج اب دوسری دوا سے ہو سکتا ہے۔
اور اگر مریض کے لئے ہیپرن (Heparin) کی کوئی متبادل میڈیسن موجود نہ ہو یا دستیاب نہ ہو (جیسے ڈائیلاسز (Dialysis) کے مریضوں کے متعلق سوال میں بیان کیا گیا) تو اب بقدر ضرورت اس میڈیسن کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ جبکہ ماہر مسلمان ڈاکٹراپنے تجربے کی بنیاد پر ظن غالب کے طور پر اس دوا کا استعمال لازمی قرار دے اور یہ بتائے کہ اس دوا سے مریض کا علاج ہو جائے گااور یہ اس کے مرض میں فائدہ دے گی۔
خنزیر کی حرمت قرآن مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے، چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ- فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾.ترجمہ کنز العرفان: تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا سب حرام کر دیاہے۔ پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پارہ 14، النحل، آیت 115)
اللہ پاک قرآن مجید میں خنزیر کے ناپاک ہونے کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ﴾ . ترجمہ کنز العرفان: یا سور کا گوشت (حرام پاتا ہوں) کیونکہ وہ ناپاک ہے۔ (پارہ 08، الانعام، آیت 145)
خنزیر کے کسی جزو سے انتفاع جائز نہیں، چنانچہ شرح مختصر الکرخی میں ہے: ”أجزاء الخنزير محكوم بنجاستها، ممنوع من الانتفاع بها.“ ترجمہ: خنزیر کے اجزا کی ناپاکی کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے نفع اٹھانا ممنوع ہے۔ (شرح مختصر الكرخي، جلد 01، صفحہ 159، دار أسفار، الكويت)
بدائع الصنائع میں ہے: ”(وأما) الخنزير: فقد روي عن أبي حنيفة أنه نجس العين، لأن اللہ تعالى وصفه بكونه رجسا فيحرم استعمال شعره وسائر أجزائه.“ ترجمہ:خنزیر کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ نجس ہے، کیونکہ اللہ پاک نے اسے ”رجس“ یعنی ناپاک چیز سے موصوف کیا ہے۔ پس اس کے بال اور تمام اجزاء حرام ہیں۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 01، صفحہ 63، دار الكتب العلمية، بيروت)
حدیث مبارکہ میں حرام اشیاء سے علاج کروانے سے منع فرمایا گیا ہے، چنانچہ امام ابو داؤد سنن ابو داؤد میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: إن اللہ أنزل الداء والدواء، و جعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام.“ ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک نے بیماری بھی اتاری ہے اور اس کی دوا بھی ، اور ہر بیماری کی دوا اتاری ہے۔ لہذا علاج کرو لیکن حرام چیز سے نہیں۔ (سنن أبي داود، جلد 04، صفحہ 07، المکتبۃ العصریۃ، بيروت)
تبیین الحقائق میں ہے: ”التداوي بالمحرم لا يجوز .“ ترجمہ:حرام چیز سے علاج جائز نہیں ہے۔ ( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد 01، صفحہ 28، المطبعة الكبرى الأميرية، القاهرة)
تبیین الحقائق میں ہے:”و إنما يجوز ذلك بالأشياء الطاهرة، و لا يجوز بالنجس كالخمر، وكذا كل تداو لا يجوز إلا بالطاهر.“ ترجمہ: علاج محض پاک اشیاء سے جائز ہے، نجس اشیاء سے جائز نہیں جیسے خمر نجس ہےایسے ہی ہر علاج صرف پاک چیز سے ہی جائز ہے۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد 06، صفحہ 32، المطبعة الكبرى الأميرية، القاهرة)
شرعی ضرورت کی صورت میں شرائط کے ساتھ حرام اشیاء سے علاج کی شریعت مطہرہ رخصت دیتی ہے، چنانچہ النھایۃ شرح الھدایۃ میں ہے: ”وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدّم والميتة للتّداوي؛ إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه، ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه . . . . وذكر في الذّخيرة: و ما قاله الصدر الشهيدبأن الاستشفاء بالحرام حرام فهو غير مجرى على إطلاقه؛ فإن الاستشفاء بالمحرّم إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاء، أما إذا علم أن فيه شفاءو ليس له دواء آخر غيره موجود يجوز الاستشفاء.“ ترجمہ: التهذيب میں ہے کہ مریض کے لیے علاج کی غرض سے پیشاب، خون اور مردار کا کھانا پینا جائز ہے، بشرطیکہ کوئی مسلمان طبیب اسے بتائے کہ اس میں شفا ہے، اور اس کے قائم مقام کوئی مباح دوا موجود نہ ہو۔ اور الذخیرہ میں ذکر کیا کہ امام صدر الشہید رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ ”الاستشفاء بالحرام حرام“ یعنی حرام چیز سے علاج حرام ہے، مطلق نہیں ہے۔ کیونکہ حرام چیز سے علاج اس وقت ناجائز ہے جب اس میں شفا معلوم نہ ہو، لیکن اگر معلوم ہو کہ اس میں شفا ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوا موجود نہ ہو تو اس سے علاج جائز ہے۔ (النهاية في شرح الهداية، جلد 10، صفحہ 497، مطبوعہ پشاور)
علامہ شامی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں: ”يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر.“ ترجمہ: اگر حرام چیز سے علاج ہونے کا علم ہو اور کوئی اور دوامعلوم نہ ہو تو اب حرام چیز سے علاج جائز ہوگا۔ ( رد المحتار علی الدر المختار،جلد 01، صفحہ 210، دار الفکر، بیروت)
جب حرام اجزء پر مشتمل میڈیسن سے علاج ہونے کا ظن غالب ہو تو ممانعت نہیں رہتی، چنانچہ فتح القدیر میں ہے: ”و لا يخفى أن حقيقة العلم متعذرة فالمراد إذا غلب على الظن وإلا فهو معنى المنع.“ ترجمہ: اور یہ ظاہر ہے کہ حقیقی یقین حاصل کرنا دشوار ہے، لہٰذا علم سے مراد غالب گمان ہے، ورنہ اصل حکم ممانعت ہی ہے۔ (فتح القدير للكمال بن الهمام، جلد 03، صفحہ 446، مطبعة مصفى البابي الحلبي، مصر)
تجربے سے ظن غالب حاصل ہو جاتا ہے، چنانچہ علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”و الظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن و هو شائع في كلامهم .“ ترجمہ: ظاہر یہ کہ تجربہ سے ظن غالب حاصل ہو جاتا ہے، نہ کہ یقین، مگر یہ کہ علم سے مراد غالب ظن ہو، اور یہ کلام فقہاء میں عام ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،جلد 01، صفحہ 210، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”اگر ناجائز چیز کو دوا کے لئے استعمال کرنا بھی ہو تو، وہاں کہ اس کے سوا دوا نہ ملے، اوریہ امر طبیب حاذق مسلمان غیر فاسق کے اخبار سے معلوم ہو۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 22، صفحہ 154، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جب جان ضائع ہونے کا خوف ہو تو ضرورت شرعی متحقق ہو جاتی ہے، لہذا اس صورت میں خنزیر وغیرہ حرام اشیاء سے علاج کی بقدر ضرورت اجازت ہوگی۔ جیسا کہ المبسوط للسرخسی میں ہے: ”أن موضع الضرورة مستثنى من الحرمة الثابتة بالشرع و حرمة الخمر ثابتة بالشرع كحرمة الميتة، و لحم الخنزير، و لا بأس بالإصابة منها عند تحقق الضرورة بقدر ما يدفع الهلاك به عن نفسه.“ ترجمہ: ضرورت کی صورت شریعت سے ثابت شدہ حرمت سے مستثنی ہوتی ہے، اور شراب کی حرمت بھی شریعت سے ثابت ہے جیسے مردار اور سور کے گوشت کی حرمت ثابت ہے۔ پس جب شرعی ضرورت متحقق ہو جائے تو ان چیزوں میں سے اتنی مقدار استعمال کرنے میں حرج نہیں جو اپنی جان کو ہلاکت سے بچانے کے لیے کافی ہو۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 24، صفحہ 28، دار المعرفۃ، بیروت)
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: ”و إن أكره على أن يأكل الميتة أو يشرب الخمر، إن أكره على ذلك بحبس أو ضرب أو قيد لم يحل له إلا أن يكره بما يخاف منه على نفسه أو على عضو من أعضائه، فإذا خاف على ذلك وسعه أن يقدم على ما أكره عليه" و كذا على هذا الدم و لحم الخنزير، لأن تناول هذه المحرمات إنما يباح عند الضرورة كما في المخمصة . . . . و لا ضرورة إلا إذا خاف على النفس أو على العضو.“ ترجمہ: اگر کسی کو مردار کھانے یا شراب پینے پر مجبور کیا جائے، تو اگر یہ اکراہ مارپیٹ یا حبس و قید کے ذریعے ہو تو اس کے لیے یہ چیزیں حلال نہیں ہوں گی، مگر یہ کہ اس پر ایسا اکراہ کیا جائے جس سے اسے اپنی جان یا اپنے کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو۔ پس جب اسے جان یا عضو کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے وہ کام کرنا جائز ہوگا جس پر اسے مجبور کیا گیا ہے۔ اسی طرح خون پینے اور خنزیر کا گوشت کھانے کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ ان حرام چیزوں کا کھانا صرف ضرورت کے وقت جائز ہوتا ہے، جیسا کہ مخمصہ یعنی شدید بھوک کی حالت میں۔ اور ضرورت اسی وقت متحقق ہوتی ہے جب جان یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خوف ہو۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، جلد 03، صفحہ 273، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
واضح رہے کہ اگر حرام دوا سے علاج ہو جانے کا ظنِ غالب نہ ہو بلکہ محض گمان ہو تو پھر حرام دوا استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ جیسا کہ علامہ شامی رحمہ اللہ در مختار کے قول ”و ظاهر المذهب المنع“ کے تحت فرماتے ہیں: ”محمول على المظنون.“ ترجمہ:ممانعت كا حكم اس صورت پر محمول ہے جب علاج ہونے کا محض گمان ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار،جلد 01، صفحہ 210، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0525
تاریخ اجراء: 23 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/ 09 جون 2026ء