چیونگ گم کے اجزاء معلوم نہ ہوں تو چیونگ گم کھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چیونگ گمز پر اجزاء مینشن نہ ہوں، تو اس کو کھانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
چیونگ گمز پر اکثر ingredients یا ان کے سورسز واضح طور پر مینشن نہیں ہوتے،اگر ہمیں معلوم نہ ہو کہ ان میں استعمال ہونے والے ingredientsحلال ہیں یا حرام؟تو ایسی چیونگ گمز کھانا شرعا کیسا ہے؟
جواب
اگر کسی پروڈکٹ کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ خاص پروڈکٹ حلال و پاک اجزاء (Ingredients) سے بنی ہے یا حرام یا ناپاک اجزاء سے؟ تو وہ پروڈکٹ حلال و پاک ہے، اور اس کا کھانا بھی جائز ہے، کیونکہ اشیامیں طہارت (پاک ہونا) و حلت (جائز و حلال ہونا) اصل ہے، اس لیے جب تک کسی شے میں کسی حرام یا ناپاک چیز کی شمولیت کا یقینی علم نہ ہو، اس وقت تک اس شےکے حرام و ناپاک ہونےکا حکم نہیں ہو سکتا۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے، محض شبہ پہ نجس و ناجائز نہیں کہہ سکتے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 620، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’شریعتِ مطہرہ میں طہارت و حلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت و نجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک و ظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ طہارت و حلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور، نرا ظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے، جس پر ہزارہا احکام متفرع۔“ (فتاوی رضویہ، ج 4، ص 476، 477، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5390
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاول 1448ھ / 07 ستمبر 2026ء