چکن کولیجن والے سپلیمنٹس کھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چکن سے حاصل شدہ کولیجن (collagen) والے سپلیمنٹس (Supplements) کھانے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پرو ڈکٹ ہے جس کا نام "+Liquid BioCell® Life" ہے۔ یہ کولیجن(collagen) کا بنا ہوا ہے۔ اس کے متعلق کچھ تفصیل نیچے دی گئی ہے، براہ کرم اس پروڈکٹ کے استعمال کے متعلق رہنمائی فرما دیجیے۔
کولیجن (collagen) ایک اہم پروٹین ہے جو جسم کے جوڑوں، ہڈیوں اور کارٹلیج (Cartilage) کو مضبوطی دیتا ہے۔ اس پروڈکٹ میں چکن اسٹرنل کارٹلیج (Chicken Sternal Cartilage) سے حاصل شدہ کولیجن استعمال ہوتا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا ٹائپ II کولیجن خاص طور پر جوڑوں کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔ یہ مردہ (ذبح شدہ) مرغی کے سینے کی ہڈی کے کارٹلیج سے لیا جاتا ہے۔ہائیڈرولائزڈ کولیجن (Hydrolyzed Collagen) میں اس پروٹین کو چھوٹے حصوں (پیپٹائیڈز) میں توڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ آسانی سے جذب ہو سکے۔ یہ عموماً سپلیمنٹس (Supplements) میں استعمال ہوتا ہے جو جوڑوں کے درد، اکڑاؤ اور حرکت کو بہتر بنانے کے لیے لیے جاتے ہیں، اگرچہ اس کے اثرات ہر ایک میں یکساں نہیں ہوتے۔
سائل: صہیب مدنی (یوسٹن، امریکہ)
جواب
اگر یہ معلوم ہے کہ ”Liquid BioCell® Life+“ نامی پروڈکٹ میں استعمال ہونے والا کولیجن (collagen) مرغیوں کو شرعی طریقے پر ذبح کر کے حاصل کیا گیا ہے تو ان سپلیمنٹس (Supplements) کا کھانا حلال ہوگا۔
اور اگر معلوم ہے کہ ان میں استعمال ہونے والا کولیجن مردار مرغیوں سے حاصل کیا گیا ہے یا ایسی مرغیوں سے جنہیں مشین سے یا کسی اور غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے تو ایسے سپلیمنٹس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ یونہی اگر اس حوالے سے کچھ معلومات نہ ہوں کہ کولیجن کس طرح کی مرغی سے حاصل کیا گیا ہے تو بھی ایسے سپلیمنٹس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ حلال جانور کے اجزاء بھی اسی وقت حلال ہوتے ہیں جب ہمیں جانور کا شرعی طریقے سے ذبح ہونا معلوم ہو۔ اور معلوم نہ ہونے کی صورت میں وہ اجزاء مردار جانور کے حکم میں ہوتے ہیں۔
مردار جانور حرام ہے، اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِه﴾ ترجمۂ کنز الایمان: تم پر حرام ہےمردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا۔ (القرآن، پارہ 06، المائدہ: 03)
جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ بھی حرام ہے، چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بے شک حکم عدولی ہے۔ (القرآن، پارہ 07، الأنعام: 121)
کسی بھی حلال جانور کو کھانا اسی وقت حلال ہوگا جب اسے شرعی طریقے پر ذبح کیا جائے۔ بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ما أنهر الدم، و ذكر اسم اللہ عليه فكلوه“. ترجمہ: جس کا خون بہایاگیااور اس پر اللہ کا نام لیا گیا تو اسے کھاؤ۔ (صحیح البخاری، جلد 03، صفحہ 138، دار طوق النجاۃ، بیروت)
العنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے: ”الذبح شرط حل أكل ما يؤكل لحمه من الحيوان“ ترجمہ:ذبحِ شرعی ماکول اللحم جانوروں کے کھانے کے حلال ہونے کی شرط ہے۔ (العناية شرح الهداية، جلد 09، صفحہ 486، دار الفکر، بیروت)
جانوروں میں اصل حرمت ہے۔ یعنی جب تک ذبح شرعی ہونا معلوم نہ ہو تب تک حرام ہونے کا حکم رہتا ہے۔ چنانچہ حاشية الطحطاوی على مراقی الفلاح میں ہے: ”يجد شاۃ مذبوحة في بلد فيها مسلمون و مجوس فلاتحل حتى يعلم أنها ذكاة مسلم لأن الأصل فيها الحرمة إذ حل الأكل يتوقف على تحقق الذكاة الشرعية“. ترجمہ: اگر کسی ایسے شہر میں ذبح شدہ بکری ملی جس میں مسلمان بھی رہتے ہوں اور مجوسی بھی، تو وہ اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اسے کسی مسلمان نے ذبح کیا ۔ کیونکہ بکری میں اصل حرمت ہے۔ کیونکہ کھانے کے حلال ہونے کا دار و مدار ذبحِ شرعی پر موقوف ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، صفحہ 35، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اعلی حضرت، امام اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”حلت ذکاتِ شرعی سے ثابت ہوتی ہے، تو جب ذبحِ شرعی معلوم و متحقق نہ ہو تو حکمِ حرمت ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 289، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
کولیجن (collagen) جانوروں کی ہڈیوں وغیرہ سے بنتا ہے، ہڈی کا شمار ان اعضاء میں ہوتا ہے جو بغیر ذبح کے بھی پاک شمار ہوتے ہیں (جبکہ ان پر ناپاک رطوبت نہ لگی ہو)۔ تاہم! ان کے حلال ہونے کے لئے ذبح شرعی بھی درکار ہے۔ چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”أقول: من هنا يعلم حكم العظام و العصب و غير ذلك من المحكوم بطهارتها من دون ذكاة، فإن من المأكول فحلال إن ذكي، و إلا فحرام و إن كانت طاهرة“. ترجمہ:میں کہتا ہوں یہاں سے ہڈی، پٹھے اور ان دیگر اعضا کا حکم معلوم ہوا جن کی طہارت کا بغیر ذبح کے بھی حکم دے دیا جاتا ہے، اگر یہ اعضاء ماکول اللحم جانور کے ہوں اور اس جانور کو ذبح کر لیا گیا تو اب اعضاء کا کھانا حلال ہے، ورنہ حرام ہوگا اگرچہ وہ عضو پاک شمار ہوگا۔ (جد الممتار علی رد المحتار،جلد 01،صفحہ 111، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہل سنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حلال و جائز الاکل، صرف جانور ماکول اللحم، مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں۔ حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارت مستلزم حلت نہیں“۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 475، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مشین سے ذبح کیا جانے والا جانور بھی حرام ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں ذبح کی شرعی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”مشین کے ذریعے جو جانور ذبح ہوتے ہیں وہ چاروں مذاہب (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) میں حرام ہیں ان کا حکم شرعا وہی ہے جو مردار کا ہے۔ کیونکہ جانور کے حلال ہونے کے لئے بالاتفاق یہ شرط ہے کہ ذابح صاحبِ عقل وشعور، مسلم یا کتابی ہو حالانکہ مشینی نظام ذبح میں ذابح کوئی صاحبِ عقل وشعور مسلم یا کتابی نہیں ہوتا بلکہ محض بجلی ہوتی ہے“۔ (مشینی ذبیحہ کا حکم، صفحہ 31، مکتبۃ برکات المدینۃ، کراچی)
بہار شریعت میں ذبح شرعی کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرمایا: ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں۔ (۱)ذبح کرنے والا عاقل ہو۔ ۔ ۔ ۔ (۲) ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔ ۔ ۔ ۔ (۳) اللہ عزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔ ۔ ۔ ۔ (۴) خود ذبح کرنے والا اﷲعزوجل کا نام اپنی زبان سے کہے ۔ ۔ ۔ ۔ (۵) نام الٰہی(عزوجل)لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو ۔ ۔ ۔ ۔ (۶)ذبح کے وقت غیر خدا کا نام نہ لے (۷) جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقت ذبح زندہ ہو۔ ملتقطاً (بہار شریعت، جلد 03، حصہ 15، صفحہ 313 - 314، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
نوٹ: سائل نے اس پروڈکٹ کی جو Ingredient list دی ہے اس میں گلیسرین (Glycerin) بھی شامل ہے۔ گلیسرین (Glycerin) کے حلال و حرام دونوں طرح کے ماخذ ہیں۔ جب تک حرام ماخذ سے تیار ہونا معلوم نہ ہوفتوے کی رو سے اس کا استعمال جائز ہے۔ گلیسرین (Glycerin) سے متعلق اس حکم کی مزید تفصیلات کے لیے دار الافتااہل سنت کا فتوی نمبرNRL-0364 طلب کیا جا سکتا ہے۔ نیز مشینی ذبیحہ سے متعلق معلومات کے لئے دار افتاء اہل سنت کے تفصیلی فتوے بنام ”الیکٹرک چھری اور مشین سے ذبح کئے ہوئے جانور کا شرعی حکم“ کا مطالعہ کیجئے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: NRL-0526
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 7 144ھ / 20 مئی 2026ء