logo logo
AI Search

قیامت کے متعلق حدیث جبرائیل کی وضاحت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ما المسئول عنھا باعلم من السائل حدیث کی درست تشریح

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حدیثِ جبریل میں مذکور ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت واقع ہونے کے وقت کے متعلق پوچھا گیا، تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں یہ کلمات ارشاد فرمائے ”ما المسئول عنھا باعلم من السائل (جس سے سوال کیا گیا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا)۔ ان الفاظ سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کا علم جبریلِ امین علیہ السلام کے علم سے زیادہ نہیں ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ حدیثِ پاک کے ان الفاظ کا کیا معنی ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ حدیث کے معنی سمجھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و مقرب خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار غیوب کا علم عطا فرمایا، ایسے بے شمار علوم عطا فرمائے جن کی حقیقی وسعت کو صرف آپ کا رب عزوجل ہی جانتا ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی علوم یکبارگی نہیں، بلکہ بتدریج عطا ہوئے اور نزولِ قرآن کے ساتھ ساتھ آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ نزولِ قرآن کی تکمیل کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے علم ماکان و ما یکون (جو ہوچکا اور جو ہوگا کے علم) کی بھی تکمیل ہوگئی۔ ان جملہ علوم میں سے ایک قیامت کے وقت کا علم بھی ہے اور یہی علمائے عارفین و اولیائے کاملین رحمہم اللہ کا مختار ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور (اللہ تعالیٰ نے) آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے۔ ( سورۃ النساء، آیت 113)

اس آیت میں علم ما کان و ما یکون مرا دہے، جیسا کہ عارف باللہ علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: و لما دعى النبي صلى اللہ تعالى عليه و سلم بالجذبة الى علم اللہ الأزلي الابدى قال (قد علمت ما كان و ما سيكون) و ذلك لانه صار عالما بعلم اللہ تعالى لا بعلم نفسه و هو سر قوله تعالى علمك ما لم تكن تعلم“ ترجمہ: اور جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو علمِ الٰہیِ ازلی و ابدی کی جانب جذب و کشش کے ساتھ بلایا گیا تو آپ نے فرمایا تحقیق میں نے جان لیا جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہو گا۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ عالم ہوئے نہ کہ اپنی ذات کے علم سے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کا راز ہے کہ اورآپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے۔ (روح البيان، ج 4، ص 37، دار الفكر، بيروت)

سنن ترمذی میں ہے: عن ابن عباس، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: اتاني الليلة ربي تبارك وتعالى في احسن صورة، قال: احسبه قال في المنام، فقال: يا محمد هل تدري فيم يختصم الملأ الاعلى؟ قال: قلت: لا، قال: فوضع يده بين كتفي حتى وجدت بردها بين ثديي، او قال: في نحري، فعلمت ما في السماوات و ما في الارض“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: آج رات میرے رب تبارک و تعالیٰ نے میرے پاس بہترین صورت میں تجلی فرمائی، (راوی کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ خواب میں، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! کیا آپ جانتے ہیں کہ ملأِ اعلیٰ (مقرب فرشتے) کس بات میں بحث کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا: میں نے عرض کیا: نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں (یا فرمایا اپنے گلے میں) محسوس کی، سو میں نے وہ سب کچھ جان لیا جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث: 3233)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے جملہ علوم میں سے قیامت کے وقت کا علم بھی ہے، قرآن پاک کی آیت ﴿یَسْـئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ﴾ کے تحت عارف باللہ احمد بن محمد الصاوی رحمہ اللہ حاشیہ میں لکھتے ہیں: أی لم یطلع علیھا أحدا وھذا انما ھو وقت السؤال والا فلم یخرج نبینا صلی اللہ علیہ و سلم من الدنیا حتی أطلعہ اللہ علی جمیع المغیبات و من جملتھا الساعۃ لکن أمر بکتم ذلک“ ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس پر مطلع نہیں فرمایا اور یہ (عدمِ علم) صرف سوال کے وقت تک تھا، ورنہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم دنیا سے تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مغیبات پر مطلع فرما دیا، جن میں سے ایک قیامت بھی ہے، لیکن اسے پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ (حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین، ج 3، ص 270، دار الجیل، بیروت)

مذکورہ دلائل سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو بے شمار علوم غیبیہ عطا فرمائے اور صحیح یہی ہے کہ ان میں سے ایک وقتِ قیامت کا علم بھی ہے۔ اب سوال میں ذکر کردہ حدیث کے الفاظ ”ما المسئول عنها بأعلم من السائل“ کی تشریح کی طرف چلتے ہیں، اس کے علمائے کرام نے دو معنی بیان فرمائے ہیں:

(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام دونوں بزرگ ہستیوں سے قیامت کب واقع ہوگی، اس علم کی نفی مراد ہے۔ یعنی جس طرح سوال پوچھنے والے (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کو قیامت کے وقوع کا وقت معلوم نہیں، اسی طرح جن سے سوال پوچھا جا رہا ہے (حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) انہیں بھی اس کا علم نہیں۔ عربی زبان میں کسی چیز کے متعلق علم نہ ہونے پر یہ الفاظ کہے جاتے ہیں۔ تو جس وقت یہ کلمات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اس وقت انہیں قیامت کا علم نہیں تھا، اگر چہ بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم بھی عطا کردیا گیا، جیسا کہ تفسیر صاوی کے حوالے سےگزرا۔

(2) اس جملہ میں قیامت کے علم کی نفی مراد ہی نہیں، بلکہ سائل سے زیادہ علم رکھنے کی نفی مقصود ہے۔ چونکہ وقتِ قیامت کا علم حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام دونوں کو اس وقت بھی حاصل تھا اور یہ ان اسرارِ الٰہیہ میں سے ہے جنہیں پوشیدہ رکھنے کا حکم ہے، اس لیے یہاں اصل علم کی بجائے محض زیادتیِ علم کی نفی فرمائی۔ مقصود یہ ہے کہ اس مخفی راز کے متعلق جتنا آپ جانتے ہیں، میں اس سے زیادہ نہیں جانتا،لہٰذا اس بابت ہم دونوں کا علم برابر ہے اور اسے افشا کرنے کی اجازت نہیں، تو اسے صیغۂ راز ہی میں رہنے دیا جائے۔

یہاں حدیث میں خاص روزِ قیامت کی تعیین کے متعلق علم میں برابری کا ذکر ہے، نہ کہ جملہ علوم میں۔ اسے آسانی سے یوں سمجھ لیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں دو عالم علمِ بلاغت میں برابر ہیں، ان میں کوئی ایک دوسرے سے زیادہ بڑاعالم نہیں۔ تو اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ علمِ بلاغت کے علاوہ بھی بقیہ علوم میں برابر ہیں، ممکن ہے کہ بلاغت کے علاوہ بقیہ علوم میں ایک کو دوسرے پر ہزاروں گنا برتری حاصل ہو۔ ایسے ہی یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم میں خاص ایک جزو میں کلام کیا گیا ہے، نہ کہ جملہ علوم میں اور اس ایک جزو یعنی علمِ قیامت میں بھی صرف ایک جہت یعنی متعین دن کے متعلق بات ہوئی ہے، نہ کہ علمِ قیامت کی جہات اور قیامت کے جملہ واقعات وغیرہا کے متعلق۔ ہمارا عقیدہ بالکل واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا اولین و آخرین کے علوم کے جامع ہیں اور کائنات میں سب سے زیادہ علم نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو عطا کیا گیا ہے، جبرئیل امین اور جملہ انبیاء و رسل علیھم الصلوٰۃ والسلام تمام کے تمام بارگاہِ نبوی کے علم سے فیض یافتہ ہیں۔ علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت خوب انداز میں اسے بیان فرمایا اور یہ اشعار پوری دنیا کے علماء اور مسلمانوں کے زبانوں پر جاری ہیں۔

فَاقَ النَّبِيِّينَ فِي خَلْقٍ وَفِي خُلُقٍ وَلَمْ يُدَانُوهُ فِي عِلْمٍ وَلَا كَرَمِ

وَ كُلُّهُمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ مُلْتَمِسٌ غَرْفًا مِنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّيَمِ

فَإِنَّ مِنْ جُودِكَ الدُّنْيَا وَ ضَرَّتَهَا وَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالقَلَمِ

ترجمہ: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلقت (جسمانی حسن) اور اخلاق (باطنی کمالات) دونوں میں تمام انبیاءسےبڑھ گئے، اور علم و سخاوت میں بھی کوئی آپ کے قریب نہ پہنچ سکا۔

اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی سے فیض حاصل کرنے والے ہیں، کوئی سمندر میں سے لپ بھر کر لیتا ہے اور کوئی بادلوں میں سے چند قطرے۔

پس بے شک یہ دنیا اور اس کی ہمسر (آخرت) آپ کے جود و کرم ہی کا ایک حصہ ہے، اور لوح و قلم کا علم آپ کے علوم کا ایک ٹکڑا ہے۔

تو ”ما المسئول عنها بأعلم من السائل“ میں صرف ایک خاص شے یعنی وقتِ قیامت کے علم کے متعلق (علم ہونے یا نہ ہونے میں) برابری کا ذکر ہے، یہ ہرگز مراد نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کا نفسِ علم ہر معاملے میں برابر ہے، لہٰذا اس سے مطلق علم کی برابری کشید کرنا غلط فہمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے، کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم تمام مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔

یاد رہے کہ علمائے اہل سنت کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ قیامت واقع ہونے کے وقت کا علم حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کو عطا کیا گیا یا نہیں۔ بعض علمائے ظاہر اس طرف گئے ہیں کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی قیامت واقع ہونے کے وقت کا علم نہیں، جبکہ علمائے باطن اور ان کی اتباع میں کثیر علمائے ظاہر کی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو قیامت کے وقت کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔ صحیح قول یہی ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم دنیا سے تشریف نہیں لے گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیامت کے وقت کا علم بھی عطا فرمادیا تھا۔

اس تمام تر تفصیل پر دلائل درج ذیل ہیں:

ما المسئول عنہا باعلم من السائل کے علمائے کرام نے درج ذیل دو معنی بیان کیے ہیں:

(1) قیامت کب واقع ہوگی، دونوں ہستیوں کو اس کا علم نہ تھا ،اس لیے فرمایا کہ جس طرح پوچھنے والے کو علم نہیں، جن سے پوچھا گیا انہیں بھی نہیں۔ علامہ ناصر الدین بیضاوی، ابن ملقن، علامہ علی قاری، علامہ سندی، علامہ ابن رجب حنبلی، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ احمد بن اسماعیل الکورانی وغیرہم نے یہی معنی بیان کیے۔

علامہ بیضاوی لکھتے ہیں: (ما المسئول عنها بأعلم من السائل) أي تساويا في عدم العلم بها“ ترجمہ: (قیامت کے متعلق جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا) یعنی اس بابت علم نہ ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ (تحفة الأبرار شرح مصابيح السنة، ج 1، ص 33، وزارة الأوقاف و الشؤون الإسلامية بالكويت)

علامہ احمد بن اسماعيل الكوراني (المتوفی 893ھ) لکھتے ہیں: أي: لا علم للمسئول عنها كما لا علم للسائل“ ترجمہ: یعنی جس سے قیامت واقع ہونے کے وقت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے، اسے اس کا علم نہیں، جیسا کہ پوچھنے والے کو اس کا علم نہیں۔ (الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري، ج 1، ص 124، دار إحياء التراث العربي)

علامہ علی قاری لکھتے ہیں: فإنهما مستويان في نفي العلم به“ ترجمہ: کیونکہ دونوں بزرگ اشخاص وقتِ قیامت کا علم نہ ہونے میں مساوی ہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 1، ص 62، دار الفكر)

(2) دونوں حضرات کو وقتِ قیامت کا علم تھا اور اسے پوشیدہ رکھنے کا حکم تھا، اس لیے حضور علیہ السلام نے علم کی نفی نہیں فرمائ، بلکہ فرمایا کہ میرا علم اس بابت تم سے زیادہ نہیں اور راز افشا نہ کیا چنانچہ مفتی احمد یا ر خان نعیمی رحمہ اللہ جاء الحق میں لکھتے ہیں: مخالفین علم قیامت کی نفی کی دلیل میں شروح مشکوٰۃ کی وہ روایت پیش کرتے ہیں کہ حضرت جبریل نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا ’’اخبرنی عن الساعۃ‘‘ مجھے قیامت کے متعلق خبر دیجیے، تو فرمایا ’’ما المسئول عنھا باعلم من السائل‘‘ یعنی اس بارے میں ہم سائل سے زیادہ جاننے والے نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ آپ کو قیامت کا علم نہیں۔ مگر یہ دلیل بھی محض لغو ہے۔ ۔ ۔ اس میں حضور علیہ السلام نے اپنے جاننے کی نفی نہیں کی، بلکہ زیادتی علم کی نفی کی ورنہ فرماتے ’’لااعلم‘‘ میں نہیں جانتا اتنی دراز عبارت کیوں ارشاد فرمائی؟ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اے جبریل اس مسئلہ میں میرا اور تمہارا علم برابر ہے کہ مجھ کو بھی خبر ہے اور تم کو بھی اس مجمع میں یہ پوچھ کر راز ظاہر کرنا مناسب نہیں۔ (جاء الحق، حصہ 1، ص 293، مکتبۃ غوثیہ، کراچی)

زیادتی علم کی نفی مراد ہونے کے متعلق ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے: (ما المسئول منها بأعلم من السائل) ما نافية يعني لست أنا أعلم منك يا جبريل بعلم وقت قيام الساعة“ ترجمہ:(ما المسئول الخ) میں 'ما' نافیہ ہے، یعنی اے جبرائیل! میں قیامت قائم ہونے کے وقت کے علم کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ (إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، ج 10، ص 499، دار الكتب العلمية)

(ما المسئول منها الخ) اس عبارت سے یہ دوسرا معنی بھی مفہوم ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ علماء جو اس طرف گئے ہیں کہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور حضورِ انور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو عطا نہیں کیا گیا، وہ بھی اس عبارت سے اس معنی کے مفہوم ہونے کا انکار نہ کر سکے، اگرچہ انہوں نے یہ معنی بیان کر کے اس کی تردید کی۔ جیسا کہ فتح الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: (ما المسئول عنها بأعلم) و هذا و إن كان مشعرا بالتساوي في العلم لكن المراد التساوي في العلم بأن اللہ تعالى استأثر بعلمها“ ترجمہ: (ما المسئول عنها بأعلم) یہ عبارت اگرچہ علم میں برابری کا اشارہ دے رہی ہے، مگر مراد اس سے اس بات کے علم میں برابر ہونا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وقتِ قیامت کے علم کو اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 1، ص 124، دار المعرفة، بيروت)

یونہی علامہ علی قاری نے لکھا: (ما المسئول عنهابأعلم من السائل) نفى أن يكون صالحا لأن يسأل عنه - في أمر الساعة - لأنها من مفاتيح الغيب لا يعلمها إلا هو۔ ۔ ۔ فلا يقال لا يلزم من نفي الأعلمية نفي أصل العلم عنها مع أنهما متساويان في انتفاء العلم بذلك، ومساق الكلام يقتضي أن يقول: لست أعلم بعلم الساعة منك۔ ۔ ۔ قيل: و ما أفهمه من أنهما مستويان في العلم به غير المراد فإنهما مستويان في نفي العلم به، أو في العلم بأن اللہ استأثر به“ ترجمہ: (ما المسئول عنها الخ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی نفی فرمائی کہ قیامت کے معاملے میں ان سے سوال کرنا درست ہو کیونکہ وہ غیب کی ان کنجیوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ۔ ۔ لہٰذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ (سائل سے) زیادہ علم کی نفی سے اصلِ علم کی نفی لازم نہیں آتی، حالانکہ وہ دونوں اس علم کے نہ ہونے میں برابر ہیں، اور سیاقِ کلام کا تقاضا یہ ہے کہ آپ یوں فرمائیں: میں قیامت کے علم کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ ۔ ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس جملے سے جو یہ مفہوم ہوتا ہےکہ سائل و مسئول دونوں قیامت کا وقت جاننے میں برابر ہیں، وہ مراد نہیں ہے بلکہ وہ دونوں اس کا علم نہ ہونے میں برابر ہیں یا اس بات کے علم میں برابر ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کو اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 1، ص 62، دار الفكر)

بہر حال حدیث کے ان الفاظ میں محض وقتِ قیامت کے علم کی بات ہو رہی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبریل علیہ السلام کا علم ہر چیز میں مطلقاً برابر ہے، کیونکہ اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تمام مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں، چنانچہ عار ف باللہ علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ روح البیان میں لکھتے ہیں: و قد انعقد الإجماع على ان نبينا عليه السلام اعلم الخلق وأفضلهم على الإطلاق“ ترجمہ: اور اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور سب سے افضل ہیں۔ (روح البيان، ج 5، ص 274، دار الفكر، بيروت)

حاشية الطيبي على الكشاف میں ہے: و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم أعلم الخلق بالكائن من الأمور“ ترجمہ: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم پیش آنے والے امور کو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ (فتوح الغيب في الكشف عن قناع الريب (حاشية الطيبي على الكشاف)، ج 9، ص 507، جائزة دبي الدولية للقرآن الكريم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو قیامت کے وقت کا علم تھا یا نہیں، اس بابت علمائے اہل سنت میں اختلاف ہے اور مختار قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے انہیں قیامت کے وقت کا علم بھی عطا فرما دیا تھا۔

امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ہمارے علماء میں اختلاف ہو اکہ بے شمار علوم غیوبیہ جو مولیٰ عز وجل نے اپنے محبوب اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عطا فرمائے آیا وہ روز اول سے یوم آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عمومِ آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔ بہت سے اہل ظاہر جانبِ خصوص گئے ہیں، کسی نے کہا متشابہات کا، کسی نے کہا خمس کا،کسی نے کہا ساعت کا اور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بکثرت علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا، ما کان و ما یکون بمعنی مذکور میں از انجاکہ غایت میں دخول و خروج دونوں محتمل ہیں ساعت داخل ہو یا نہیں بہر حال یہ مجموعہ بھی علوم الٰہیہ سے ایک بعض خفیف بلکہ انباء المصطفی حاضر ہے۔ ۔ ۔ یہ خا ص مسئلہ جس طرح ہمارے علماءِ اہل سنت میں دائر ہے مسائل خلافیہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصل محلِ لوم نہیں۔ ہاں ہمارا مختار قول اخیر ہے جو عام عرفائے کرام وبکثرت اعلا م کا مسلک ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 29، ص 454، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0739
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء