کیا اللہ کے علاوہ کسی اور کو مولا کہہ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مولا کا لفظ غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شجرہ قادریہ عطاریہ میں ایک شعر لکھا ہے’’میرے مولا حضرت احمد رضا کے واسطے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اکثر مولیٰ کہہ کر تو اللہ عزوجل کو پکارتے ہیں۔ تو یہاں مولا کس کو کہتے ہیں ؟ کیا اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کو’’مولا‘‘ کہہ سکتے ہیں؟
جواب
’’مولیٰ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے پندرہ (15) سے زائد معانی ملتے ہیں۔ مولیٰ کا لفظ ہر جگہ ایک ہی معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ سیاق و سباق اور جس کیلئے یہ لفظ بولا جارہا ہے، اُس کے اعتبار سے موقع محل کی مناسبت سے اس کا معنیٰ متعین ہوتا ہے۔ ’’مولیٰ‘‘ کا جو معنیٰ رب تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے یعنی رب، پروردگار، تو اس خاص معنیٰ میں یہ لفظ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی دوسرے کیلئے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ کسی دوسرے جائز معنیٰ میں اس کا اطلاق بندے پر بھی ہو سکتا ہے۔ سوال میں جس شعر کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں سیدی اعلی حضرت اما م احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کیلئے لفظِ ’’مولیٰ‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ سردار، محبوب، یا آقا کے معنیٰ میں ہے۔
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وفي النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة فهو الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والخال وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه‘‘ ترجمہ: اور ’’النہایہ‘‘ میں ہے کہ لفظ ’’مولا‘‘ بہت سے معانی پر بولا جاتا ہے، چنانچہ اس سے مراد رب، مالک، سردار، احسان کرنے والا، آزاد کرنے والا، مددگار، محبوب، تابع، ماموں، چچا زاد، حلیف، معاہد، سسرالی رشتہ دار، غلام، آزاد کیا ہوا غلام، اور وہ شخص جس پر احسان کیا گیا ہو، سب ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے اکثر معانی حدیث میں وارد ہوئے ہیں، لہٰذا ہر مقام پر وہی معنی مراد لیا جائے گا جس کا وہاں سیاق تقاضا کرے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 9، صفحہ 3937، دار الفکر، بیروت)
’’تاج العروس‘‘ میں مولی کے مختلف معانی بیان کرنے کے بعد علامہ مرتضى حسینی زبیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فهذه أحد وعشرون معنى للمولى، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه الحديث الوارد فيه‘‘ ترجمہ: تویہ لفظِ ’’مولا‘‘ کے اکیس (21) معانی ہیں، اور ان میں سے اکثر معانی حدیث میں وارد ہوئے ہیں، لہٰذا ہر معنی کو اس حدیث کے مطابق سمجھا جائے گا جس میں وہ لفظ آیا ہو۔ (تاج العروس، جلد 40، صفحہ 246، مطبوعہ کویت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1211
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 26 مئی 2026ء