سلام کے وقت جھکنا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سلام کے وقت تعظیم یا خوشامد کے لیے جھکنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی سے ملاقات کے وقت جھکنا کیسا ہے؟ احترام کی نیت ہو یا خوشامد کی، دونوں صورتوں میں کیا حکم ہوگا؟
جواب
ملاقات کے وقت کسی کی تعظیم کے لئے جھکنا اگر رکوع یا اس سے زائد مقدار تک ہو تو یہ جھکنا ناجائز و گناہ ہے اور اس سے کم جھکے تو مکروہ تنزیہی ہوگا، چاہے یہ جھکنا اگلے کی تعظیم کے طور پر ہو یا اس کی خوشامد کے لئے۔ البتہ اگر کسی عالم دین، بزرگ اور والدین وغیرہ کی تعظیم کے طور پر ہاتھ یاپاؤں چومنے کے لئے کوئی جھکتا ہے اور اس کا یہ عمل خوشامدی کے طور پر نہیں ہے تو یہ عمل جائز و مستحسن ہے اور احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن دنیاوی مقاصد کے حصول اور خوشامدی کے لئے ہاتھ چومنا بھی مکروہ ہے۔
جامع ترمذی میں ہے: ”عن أنس بن مالك، قال: قال رجل: يا رسول اللہ الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: «لا»“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنے کسی بھا ئی یا دوست کو ملتے ہیں تو کیا ملاقات میں اس کے لئے جھکا جائے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (جامع ترمذی، ابواب الاستیذان والآداب، باب ماجاء فی المصافحۃ، ج 5، ص 75، مصطفی البابی حلبی، مصر)
فتاوی ہندیہ میں ہے: ”الانحناء للسلطان أو لغيره مكروه لأنه يشبه فعل المجوس كذا في جواهر الأخلاطي. ويكره الانحناء عند التحية وبه ورد النهي كذا في التمرتاشي. تجوز الخدمة لغير اللہ تعالى بالقيام وأخذ اليدين والانحناء ولا يجوز السجود إلا للہ تعالى كذا في الغرائب. (وأما الكلام في تقبيل اليد) فإن قبل يد نفسه لغيره فهو مكروه وإن قبل يد غيره إن قبل يد عالم أو سلطان عادل لعلمه وعدله لا بأس به هكذا ذكره في فتاوى أهل سمرقند وإن قبل يد غير العالم وغير السلطان العادل إن أراد به تعظيم المسلم وإكرامه فلا بأس به وإن أراد به عبادة له أو لينال منه شيئا من غرض الدنيا فهو مكروه“
ترجمہ: سلطان وغیرہ کے لئے جھکنا مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل مجوس کے فعل کے مشابہ ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔ اور سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے کہ اس پر نہی وارد ہے۔ جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔ غیر اللہ کی خدمت کرنے کے لئے قیام کرنا، ہاتھ پکڑنا، اور جھکنا جائز ہے۔ ہاں سجدہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کیلئے جائز نہیں ہے۔ یونہی غرائب میں ہے۔ بہر حال ہاتھ چومنے کے متعلق کلام تو کسی کے لئے اپنے ہاتھ چومنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر کسی دوسرے کے ہاتھ چومے تو اگر وہ عالم یا عادل بادشاہ ہے اور ان کے علم و عدل کی وجہ سے چومتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح فتاوی سمرقند میں ذکر کیا ہے، اور اگر عالم اور عادل بادشاہ کے علاوہ کسی اور کا ہاتھ چوما اور اس سے اس کے مسلمان ہونے کی تعظیم و تکریم مقصود ہے تو بھی اس میں حرج نہیں۔ لیکن اگر اس سے نیت اس کی عبادت کی ہے یا دنیا میں کوئی چیز حاصل کرنے کی نیت سے چومتا ہے تو یہ چومنا مکروہ ہے۔ (الفتاوی الہندیہ، کتاب الکراہیۃ، ج 5، ص 369، دارالفکر، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”یہاں ایک دقیقہ انیقہ اور ہے جس پر اطلاع نہیں ہوتی مگر بتوفیق حضرت عزت عز جلالہ شرع مطہر کا قاعدہ عظیمہ و جلیلہ معروفہ و مشہورہ ہے کہ ”الامور بمقاصد ھا“ (یعنی امور میں مقاصد کا اعتبار ہے۔) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی“ اعمال نیات کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔
انحناء یعنی جھکنے او رپیٹھ دوہری کرنے سے کسی کی تعظیم شرعا مکروہ ہے اور جب بقدر رکوع یا اس سے زائد ہو تو کراہت سخت و اشد ہے۔۔۔۔ عالمگیری میں ہے: الانحناء للسلطان او لغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواہر الاخلاطی، ویکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ وردالنھی کذا فی التمرتاشی، تجوز الخدمۃ لغیر اللہ تعالٰی بالقیام واخذ الیدین والانحناء و لایجوز السجود الا للہ تعالٰی کذا فی الغرائب انتہی قلت وکان محمل ھذا علی ما اذا لم یبلغ الرکوع فیکرہ تنزیھا وہو یجامع الجواز کما نصوا علیہ واللہ تعالٰی اعلم ترجمہ: سلطان وغیرہ کے لئے جھکنا مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل مجوس کے فعل کے مشابہ ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔ اور سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے اس پر نہی وار دہے۔ جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔ غیر اللہ کی تعظیم کے لئے قیام، مصافحہ، اور جھکنا جائز ہے ہاں سجدہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کیلئے جائز نہیں ہے۔ یوں غرائب میں ہے میں کہتا ہوں اس قیام کا محمل وہ قیام ہے جو رکوع کی حدتک نہ ہو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ یہ کراہت جواز کو جامع ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
اور اگر مقصود کوئی اور فعل ہے اور انحناء خود مقصود نہیں بلکہ اس فعل کا محض وسیلہ و ذریعہ ہے تو ہر گز ممانعت نہیں۔۔۔۔عالم دین یا سلطان عادل کی خدمت کے لئے اس کا گھوڑا باندھنا یا کھول کر حاضر لانا یا بھچونا کرنا، یا وضو کرانا، پاؤں دھلانا یا اس کا جوتا اٹھانا یا مجلس سے اٹھتے وقت اس کی جوتیاں سیدھی کرنا، یہ سب افعال تعظیم و تکریم ہی ہیں اور ان کے لئے جھکنا ضرور مگر یہ انحناء زنہار ممنوع نہیں کہ مقصود ان افعال سے تعظیم ہے نہ جھکنے سے، یہاں تک کہ اگر بے جھکے یہ افعال ممکن ہو جھکنا نہ ہوگا۔۔۔۔۔
اور سب سے اظہر و ازہر وہ حدیثیں ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدم مبارک چومنا وارد فقیر نے یہ حدیثیں اپنے فتاویٰ میں جمع کردی ہیں، از انجملہ حدیث وفد عبد القیس کہ امام بخاری نے ادب مفرد اور ابو داؤد نے سنن میں حضرت زارع بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی: ”فجعلنا نتبادر فنتقبل ید رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورجلہ“ ہم ایک دوسرے سے بڑھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے۔
ظاہر ہے کہ پاؤں چومنے کے لئے تو زمین تک جھکنا ہوگا مگر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جائز رکھا کہ مقصود بوسہ قدم سے تعظیم ہے نہ کہ نفس انحناء، یہی سرِ نفیس ہے کہ علماء کرام نے تحیت و مجرا کیلئے زمین بوسی کو حرام بتایا کہ اس میں جھکنے ہی سے تعظیم کی جاتی ہے یہاں تک کہ زمین کو منہ لگادیا۔ ملتقطا من (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 369، 370، 371، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اسی میں ایک اور مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: انحنا یعنی جھکنا دو قسم ہے مقصود و وسیلہ، اگر خود نفسِ انحنا سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اسکا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدم بوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اسکے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے، اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اسکے لئے جھکنا بھی حرام دوسری قسم کہ نفس انحنا سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تک ہے ناجائز و گناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں۔ “ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 550، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شر یعت میں فر ماتے ہیں: ”بعض لوگ سلام کرتے وقت جھک بھی جاتے ہیں یہ جھکنا اگر حد رکوع تک ہو تو حرام ہے اور اس سے کم ہو تو مکروہ ہے۔“ (بھار شریعت، ج 3، حصہ 16، ص 464، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد محمد ماجد علی مدنی
مصدق: ابو الحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-12444
تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولی 1445 ھ / 20 نومبر 2023ء