logo logo
AI Search

کنویں میں مقدس اوراق دفن کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کنواں کھود کر اس میں مقدس اوراق دفن کرنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم ایک ادارے کے تحت بوسیدہ قرآنی نسخے اور مقدس اوراق جمع کر کے قریبی دریا میں بہا دیا کرتے تھے، لیکن پچھلے چار پانچ ماہ سے دریا کا پانی گندا ہو گیا ہے اور سننے میں آ رہا ہے کہ لوگوں نے اس میں گٹر کا پانی شامل کرنا شروع کر دیا ہے، بہر حال اب دریا کا پانی اس قابل نہیں رہا ہے کہ ہم مقدس اوراق اس میں ڈال سکیں، تو اب ہم کسی مناسب جگہ پر ایک کنواں کھود کر شہید قرآنی نسخے اور مقدس اوراق اس میں ڈالنا چاہتے ہیں، تو اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟

جواب

مصحف شریف اور دیگر مقدس اوراق کے تقدس کا خیال رکھنا اور بے حرمتی سے بچانا بحیثیتِ مسلمان ہر ایک کا مذہبی فریضہ ہے، اس عظیم مقصد کے لئے اپنی کوششیں صَرف کرنا نہایت مستحسن اور قابلِ تعریف عمل ہے، اللہ عزوجل آپ لوگوں کے اس نیک عمل کو اپنی پاک بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔

علمائے کرام نے ناقابلِ انتفاع قرآنی نسخوں اور دیگر مقدس اوراق کی حفاظت اور انہیں بے ادبی سے بچانے کے جو طریقے ارشاد فرمائے ہیں، ان میں ایک بہترین طریقہ انہیں زیرِ زمین دفن کرنا ہے، وہ یوں کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر لحد (یعنی بغلی قبر) میں دفن کر دیا جائے یا پھر صندوق نما قبر کھودیں تو چھت بنا کر مٹی ڈال دیں (جیسے آجکل صندوق نما قبر میں میت کو دفن کیا جاتا ہے، یہ اس لئے) کہ ان مقدس اوراق پر ڈائریکٹ مٹی نہ پہنچے، ورنہ اس میں تحقیر کا پہلو نکلتا ہے اور سوال میں مذکور طریقہ کہ کسی مناسب جگہ کنواں نما گڑھا کھود کر اس میں مقدس اوراق رکھے جائیں گے، یہ بھی دفن کرنے کی طرح ان کی حفاظت اور بے حرمتی سے بچانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے، اور اس طرح کرنے میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یاد رہے کہ اس کنویں میں مقدس اوراق کسی رسی یا ڈول وغیرہ کے ذریعے اتارے جائیں، نہ یہ کہ اوپر سے انہیں پھینک دیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’المصحف اذا صار خلقاً لا یقراء منہ، ویخاف ان یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن، ودفنہ اولی من وضعہ موضعاً یخاف ان یقع علیہ النجاسۃ او نحو ذلک ویلحد لہ، لانہ لو شق ودفن یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ، وفی ذلک نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقف بحیث لا یصل التراب الیہ، فھو حسن ایضاً‘‘ ترجمہ: مصحف جب بوسیدہ ہو جائے کہ قراءت نہ کی جا سکے، اور اس کے ضائع ہونے کا خوف ہو تو اسے پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے، دفن کر دینا، ایسی جگہ رکھنے سے بہتر ہے جہاں ان پر ناپاکی پڑنے یا کسی بھی طرح بے حرمتی ہونے کا اندیشہ ہو، اور ان (کو دفن کرنے) کے لئے لحد بنائی جائے، کیونکہ اگر سیدھی قبر کھود کر دفن کریں گے تو براہ راست ان پر مٹی ڈالنی پڑے گی، اور اس میں تحقیر کا پہلو ہے، مگر یہ کہ ان پر چھت بنا دی جائے، تا کہ ان تک مٹی نہ پہنچ سکے، یہی طریقہ اچھا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ والمصحف، جلد 5، صفحہ 399، مطبوعہ کراچی)

رد المحتار میں ہے: ’’والدفن احسن کما فی الانبیاء والاولیاءاذا ماتوا وکذا جمیع الکتب اذا بلیت وخرجت عن الانتفاع بھا یعنی ان الدفن لیس فی اخلال بالتعظیم لان افضل الناس یدفنون‘‘ ترجمہ: (مقدس اوراق کو) دفن کرنا زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ انبیاء کرام و اولیائے عظام کو وصالِ ظاہری کے بعد دفن کیا جاتا ہے، یونہی تمام (قابلِ احترام) کتابوں کا حکم ہے جب وہ بوسیدہ ہو جائیں اور ان سے نفع حاصل نہ کیا جا سکے، (انہیں دفن کر دیا جائے) اور انہیں دفن کرنے سے تعظیم میں خلل واقع نہیں ہوتا، کیونکہ افضل لوگوں کو دفن ہی کیا جاتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 9، صفحہ 696، مطبوعہ پشاور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6767
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1442ھ/10 جولائی 2021ء