logo logo
AI Search

نماز کے بعد مصافحہ کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز کے بعد مصافحہ کرنا جائز ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں کافی سالوں سے یہ معمول ہے کہ فجر کی نماز کے بعد تمام نمازی ایک دوسرے سے مصافحہ و سلام کرتے ہیں، اس عمل سے ایک دوسرے نمازی کی خیریت معلوم ہو جاتی ہے، کچھ نمازی یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا یہ عمل نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے ثابت ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تو مصافحہ اور سلام کر رہے ہوں، لیکن یہ عمل غیر شرعی اور بدعت ہو، اس لیے آپ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں کہ نماز کے بعد مصافحہ اور سلام کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

ہر نماز کے بعد مصافحہ کرنا بالکل جائز و مستحسن ہے، بلکہ علماء ہر نماز کے بعد مصافحہ کو سنت فرماتے ہیں کہ مطلق مصافحہ کرنا سنت ہے اور نماز کے بعد مصافحہ کرنا بھی اس کا ایک فرد ہے۔ علماء فرماتے ہیں: جتنی بار ملاقات ہو ہر مرتبہ مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ نیز مصافحہ کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: جب دو مسلمان آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، اسی طرح مصافحہ کرنے کی وجہ سے آپس کا کینہ ختم ہوتا ہے، جب تک مصافحہ کرنے والے ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑ نہیں دیتے، ان کے گناہ اس طرح جھڑتے رہتے ہیں، جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔

بعض فقہاء نے فجر و عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کو بدعت کہا ہے، کیونکہ بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور اقدس میں نہیں تھا، بعد میں شروع ہوا۔ یہ خیال رہے کہ ہر بدعت قبیح نہیں، بلکہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ، یعنی ہر بدعت بری نہیں ہوتی، بلکہ بعض اچھی بھی ہوتی ہیں، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں کسی چیز کا نہ ہونا، بدعت قبیحہ (بری بدعت) ہونے کو مستلزم نہیں، ورنہ بہت سی ایسی چیزیں جو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں نہ تھیں، وہ سب کے نزدیک درست ہیں، جیسا کہ وہ قرآن جو ہمارے لئے مشعل راہ، جس کا ماننا ایمان کی شرط ہے، اس پر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں نہ تو نقطے تھے، نہ اعراب، نہ ایک جگہ پر جمع، بلکہ متفرق بغیر نقطوں، بغیر اعراب کے تھا، لیکن اس دور میں اس کی صورت ہر ایک کے سامنے ہے، تو کیا قرآن کا انداز ہمارے پاس بصورت بدعت سیئہ ہے؟ ہرگز نہیں، اسی طرح احادیث کی کتابت، باقاعدہ راویوں پر جرح و قدح کرنا، ان کے بارے میں کتابیں لکھنا، مساجد پکی بنانا، ان میں منبر و مینار ہونا، قرون اولی میں کہاں تھا؟ تو یہ سب بھی تو بدعت ہی ہیں، لیکن کوئی بھی مسلمان ان کو بدعت سیئہ و قبیحہ نہیں کہتا، بلکہ ہر مسلمان ان کو اچھی بدعت کہتا ہے، جس طرح یہ سب اچھی بدعتیں ہیں، اسی طرح نماز کے بعد مصافحہ کرنا بھی اچھی بدعت ہے۔ نیز نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو مسلمان جائز و مستحسن و اچھا سمجھتے ہیں اور مسلمان جس کو اچھا سمجھتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں بھی ہے۔

جتنی مرتبہ ملاقات ہو، ہر بار مصافحہ کرنا سنت ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’مالقیتہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قط إلا صافحنی‘‘۔ یعنی میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں جب بھی حاضر ہوتا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھ سے مصافحہ فرماتے۔ (سنن ابی داؤد، ج 2، ص 367، مطبوعہ لاہور)

مصافحہ کرنے والے دونوں مسلمانوں کے جدا ہونے سے پہلے مغفرت ہو جاتی ہے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ما من مسلمین یلتقیان فیصافحان إلا غفر لھما قبل أن یتفرقا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان مل کر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (جامع ترمذی، ج 2، ص 102، مطبوعہ کراچی)

مصافحہ کرنے سے کینہ دور ہوتا ہے، حضرت عطاء بن عبد اللہ الخراسانی فرماتے ہیں: ”قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تصافحوا یذھب الغل و تھادوا تحابوا و تذھب الشحناء“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں مصافحہ کرو، کینہ ختم ہو جائے گا، اور ایک دوسرے کو ہدیہ دو، محبت پیدا ہو گی اور عداوت نکل جائے گی۔ (مؤطا امام مالک، ج 1، ص 559، مطبوعہ لاھور)

در مختار میں ہے: ’’تجوز المصافحۃ، لأنھا سنۃ قدیمۃ متواترۃ لقولہ علیہ الصلوٰۃ و السلام: ”من صافح أخاہ المسلم و حرک یدہ تناثرت ذنوبہ“ و اطلاق المصنف تبعاً للدرر والکنز والوقایۃ والنقایۃ والمجمع والملتقی وغیرھا یفید جوازھا مطلقاً ولو بعد العصر، وقولھم إنہ بدعۃ: أی: مباحۃ حسنۃ کما أفادہ النووی فی أذکارہ و غیرہ فی غیرہ، و علیہ یحمل ما نقلہ عنہ شارح المجمع من أنھا بعد الفجر و العصر لیس بشیئ توفیقاً ‘‘۔ یعنی مصافحہ جائز ہے، اس لیے کہ یہ قدیم متواتر سنت ہے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو حرکت دی، اس کے گناہ جھڑ جائیں گے“ اور درر، کنز، وقایہ، نقایہ، مجمع، ملتقی وغیرہا کے اتباع میں مصنف نے بھی یہاں مصافحہ کا ذکر مطلق رکھا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصافحہ کرنا مطلقاً جائز ہے، خواہ بعد نماز عصر ہی کیوں نہ ہو، اور وہ جو بعض نے فرمایا ہے کہ یہ بدعت ہے، اس سے مراد بدعت حسنہ ہے، جیسا کہ علامہ نووی نے اپنی اذکار کے اندر اور آپ کے غیر نے اس کے علاوہ دوسری کتب میں ذکر کیا ہے۔ اور مجمع کے شارح نے جو نقل کیا ہے کہ فجر اور عصر کے بعد مصافحہ نہیں ہے، اس کو بھی اسی پر محمول کیا جائے گا۔

”لقولہ علیہ الصلوٰۃ و السلام“کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’کذا فی الھدایۃ و فی شرحھا للغینی، قال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ”إن المؤمن إذا لقی المؤمن فسلم علیہ وأخذ بیدہ فصافحہ تناثرت خطایاھما کما یتناثر ورق الشجر“ رواہ الطبرانی والبیھقی۔ قولہ: (کما أفادہ النووی فی أذکارہ) حیث قال: ”اعلم أن المصافحۃ مستحبۃ عند کل لقاء، و أما ما اعتادہ الناس من المصافحۃ بعد صلاۃ الصبح والعصر فلا أصل لہ فی الشرع علی ھٰذا الوجہ، ولٰکن لا بأس بہ، فإن أصل المصافحۃ سنۃ۔۔۔۔“ قال الشیخ ابو الحسن البکری وتقییدہ بما بعد الصبح والعصر علی عادۃ کانت فی زمنہ والا فعقب الصلوات کلھا کذلک، کذا فی رسالۃ الشرنبلالی فی المصافحۃ، ونقل مثلہ عن الشمس الحانوتی، وأنہ أفتی بہ مستدلاً بعموم النصوص الواردۃ فی مشروعیتھا وھو الموافق لما ذکرہ الشارح من إطلاق المتون۔‘‘

یعنی: اسی طرح ہدایہ اور اس کی شرح غینی میں ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب دوسرے مومن سے ملاقات کرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے اور اس کے ہاتھ کو پکڑتا ہے پھر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو ان دونوں کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں“ اس کو طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مصنف کا قول (جیسا کہ علامہ نووی نے اپنی اذکار کے اندر ذکر کیا ہے)، انہوں نے فرمایا: ”جان لے کہ مصافحہ ہر ملاقات کے وقت مستحب ہے، اور یہ جو لوگوں میں صبح اور عصر کی نماز کے بعد رائج ہے، اس کی اس طور پر کوئی اصل نہیں ہے، لیکن اس مصافحہ میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اصل مصافحہ سنت ہے۔۔۔۔“ شیخ ابو الحسن البکری فرماتے ہیں: امام نووی نے بعد فجر و عصر کی قید کے ساتھ مصافحہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ان کے زمانے میں یہی رائج تھا، ورنہ بعدِ فجر و عصر کی طرح تمام نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے، اسی طرح رسالہ شرنبلالی میں مصافحہ کے باب میں ہے، اور اس کی مثل علامہ شمس الحانوتی سے نقل کیا گیا ہے، اور انہوں نے بھی یہی فتوی دیا ہے، مصافحہ کی مشروعیت میں جو نصوص وارد ہوئی ہیں، ان سے استدلال کرتے ہوئے اس کا جواز بیان كيا ہے، یہی موافق ہے اس کے جو کہ شارح نے متون کے اطلاق سے بیان کیا ہے۔ (الدر المختار مع الرد المحتار، جلد 9، ص 628، مطبوعہ پشاور)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: ’’کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ عقب الصلوات کلھا وعند کل لقی‘‘ ترجمہ: اس طرح مصافحہ بھی مطلوب ہے، بلکہ یہ تو تمام نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 530، مطبوعہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ”صحیح یہ ہے کہ مصافحہ بعد نماز مباح ہے، نص علی تصحیحہ العلامۃ الخفاجی فی نسیم الریاض۔‘‘  (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 640، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: ”مصافحہ سنت ہے اور اس کا ثبوت تواتر سے ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے، ایک حدیث میں یہ ہے کہ: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو حرکت دی اس کے تمام گناہ گرجائیں گے“۔ جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ مطلقاً مصافحہ کا جواز یہ بتاتا ہے کہ نماز فجر و عصر کے بعد جو اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے اور بعض کتابوں میں جو اس کو بدعت کہا گیا ہے اس سے مراد بدعتِ حسنہ ہے۔ جس طرح فجر و عصر کے بعد مصافحہ کرنا جائز ہے، دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے، کیونکہ اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو کسی وقت بھی کیا جائے، جائز ہی ہے، جب تک شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو“۔ (بھار شریعت ج 3، ح 16، ص 470، 471، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ہر بدعت گمراہی نہیں ہوتی، سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حدیث پاک، ”کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار“ کے تحت فرماتے ہیں: ”جو بدعت کہ اصول اور قواعد سنت کے موافق اور اس کے مطابق قیاس کی ہوئی ہے (یعنی شریعت و سنت سے نہیں ٹکراتی) اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہے، وہ بدعت گمراہی کہلاتی ہے“۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص 125، مطبوعہ ملتان)

نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو مسلمان جائز و مستحسن و اچھا سمجھتے ہیں اور مسلمان جس کو اچھا سمجھتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے، مشکوۃ شریف کی ایک حدیث پاک میں مروی ہے: ”عن ابن مسعود ما رأہ المؤمنون حسنا فھو عند اللہ حسن و فی حدیث مرفوع ولا تجتمع أمتی علی الضلالۃ“۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے اور حدیث مرفوع میں ہے کہ میری امت گمراہی پر متفق نہ ہوگی۔ (مشکوۃ شریف، ص 33، مطبوعہ کراچی)

اس حدیث پاک سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جس کو ثوا ب کا کام جانیں، وہ عند اللہ بھی کار ثواب ہے۔ نیز حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت مقرر فرما کر فرمایا: ”نعمت البدعۃ ھذہ“۔یہ تو بہت ہی اچھی بدعت ہے۔ (مشکوۃ شریف، ص 115، مطبوعہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7400
تاریخ اجراء: 19 رجب المرجب 1445ھ / 31 جنوری 2024ء